یومُ الدین: کائناتی عدل کا نقطہِ کمال اور انسانی وجود کا اخلاقی جواز
یومُ الدین: کائناتی عدل کا نقطہِ کمال اور انسانی وجود کا اخلاقی جواز
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
کائنات کی تخلیق سے لے کر اس کے ارتقائی سفر تک، ہر ذرہ ایک اٹل اور ہمہ گیر ضابطے کا پابند نظر آتا ہے۔ سورج کا اپنے وقت پر طلوع ہونا، سمندروں کا اپنے حدود میں رہنا اور کہکشائوں کا ایک مخصوص مدار میں گردش کرنا، اس بات کی گواہی ہے کہ یہاں کوئی بھی چیز اتفاقیہ نہیں ہے۔ اس مربوط نظامِ ہستی کا سب سے اہم، منطقی اور ناگزیر موڑ وہ ہے جسے قرآنِ حکیم نے ’’ یومُ الدین‘‘ یا جزا و سزا کے دن سے تعبیر کیا ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ یا ڈراوا نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات کے ادھورے انصاف کی تکمیل اور انسانی اخلاقیات کا وہ آخری پیمانہ ہے جس کے بغیر زندگی کا پورا فلسفہ ہی منہدم ہو جاتا ہے۔
عظیم مفکرِ اسلام علامہ اقبالؒ نے انسانی عمل کی اسی ابدی حیثیت اور اس کے نتیجے کو اپنے لافانی شعر میں یوں سمویا ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
جدید سائنس، جو ایک طویل عرصے تک مادہ پرستی کے حصار میں مقید رہی، آج خود پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس مادی کائنات کا ایک اختتام منطقی طور پر لازم ہے۔ فزکس کا بنیادی قانون، جسے تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون (Second Law of Thermodynamics)کہا جاتا ہے، ہمیں ’’ اینٹروپی‘‘(Entropy)کے تصور سے آشنا کرتا ہے۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ کائنات کے اندر توانائی مسلسل ایک شکل سے دوسری شکل میں منتقل ہو رہی ہے اور اس عمل میں بے نظمی بڑھ رہی ہے۔
کائنات کی یہ ’’ تھکاوٹ‘‘ ایک ایسے مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں تمام ستارے اپنی حرارت کھو دیں گے، ایٹمی نظام بکھر جائے گا اور وقت کا پہیہ تھم جائے گا۔ سائنسی اصطلاح میں اسے ’’ہیٹ ڈیتھ‘‘ (Heat Death)یا ’’ بگ کرنچ‘‘ (Big Crunch)کہا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے چودہ سو سال قبل اسی منظر کشی کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’ جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب ستارے اپنی روشنی کھو کر بکھر جائیں گے‘‘۔
یہ سائنسی ہم آہنگی اس بات کی دلیل ہے کہ مادی دنیا کا خاتمہ ایک مابعد الطبیعیاتی واہمہ نہیں بلکہ ایک مادی حقیقت ہے۔
اقبال نے کائنات کے اسی تغیر اور فنا پذیری کو کیا خوب بیان کیا ہے
تارے ٹوٹے، ستارے ٹوٹے، بکھرے، خاک ہوئے
ہم کیا جانیں، کس کے لہو سے چمکی ہے پیشانی
انسانی فطرت کے اندر ’’ انصاف‘‘ کی تڑپ ایک ایسی عالمگیر سچائی ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ ہم اپنے روزمرہ کے مشاہدات میں دیکھتے ہیں کہ دنیا کی عدالتیں، قوانین اور ضابطے اکثر و بیشتر طاقتور کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ تاریخِ انسانی ایسے ظالموں کے قصوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے لاکھوں معصوموں کا خون بہایا، قوموں کو غلام بنایا اور پھر شاہانہ ٹھاٹ باٹ کے ساتھ طبعی موت مر گئے۔ دوسری طرف ایسے نیک اطوار اور مظلوم انسان بھی گزرے جنہوں نے حق کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کر دیں لیکن انہیں دنیا میں وہ صلہ نہ ملا جس کے وہ حقدار تھے۔
اگر ہم یہ مان لیں کہ موت ہی انسانی وجود کا آخری پڑائو ہے، تو پھر نیکی اور بدی، حق اور باطل، اور عدل و ظلم کے درمیان کوئی معنوی فرق باقی نہیں رہتا۔ فلسفیانہ نکتہِ نظر سے، قیامت کا ہونا اس لیے واجب ہے کہ کائنات کا ’’ اخلاقی توازن‘‘ برقرار رہے۔ اگر ایک ظالم اور ایک عادل، دونوں کا انجام صرف مٹی کا ڈھیر ہونا ہے، تو یہ کائنات ایک ’’ ظالمانہ مذاق‘‘ اور ایک’’ اندھیر نگری‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ قیامت دراصل اسی ادھورے انصاف کے تسلسل کو ایک ابدی نتیجے تک پہنچانے کا نام ہے۔
قرآنِ مجید نے جس شدت اور تواتر کے ساتھ قیامت کا ذکر کیا ہے، اس کا مقصد انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔ قرآن اسے ’’ یومِ فصل‘‘ کہتا ہے، یعنی وہ دن جب حق کو باطل سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا جائے گا۔
’’ پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ‘‘۔
