نئے سال کے ارادے

نئے سال کے ارادے
حافظ محمد قاسم مغیرہ
وقت ریت کے ذرات کی مانند ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ یہ سبک خرام ہے۔ اس کی رفتار پہ کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اسے قید نہیں کیا جاسکتا، روکا نہیں جاسکتا۔ اسے تو بس گزر جانا ہے۔ پلک جھپکتے ہی ہر لمحہ ماضی میں دفن ہوتا جارہا ہے۔ یہ انسان پر منحصر ہے کہ وقت کے قدم سے قدم ملا کے چلتا ہے یا احساس زیاں ہونے پر اس کے پیچھے بھاگ کر ہانپتا ہے۔ گزرے وقت کو واپس نہیں لایا جاسکتا لیکن بہتر منصوبہ بندی سے آنے والے وقت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انسان کو لمحہ موجود میں ہی رہنا چاہیے کیوں کہ ماضی کو بدلنا انسان کے اختیار میں نہیں اور مستقل کے اندیشوں میں گھلتے رہنا نادانی ہے۔ اندیشے پالنے سے بہتر ہے کہ اچھی منصوبہ بندی کی جائے۔ دانش مندی کا تقاضا ہے کہ دست یاب وقت کو اپنی شخصیت کی بہتر تعمیر، مقاصد کے حصول اور ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے بہتر سے بہتر انداز میں گزارا جائے۔ وقت کی رفتار بہت تیز ہے۔ یہ پر لگا کر اٹھاتا ہے۔ رفتار زمانہ سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمہ وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے وگرنہ وقت دو گھڑی رکنے کا عادی نہیں ہے اور روند کر آگے گزر جاتا ہے۔
انسان خطا کا پتلا ہے ۔ بہ تقاضائے بشریت انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن ان غلطیوں پر نادم ہونے میں ہی بشر کی افضلیت ہے۔ جو شخص اپنی غلطیوں ، خامیوں اور کجیوں سے واقف ہے، اصلاح احوال پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ ایک شخص سے جو اپنی خامیاں تسلیم نہیں کرتا ، اصلاح کی توقع عبث ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’ لوگوں میں سے کامل ترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ اپنی خامیوں سے واقف ہے‘‘۔
نئے سال کی آمد پر ہر شخص کو اپنے مزاج کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے, خود کو ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سوال کرنا چاہیے کہ کہاں کہاں بہتری کی گنجائش ہے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ آئندہ برس ان غلطیوں کی تکرار سے بچتے ہوئے گزارنا ہے۔ خود احتسابی سے ہی بہتر شخصیت کی تکمیل ممکن ہے۔
نئے سال کے آغاز پر وقت کی قدر کا عزم کرنا چاہیے۔ کسی مقصد کے حصول کے لیے روانہ تھوڑی تھوڑی محنت اور اس پر تسلسل سے جم جانا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے زندگی میں نظم و ضبط لانے کی ضرورت ہے ورنہ انسان بے پتوار کی نائو کی طرح بے سمت رہتا ہے اور حالات کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
معاشی منصوبہ بندی بھی نئے سال کے عزائم میں شامل ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں بھی گزشتہ برس کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ رقم پس انداز کرنے کی عادت پختہ کرنی چاہیے۔
انسان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہر چیز پر رد عمل دینا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ عادت وقت اور توانائی۔ دونوں کے ضیاع کا باعث ہے۔ اس لیے غیر ضروری چیزوں میں الجھنے سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ راہ کے پتھروں سے الجھنے کے بجائے انہیں روند کر گزر جانا چاہیے۔
چھوٹی چھوٹی عادتوں پر سختی سے کار بند ہو جانا چاہیے۔ یہی وہ عمل ہے جس سے ہر روز غیر محسوس طریقے سے انسان کام یابی کے زینے طے کرتا ہے۔ اپنی محنت کا فوری صلہ نہ ملنے کی صورت میں جدوجہد ترک کرکے منزل کھوٹی نہیں کرنی چاہیے بل کہ یقین رکھنا چاہیے کہ ہر روز آہستگی سے منزل کی طرف ایک قدم بڑھ رہا ہے۔ کوشش کرنے والے ہر شخص کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ترقی فوری نظر نہیں آتی۔ اس کی مثال زمیں میں بوئے گئے اس بیج کی مانند ہے جو بہ ظاہر نظر نہیں آتا لیکن تہہ خاک خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہے۔ انسانی کوششوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اس لیے کام یابی کے آثار نمایاں نہ ہونے کی صورت میں بھی شکستہ دل نہیں ہونا چاہیے۔
ایسی تمام چیزوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جو انسان کی توجہ اس کی منزل سے ہٹاتی ہیں۔ اگر انسان اپنے آدرشوں کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھے اور انہیں اوڑھنا بچھونا بجائے تو نگاہ نہیں بھٹکتی۔
ایسے ماحول میں رہنے کی ضرورت ہے کہ جہاں انسان خود کو توانا محسوس کرے۔ ایسے لوگوں میں رہنا چاہیے جو انسان کی ذہنی صحت کی بہتری میں مددگار ثابت ہوں۔ ایسے لوگوں کا ساتھ انسانی کی جذباتی اور نفسیاتی نمو کے لیے از حد ضروری ہے۔
نئے سال کے ارادوں میں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ کسی شے کا ضرورت سے زیادہ دبائو ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور انسان کے ارتکاز کا دشمن ہے۔ اس لیے خیال رہے کہ محنت اور احساس ذمہ داری کبھی بھی دبائو اور ذہنی عارضے کا شکل اختیار نہ کریں۔
انسان کو یہ سیکھنا چاہیے کہ جلد بازی میں کیے گئے اکثر فیصلے ضرر رساں ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے انسان کو اپنی قوت فیصلہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ سوچ بچار عموماً درست فیصلے تک پہنچاتی ہے اس لیے لازم ہے کہ فیصلے کرتے وقت غیر جذباتی اور عقلی رویہ اپنایا جائے۔
اپنی روز مرہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک ڈائری مختص جائے جس پر روزانہ سر انجام دئیے گئے امور کا مختصراً ذکر کیا جائے۔ ایک چیک لسٹ کی مدد سے اپنے اہداف کی تکمیل یا عدم تکمیل کا حساب رکھا جائے۔ عدم تکمیل کی صورت میں اس کے زمہ دار عوامل کا جائزہ لیا جائے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ نئے سال کی آمد پر نئے اہداف کے تعین اور ان کے حصول کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کرکے شخصیت میں مثبت تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں اور کام یابی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں۔ وقت کی اڑان بہت تیز ہے۔ اس لیے لاپروائی سے گریز بہت ضروری ہے
گوتم بدھ کا قول ہے کہ ’’ مسئلہ یہ ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ تمہارے پاس بہت وقت ہے‘‘۔





