Column

نیا سال، نئی سوچ، نئی منزل

نیا سال، نئی سوچ، نئی منزل
کالم نگار :امجد آفتاب
مستقل عنوان:عام آدمی
نئے سال کی پہلی صبح ایک عجیب سی خاموشی کے ساتھ طلوع ہوتی ہے۔ سڑکوں پر معمول کی چہل پہل کم ہوتی ہے، مگر دلوں میں ایک ہلکی سی سرسراہٹ ضرور ہوتی ہے جیسے وقت خود انسان سے کہہ رہا ہو کہ جو بیت گیا، اسے یاد رکھو، مگر جو آنے والا ہے، اس پر یقین رکھو۔ اسی یقین کے ساتھ ہم آج ایک نئے سال کا استقبال کر رہے ہیں۔
ویلکم ٹو 2026ء ۔
گزرا ہوا سال آسان نہیں تھا۔ عام آدمی مہنگائی، فکروں اور روزمرہ کی جدوجہد کا شکار رہا۔ نوجوان ہاتھ میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں در در بھٹکے، اور قوم مجموعی طور پر بے یقینی، تقسیم اور اعتماد کے بحران سے دوچار رہی۔ کئی خواب ادھورے رہ گئے، کئی امیدیں تھک کر بیٹھ گئیں۔ مگر اس سب کے باوجود ایک حقیقت قائم رہی ہم نے ہار نہیں مانی۔ ہم گرے ضرور، مگر اٹھنے کا ہنر سیکھ لیا۔
2026 ء اسی سیکھے ہوئے حوصلے کا تسلسل ہے۔ یہ سال ماضی کے بوجھ تلے دبنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ یہ ہمیں یہ موقع دینے آیا ہے کہ ہم اپنی کہانی کو نئے زاویے سے لکھیں۔ کیونکہ نیا سال خود کوئی معجزہ نہیں کرتا، معجزہ انسان کے رویّے اور ارادے سے جنم لیتا ہے۔
ذرا ایک منظر تصور کیجیی۔
ایک نوجوان، ہاتھ میں فائل اور آنکھوں میں سوال لیے، صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے۔ شاید پچھلے سال اسے کئی بار انکار کا سامنا کرنا پڑا ہو، مگر آج وہ پھر نکلا ہے، کیونکہ اس نے امید کا دروازہ بند نہیں ہونے دیا۔ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی چھوٹا ہنر سیکھ رہا ہے، تاکہ مستقبل کے لیے خود کو تیار کر سکے۔
ایک مزدور، جس کے چہرے پر وقت کی لکیریں صاف نظر آتی ہیں، نئے سال کی صبح بھی محنت کے لیے نکلتا ہے، کیونکہ اس کے لیے ہمت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔ وہ ہر روز چھوٹے قدم اٹھا کر اپنے خاندان کے لیے بہتر حالات بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک ماں، جو محدود وسائل میں بچوں کے لیے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتی ہے، دعا کے ساتھ ساتھ جدوجہد بھی جاری رکھتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے بچے تعلیم حاصل کریں اور زندگی میں اپنی منزل خود منتخب کریں۔
یہی لوگ دراصل 2026ء کا اصل چہرہ ہیں وہ جو حالات کے دبائو میں بھی ہمت نہیں ہارتے، امید کا دامن تھامے رکھتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو اپنا حوصلہ بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
نوجوانو! یہ سال سب سے زیادہ تم سے بات کرتا ہے۔ تم وہ نسل ہو جو حالات کا رونا بھی رو سکتی ہے اور حالات کو بدل بھی سکتی ہے۔ 2025ء نے شاید تمہیں مایوس کیا ہو، مگر 2026ء تمہیں یاد دلاتا ہے کہ کامیابی ایک دن میں نہیں ملتی۔ یہ مسلسل سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور مواقع کو پہچاننے کا نام ہے۔ ہنر سیکھو، خود پر یقین رکھو، اور یہ مت سوچو کہ تم اکیلے ہو ہر بڑا سفر اکیلے قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اس سال خود سے یہ وعدہ کرو کہ تم ہر ناکامی کو ایک سبق سمجھو گے، ہر رکاوٹ کو ایک موقع، اور ہر مشکل دن کو اپنے حوصلے کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنا گے۔
عام آدمی کے لیے بھی 2026ء ایک نیا حوصلہ لے کر آیا ہے۔ یہ سال اسے یقین دلاتا ہے کہ ایمانداری، محنت اور صبر کبھی ضائع نہیں جاتے۔ اگر حالات نے تنگ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ راستہ بند ہو گیا ہے۔ اکثر راستے مشکل کے بعد ہی کھلتے ہیں۔ شکر اور کوشش کا امتزاج ہی وہ طاقت ہے جو عام آدمی کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ اس سال ہر فرد چھوٹے چھوٹے مثبت اقدام کرے: گھر میں بجلی اور پانی کی بچت، پڑوسیوں کی مدد، یا اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ یہ سب اجتماعی ترقی کی بنیاد ہیں۔
اور اگر ہم قوم کی بات کریں تو 2026ء ہمارے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتا ہے۔ یہ ہم سے پوچھتا ہے کہ کیا ہم صرف الزام تراشی پر ہی اکتفا کریں گے؟ یا ہم اپنی اجتماعی ذمے داری کو بھی تسلیم کریں گے؟ قومیں صرف حکومتوں سے نہیں بنتیں، وہ عوام کے رویّوں سے بنتی ہیں۔ قانون کی پاسداری، برداشت، دیانت اور مکالمہ یہ وہ ستون ہیں جن پر مضبوط معاشرے کھڑے ہوتے ہیں۔ 2026ء ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہر شہری کا حصہ اہم ہے چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا کاروباری شخص، طالب علم ہو یا گھر کا فرد، اگر ہر کوئی اپنی ذمے داری ادا کرے تو معاشرہ خود بخود بہتر بن جائے گا۔
2026 ء ہمیں یہ سکھانے آیا ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں، اور تنقید نفرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم ایک دوسرے کو سننا سیکھ لیں تو آدھے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ نفرت وقتی جذبات کو تسکین دیتی ہے، مگر تعمیر صرف مثبت سوچ سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ ہر چھوٹا عمل کسی کی مدد کرنا، تعلیم میں حصہ ڈالنا، یا سماجی مسئلے پر آواز اٹھانا آگے بڑھنے کا حصہ ہے۔
یہ سال ہمیں شکایت سے شکر کی طرف بھی بلاتا ہے۔ جو قومیں ہر حال میں صرف شکوہ کرتی رہیں، وہ آگے نہیں بڑھتیں۔ اور جو قومیں مشکل میں بھی امید کا دامن تھام لیں، وہ تاریخ بدل دیتی ہیں۔ 2026ء اسی امید کا نام ہے بشرطیکہ ہم اسے عمل سے جوڑیں۔
آئیے! اس نئے سال میں ہم سب ایک اجتماعی عہد کریں۔
نوجوان یہ عہد کریں کہ وہ ہار ماننے کے بجائے خود کو تیار کریں گے، نئی مہارتیں سیکھیں گے، اور اپنے خوابوں کے لیے مستقل جدوجہد کریں گے۔
عام آدمی یہ عہد کرے کہ وہ ایمانداری اور محنت کا راستہ نہیں چھوڑے گا، چھوٹے قدم اٹھا کر اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بہتر حالات پیدا کرے گا۔
اور قوم یہ عہد کرے کہ وہ نفرت کے بجائے اتحاد، اور مایوسی کے بجائے امید کو اپنائے گی، ہر فرد اپنی ذمے داری پوری کرے گا اور مشترکہ ترقی کی سوچ رکھے گا۔
آخر میں مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ نیا سال صرف کیلنڈر کا ورق بدلنے سے نہیں آتا، یہ سوچ اور رویّہ بدلنے سے جنم لیتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی سوچ کو مثبت، اپنے عمل کو مضبوط اور اپنے ارادوں کو صاف کر لیا تو 2026ء محض ایک سال نہیں رہے گا بلکہ ایک نئے سفر کی شروعات بن جائے گا۔
2026 ء ہم سے وعدے نہیں مانگتا، یہ ہم سے یقین مانگتا ہے یقین اس بات کا کہ ہم حالات کا رونا رونے والی نہیں، بلکہ حالات کو بدلنے والی قوم ہیں۔

جواب دیں

Back to top button