پاکستان کا ہیرو

پاکستان کا ہیرو
فرخ وڑائچ
سال 2025شہباز شریف کے لیے شاندار سال تھا، پی ڈی ایم حکومت ان کا امتحان تھا، ملک ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہا تھا، وزیراعظم کے طور ملک کو ڈیفالٹ سے تو بچا لیا مگر اس کی بھاری قیمت اپنی شہرت گنوا کر چکانا پڑی۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو صبح سویرے سے رات گئے صرف پنجاب کے عوام کا سوچتے تھے۔ ان کی وزارت اعلیٰ کا دور اتنا مثالی تھا کہ کراچی ہو یا پشاور، کوئٹہ ہر صوبے کا رہنے والا یہی چاہتا تھا کہ کاش شہباز شریف ان کے صوبے کا حکمران ہوتا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عوام کی دعائوں سے وہ تمام صوبوں کے حکمران، یعنی وزیراعظم بن گئے، مگر یہاں سے ان کا سخت امتحان شروع ہوگیا، جن حالات میں ملک تھا اسے بچانے نکلے تو اپنی سیاست دائو پر لگ گئی۔
فروری 2024 ء کے عام انتخابات سے قبل وہ بطور وزیراعظم اپنا دور ختم کر کے گھر جارہے تھے، میری ان سے ملاقات طے ہوگئی۔ میں نے سوال پوچھا ’’ بطور وزیراعظم کون سا کام ایسا کیا جس پر فخر کر سکتے ہیں‘‘۔
وہ کچھ لمحے کے لیے رکے پھر بولے ’’ اگر قیامت کے دن سوال ہوا کہ تمہیں موقع ملا اپنے عوام کے لیے کیا، کیا، تو جواب ہوگا اپنے پیارے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا‘‘۔
قدرت نے شہباز شریف کو دوبارہ موقع دیا تو لوگوں نے مذاق اڑایا یہ 17کلومیٹر کا وزیراعظم ہے، تین صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، وزیراعظم بااختیار نہیں، یہ زیادہ دیر نہیں چلیں گے وغیرہ وغیرہ، لیکن پھر کیا ہوا، گزرے سال میں بحران آیا، یعنی مئی کے مہینے میں دشمن حملہ آور ہوگیا۔ اب کہنے والے کہنے لگے ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، فوج کیسے مقابلہ کرے گی، وزیراعظم کیا کریں گے۔ اس کے بعد کا منظر نامہ آپ کے سامنے ہے۔
شہباز شریف اب قومی نہیں، بین الاقوامی لیڈر بن چکے ہیں۔ آرمی چیف کی شہرت دنیا بھر میں پھیل چکی ہے، جس ملک کا رخ کرتے ہیں، ریڈ کارپٹ بچھ جاتے ہیں، فضاء میں طیارے استقبال کے لیے موجود ہوتے ہیں، دنیا کی سپرپاور امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کسی کو تسلیم نہیں کرتا وہ پاکستان کے گیت گاتا ہے۔ پوری دنیا کے طاقتور حکمران جمع ہیں، مگر امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کی نظروں میں صرف شہباز شریف ہے، وہ ان کو موقع دیتا ہے، ان لمحات میں وہ بات کرتے ہیں پوری دنیا شہباز شریف کو نہیں پاکستان کو توجہ سے سنتی ہے۔
اسی سال مجھے یورپ کے کئی ممالک اور کینیڈا جانے کا موقع ملا، درجنوں فلائٹس لیں، جہاں بھی تعارف ہوا کہا گیا اچھا وہ پاکستان جس نے بھارت کو شکست دی۔ سچ پوچھیے اس سے پہلے پاکستان کا یہ تعارف نہیں تھا۔ یہ مجھ سے نہیں کسی سے بھی پوچھ لیں، پاکستانی اب سر اٹھا کر چل سکتے ہیں۔ مخالفت کرنے والے ہمیشہ مخالفت ہی کریں گے، مگر آج کا سچ یہی ہے۔
اس گزرے سال میں شہباز شریف پاکستان کا ہیرو ہے، کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ آپ کسی شخص سے لڑ سکتے ہیں مگر کسی کے نصیب سے نہیں لڑ سکتے۔ قدرت کو اس کی کیا ادا پسند آئی، پنجاب کا اپوزیشن لیڈر، پھر 3بار وزیر اعلیٰ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پھر دو مرتبہ وزیراعظم بنا، وہ بھی ایسا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے۔۔۔





