ColumnImtiaz Aasi

جیل میں رہتے ہوئے خوف کیسا؟

جیل میں رہتے ہوئے خوف کیسا؟
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ہماری سیاسی تاریخ کا یہ بھی منفرد باب ہے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی کا پس زندان رہتے ہوئے بھی حکمرانوں کو خوف ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کو یہ کریڈٹ دینا پڑتا ہے اس نے ملک و قوم کو لوٹنے والے سیاست دانوں کا پردہ چاک کیا، جیل میں ہوتے ہوئے بھی مخالفین اس سے خائف ہیں۔ عام طور پر کوئی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا جائے تو اس کے مخالفین کو سکون آجاتا ہے ان کا دشمن جیل چلا گیا ہے، لیکن حکومت وقت کے اعصاب پر عمران خان سوار ہے، حالانکہ اسے جیل میں دو سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا یہ المناک باب ہے قیدی سے اس کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ پاکستانی قوم کے ایک پسندیدہ لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا سنائے جانے کے باوجود بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر راولپنڈی کی قدیم ڈسٹرکٹ جیل میں ان سے ملاقاتیں کرتی تھیں۔ عجیب تماشہ ہے بانی پی ٹی آئی کو موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے لئے مخصوص سیلوں میں رکھنے کے باوجود سکون نہیں آرہا ہے، حالانکہ اصولی طور پر اسے بی کلاس کے لئے جیل میں مختص جگہ پر رکھنا چاہیے تھا۔ آخر انتقام کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں حکمران شائد اس چیز کو بھول گئے ہیں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، اب کی بار کسی نے ملک سے باہر بھی نہیں جانے دینا ہے۔ جب سے اقتدار میں آئے ہیں معیشت کی بہتری کے بدستور دعویٰ کئے جا رہے ہیں۔ جی بالکل معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، اسی لئے قومی ایئر لائنز کو فروخت کرنا پڑا ہے اور اب ہوائی اڈوں کو بھی کنٹریکٹ پر دینے کی نوید سنا دی گئی ہے۔ آخر معیشت بہتری کی طرف تو جارہی ہے، فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آئین کا حلیہ بگاڑنے اور عدلیہ کی بے توقیری کے باوجود خوف کھائے جا رہا ہے کہیں جیل سے باہر نہ آجائے۔ خوف کا یہ عالم ہے نئے انتخابات اور سیاسی قیدیوں کی رہائی پر بات نہیں ہوگی تو پھر کس پر بات ہو گی، یہی تو خوف کی بڑی علامت ہے۔ کب تک ہمارا ملک اسی طرح چلتا رہے گا ؟ وفاق اور پنجاب میں ایک ہی خاندان مسلط ہے، پنجاب میں تو ایک انوکھا کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے۔ تعجب ہے آئینی مقدمات کی سماعت کے لئے عدالت کا قیام عمل میں لایا جا سکتا تھا تو کیا قبضہ مافیا سے جائیدادوں کو واگزار کرنے کے لئے علیحدہ سول جج نہیں رکھے جا سکتے تھے، جنہیں ایک ٹائم فریم دے کر قبضہ مافیا کے خلاف فیصلے نہیں کرائے جا سکتے تھے کہ عدلیہ کے متوازی نظام قائم کرکے خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے قائد کے خلاف مقدمات کا فیصلہ دنوں میں ہوسکتا تھا تو بانی پی ٹی آئی کی سزائوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت میں تاخیر اس امر کی غماز ہے صاحب اقتدار کو بس خوف مارے جا رہا ہے۔ حیرت اس پر ہے پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ضائع کرنے کے باوجود عوام اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نگران دور سے اب تک حکمرانوں نے کامیابیوں کے جو پہاڑ سر کئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ ایک مہنگائی کا تحفہ دیا ہے، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ہنسی اس بات پر آرہی ہے کہتے تھے اپنے کپڑے بیچ کر لوگوں کو سستا آٹا فراہم کریں گے، وہ کپڑے تو نہ بک سکے، البتہ عوام رل گئے ہیں۔ اب ذرا بانی پی ٹی آئی کی جیل میں ملنے والی سہولتوں کی طرف آتے ہیں۔ موت کی سزا پانے والوں کے سیلوں کے اندر ہی واش روم ہوتے ہیں قیدی کیل سے چادر لٹکا کر پردے کا انتظام کر لیتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے سزائے موت کے سیلوں میں ایک سے زیادہ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ گو سینٹرل جیل اڈیالہ میں پہلے والی صورت حال نہیں رہی ہے، ورنہ ایک ایک سیل میں کم از کم آٹھ قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ یہ تو بھلا ہو سابق چیف جسٹس جناب آصف سعید خان کھوسہ کا جنہوں کی شبانہ روز کاوشوں سے سزائے موت کی اپیلوں کے فیصلے چند ماہ میں ہو گئے، ورنہ تو کم از کم سپریم کورٹ میں چھ، سات سال تک اپیلوں کے فیصلے نہیں ہو پاتے تھے۔ بانی کو بی کلاس کے لئے مختص جگہ پر رکھا جاتا تو بیڈ روم کے ساتھ اٹیچ باتھ میں الیکٹرک گیز نصب ہیں۔ سزائے موت کے سیلوں میں پانی گرم کرنے کے بجلی کے ہیٹر پر کسی لوہے کے ٹین میں کیا جاتا ہوگا۔ جہاں تک قید تنہائی کی بات ہے سیلوں میں قیدی ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر ہی لیتے ہیں۔ ہیڈ وارڈر نے بھی آخر گزارہ کرنا ہوتا ہے، لیکن بانی کے ساتھ والے سیلوں میں کوئی قیدی نہیں رکھا گیا ہے۔ لیڈر کبھی ملک چھوڑ کر نہیں جاتے، عوام میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، ورنہ بانی پی ٹی آئی عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کا خواہش مند ہوتا تو چند گھنٹے میں ہیلی کاپٹر جیل کے باہر آجاتا اور اسے ہوائی اڈے پہنچا دیتا۔ ہاں البتہ ہم بانی کی طاقتور حلقوں کے ساتھ محاذ آرائی کے حق نہیں بالکل نہیں ہیں، جبکہ فریق ثانی کو بھی سیاست سے کچھ فاصلے پر رہنا چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی ضروری ہے بانی نے دنیا کے حکمرانوں کو یہ بات باآور کرا دی ہے قید و بند کسی کو نظرئیے سے ہٹا نہیں سکتی۔ کوئی مانے نہ مانے عوام تبدیلی کے منتظر ہیں، وہ کب اور کیسے آتی ہے، کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن ایک بات ضرور ہے، تبدیلی ایک دن ضرور آئے گی۔ جس ملک کے عوام حکمرانوں سے تنگ آجائیں، وہاں تبدیلی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ یہی تاریخ کا سبق ہے۔ پاکستان کے عوام کو بانی جیسے لیڈر کی اشد ضرورت ہے، جس کا مطمع نظر ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور عوام کی بھلائی ہے۔ ہمیں تو داد دینی پڑتی ہے ان بہنوں کو جو شب و روز بھائی کی رہائی کے لئے جدوجہد میں لگی ہیں۔ ہمارے خیال میں حکمرانوں کو بھی فراخدالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقاتوں کے سلسلے میں لگائی گئی پابندی ختم کر دینی چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button