یہاں ‘‘ ذرہ برابر‘‘ (Atom’s weight)کا تذکرہ انسانی شعور کو جھنجھوڑنے کے لیے ہے کہ کائنات کے ریکارڈ میں کوئی بھی عمل، چاہے وہ تنہائی میں کی گئی ایک نیت ہی کیوں نہ ہو، ضائع نہیں ہوتا۔ آج کی انفارمیشن تھیوری اور کوانٹم فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات میں موجود معلومات کبھی فنا نہیں ہوتی۔ ہم جو بولتے ہیں، جو سوچتے ہیں یا جو عمل کرتے ہیں، اس کے ارتعاشات کائناتی پردے پر نقش ہو جاتے ہیں۔ قیامت کے دن یہی ’’ کائناتی میموری‘‘ اللہ کے حکم سے انسانی اعمال کے گواہ کے طور پر سامنے آئے گی۔
اقبالؒ اسی غفلت کے پردے چاک کرتے ہوئے فرماتے ہیں
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
بابِ علم حضرت علیؓ کے خطبات قیامت کے حوالے سے ایک مکمل ضابطہِ اخلاق اور روحانی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آپؓ کا مشہور قول ہے: ’’ آج عمل ہے اور حساب نہیں، کل حساب ہوگا اور عمل کا موقع نہیں ہوگا‘‘۔ آپؓ نے’’ نہج البلاغہ‘‘ میں قیامت کی ہولناکیوں سے زیادہ اس کے ’’ جواز‘‘ اور ’’ مقصد‘‘ پر زور دیا ہے۔ آپؓ کے نزدیک قیامت کا خوف انسان کو دراصل ’’ سچا آزاد‘‘ بناتا ہے۔ جو شخص صرف اللہ کی عدالت کے سامنے جوابدہی کا قائل ہو جاتا ہے، وہ دنیا کے فرعونوں، جابروں اور نفس کی غلامی سے نجات پا لیتا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ موت فنا نہیں بلکہ ایک عظیم بیداری کا نام ہے۔
اسی بلند پایہ فلسفے کو اقبال نے یوں رقم کیا:
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی
یہ ’’ صبحِ دوام‘‘ دراصل اس ابدی سچائی کا ظہور ہے جہاں انسان کو اس کے کردار کا اصل آئینہ دکھایا جائے گا۔
5۔ معاشرتی نظم اور اخلاقی تربیت کا نظام
قیامت کا عقیدہ محض ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ یہ معاشرے کے استحکام کے لیے ایک ’’ اندرونی ضابطہ‘‘ (Internal Self-Regulation)فراہم کرتا ہے
اگر کسی معاشرے سے جواب دہی کا تصور نکال دیا جائے، تو وہاں قانون محض کاغذ کا ایک ٹکڑا رہ جاتا ہے۔
ایک با اختیار شخص جب یہ جانتا ہے کہ اس کے اختیار کا ایک ایک لمحہ ایک ایسی عدالت میں پرکھا جائے گا جہاں سفارش اور رشوت کا کوئی گزر نہیں، تو اس کے اندر کا انسان بیدار ہو جاتا ہے۔
قیامت کا تصور انسان کو سکھاتا ہے کہ کسی کا دل دکھانا یا کسی کا حق غصب کرنا ایک ایسا قرض ہے جو اسے بہر صورت چکانا پڑے گا۔
یہ عقیدہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے انسانوں کے لیے ایک سہارا ہے کہ اگر آج ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، تو ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب کائنات کا مالک خود ان کی داد رسی کرے گا۔
اقبالؒ نے اسی سماجی و ملی ذمہ داری کو یوں واضح کیا:
فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
میری تصنیف ’’ شہرِ خواب‘‘ کے کالموں کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو ان کے پسِ منظر میں یہی تڑپ نظر آتی ہے کہ ہم جس دنیا کی آسودگیوں میں مگن ہیں، وہ ایک دلکش خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ہم اس مادی چکا چوند میں اتنے کھو گئے ہیں کہ ہمیں اس ’’ حقیقی صبح‘‘ کی فکر ہی نہیں رہی جو موت کے بعد طلوع ہونے والی ہے۔
قیامت کا وقوع دراصل کائنات کی ’’ تخلیقِ نو‘‘ (New Creation)ہے۔ یہ وہ دن ہے جب مادہ اپنی حیثیت کھو دے گا اور صرف ’’ روحانی و اخلاقی جوہر‘‘ باقی رہ جائیں گے۔ یہ انسانی اخلاق کا وہ نقطہِ کمال ہے جس کے بغیر کائنات کا یہ سارا میلہ، یہ کہکشائیں، یہ نظامِ شمسی اور یہ انسانی تہذیبیں بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔
خلاصہِ کلام یہ ہے کہ یومُ الدین کا عقیدہ ایک ہمہ گیر سچائی ہے جو بیک وقت سائنس، عقل، ضمیر اور دین سے ثابت ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی ایک امانت ہے اور ہم اس کے ہر لمحے کے ذمہ دار ہیں۔
دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور امتحان کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ برآمد ہو۔ قیامت وہ نتیجہ ہے جو انسانی اعمال کو ’’ معنی‘‘ عطا کرتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ عدل، سچائی اور انسانیت کے اصولوں پر استوار ہو، تو ہمیں اپنے اندر اس جواب دہی کے احساس کو بیدار کرنا ہوگا۔
جیسا کہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ خودی کی بیداری ہی دراصل اس عظیم حشر کی تیاری ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
قیامت کا ہونا اس بات کی سب سے بڑی گواہی ہے کہ خدا ’’ عادل‘‘ ہے، اور اس کی کائنات میں اندھیر نگری نہیں ہے۔ یہ وہ آخری باب ہے جو زندگی کی ادھوری کہانی کو مکمل کرتا ہے اور ہر ذی روح کو اس کے انجامِ حقیقی تک پہنچاتا ہے۔
عادل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی





