مضبوط پاکستان کا خواب

مضبوط پاکستان کا خواب
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے بلوچستان پر 18ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے ملاقات دراصل پاکستان کے اس دیرینہ عزم کی عکاسی ہے کہ بلوچستان صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، ترقی اور استحکام کا ستون ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیان بروقت اور معنی خیز ہے۔ منفی پروپیگنڈے کے خلاف سول سوسائٹی کا فعال کردار قومی ضرورت بن چکا ہے۔ ذاتی اور مفاداتی سیاسی ایجنڈوں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہی استحکام، یکجہتی اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ ان کا خطاب نہ صرف موجودہ چیلنجز کی نشان دہی کرتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح سمت بھی متعین کرتا ہے۔ بلوچستان جغرافیائی، تزویراتی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ معدنی وسائل، ساحلی پٹی، سی پیک جیسے میگا منصوبے اور علاقائی رابطہ کاری کے تناظر میں یہ صوبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے بلوچستان دہائیوں سے محرومی، بدامنی، ترقیاتی خلا اور منفی پروپیگنڈے اور دشمن کی سازشوں کا شکار رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے عوام کی ثابت قدمی اور حب الوطنی کو سراہ کر ایک اہم پیغام دیا کہ ریاست بلوچستان کو مسئلہ نہیں بلکہ حل کا حصہ سمجھتی ہے۔ یہ اعتراف نہایت ضروری تھا کیونکہ قومی یکجہتی کا فروغ اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو سنا جائے، ان کے مسائل کو تسلیم کیا جائے اور ان کی شراکت کو یقینی بنایا جائے۔ فیلڈ مارشل نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری سماجی و معاشی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ترقی صرف انفرا اسٹرکچر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی فلاح پر مبنی پالیسیوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ بلوچستان میں پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب وہاں کے عوام خود کو ترقی کے ثمرات میں شریک محسوس کریں۔ اس خطاب کا ایک نہایت اہم پہلو منفی پروپیگنڈے کے خلاف سول سوسائٹی کے کردار پر زور دینا تھا۔ آج کا دور ہائبرڈ وارفیئر کا ہے، جہاں بندوق سے زیادہ بیانیہ موثر ہتھیار بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا، جعلی خبریں اور مسخ شدہ حقائق عوامی رائے کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ایسے میں سول سوسائٹی، میڈیا، اساتذہ اور رائے سازوں کی ذمے داری دوچند ہوجاتی ہے کہ وہ سچ، دلیل اور قومی مفاد پر مبنی بیانیے کو فروغ دیں۔ فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ ذاتی اور مفاداتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر ہے، دراصل ایک قومی خود احتسابی کی دعوت ہے۔ جب ذاتی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو ریاست کمزور اور دشمن مضبوط ہوتا ہے۔ بلوچستان کے تناظر میں یہ بات اور بھی اہم ہے کیونکہ یہاں چھوٹے شکوک بھی بڑے بحران میں بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے حمایت یافتہ پراکسی عناصر کی نشان دہی کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچستان میں تشدد اور بدامنی کو ہوا دینے کے پیچھے بیرونی ہاتھ موجود ہیں۔ یہ کوئی نیا الزام نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً ناقابل تردید شواہد اس حقیقت کو آشکار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات اب روایتی جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ پراکسیز، دہشت گردی اور بیانیاتی حملوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ فیلڈ مارشل کا یہ عزم کہ ایسے مذموم عزائم کو سیکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں سے ناکام بنایا جائے گا، ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محض سیکیورٹی آپریشنز سے دیرپا امن ممکن نہیں۔ اس کے لیے ترقی، انصاف، شمولیت اور اعتماد سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ یہ پیغام نہ صرف دشمن عناصر کے لیے ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک واضح اعلان ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔چیف آف ڈیفنس فورسز کا شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی نہایت اہم ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب عوام خود کو محفوظ، بااختیار اور باعزت محسوس کریں۔ اجلاس کے اختتام پر سوال و جواب کے سیشن کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ ادارے مکالمے، شفافیت اور شراکت داری پر یقین رکھتے ہیں۔ بلوچستان جیسے حساس اور اہم صوبے کے لیے یہ طرزِ عمل خوش آئند ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلوچستان کا مستقبل صرف سیکیورٹی پالیسی سے نہیں بلکہ قومی یکجہتی، دیانت دار قیادت، موثر حکمرانی اور عوامی شمولیت سے جڑا ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب اسی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عملی اقدامات کی صورت میں بلوچستان کے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے۔ کیونکہ ایک مضبوط، خوشحال اور پُرامن بلوچستان ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
شذرہ۔۔۔
پٹرولیم مصنوعات سستی
حکومت کی جانب سے نئے سال کے موقع پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی بلاشبہ عوام کے لیے ایک خوش آئند ریلیف ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 10روپے 28پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 8روپے 57پیسے فی لٹر کمی نے نہ صرف صارفین کو فوری سہولت دی ہے بلکہ حکومت کے معاشی نظم و نسق پر بھی ایک مثبت تاثر قائم کیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2026ء سے پندرہ روز کے لیے ہوگا۔ پٹرول کی نئی قیمت 253روپے 17پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 257روپے 8پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس کمی سے براہ راست فائدہ ٹرانسپورٹ سیکٹر، صنعت، زراعت اور عام صارفین کو پہنچے گا۔ ایندھن کی قیمتیں کسی بھی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی صورت میں اشیائے خورونوش سے لے کر روزمرہ استعمال کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ اس تناظر میں قیمتوں میں کمی مہنگائی کے دبا کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کا فائدہ صارف تک منتقل ہو اور منافع خور عناصر اس ریلیف کو ہڑپ نہ کر جائیں۔ تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا یہ کمی دیرپا ثابت ہوگی یا محض پندرہ روزہ ریلیف تک محدود رہے گی۔ عوام کی توقع یہی ہے کہ حکومت ایندھن کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرے تاکہ کاروباری طبقہ اور صارفین مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔ بار بار قیمتوں میں ردوبدل بے یقینی کی فضا کو جنم دیتا ہے جو معاشی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے اثرات پاکستان جیسی معیشت رکھنے والے ملک پر لازمی پڑتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت قیمتوں کی تعین میں شفافیت، پیش بینی اور عوامی مفاد کو ترجیح دے۔ ٹیکس ڈھانچے پر نظرثانی، غیر ضروری لیویز میں کمی اور توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف توجہ ہی مستقل حل کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نئے سال پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ایک مثبت آغاز ہے، مگر عوام کو حقیقی ریلیف تب ہی ملے گا جب یہ فیصلے مستقل، منصفانہ اور جامع معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں۔ حکومت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اعتماد کو مضبوط کرے اور مہنگائی کے خلاف موثر اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات میں حقیقی کمی لائے۔







