ہاں ! مگر نہیں

ہاں ! مگر نہیں
محمد مبشر انوار
قحط الرجال لکھوں یا ہوس اقتدار میں مست اقدار سے عاری متکبر اشرافیہ کہوں، سمجھ سے باہر ہے کہ ایسی بد تہذیبی کبھی پنجاب کا شعار نہیں رہی لیکن نجانے کیوں ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ اپنی راجدھانی میں کسی اور کا وجود برداشت ہی نہیں رہا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ جمہوری معاشروں میں عوامی نمائندگی کا حق، عوام کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے۔ کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اور موجودہ نظام حکومت بھی جمہوری عمل سے معرض وجود میں آیا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مسند اقتدار پر براجمان اشرافیہ بخوبی جانتی ہے کہ اسے عوام بری طرح مسترد کر چکے ہیں اور ان کا اقتدار قطعا عوامی نمائندگی کا مرہون منت نہیں بلکہ خیرات کی اس گدا پر حکمران جبرا مسلط ہیں۔ اس کے باوجود اتنا غیر مہذب رویہ اور غیر شائستگی کا اظہار، شریف خاندان کے سیاسی میدان سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا گو کہ بعد ازاں شریف خاندان نے بہ امر مجبوری کہیں یا اقتدار میں شریک رہنے کی خاطر، بے نظیر بھٹو سے بہرطور تعلقات کا اعادہ کیا جس میں بے نظیر بھٹو نے جمہوری عمل کی بحالی کی خاطر بہرطور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور معاملات کو بہتر طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم تب بھی صورتحال یہ تھی کہ موجودہ وزیر اعظم ممکنہ طور پر پس پردہ حالات سے بے خبر تھے کہ موقع ملتے ہی ایک بار پھر آصف علی زرداری پر چڑھ دوڑے اور اپنی پرانی روش یا مائنڈ سیٹ کے مطابق، آصف علی زرداری کو کھلے عام جلسے جلوسوں میں رگیدتے رہے۔ ممکنہ طور شریف خاندان کا لائحہ عمل بھی ہو سکتا یا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کارروائی بھی کہ کسی طرح یہ ظاہر نہ ہوکہ دونوں سیاسی جماعتیں درون خانہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، بہرحال ماضی کی نسبت آج دونوں شیر و شکر ہیں اور کسی قسم کا اختلاف ان کے درمیان نظر نہیں آتا کہ مل بیٹھ کر ریاستی وسائل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ کبھی کبھار البتہ عوام کو دکھانے کے لئے یا آقائوں سے مزید سہولتیں حاصل کرنے کے لئے، ایک دوسرے کے خلاف لب کشائی ضرور کرتے ہیں لیکن درون خانہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اس لب کشائی کا مقصد واضح دکھائی دیتا ہے کہ تنخواہ کم ہے، حد تو یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر جو بیانات اس مرتبہ آصف علی زرداری اور بلاول زرداری کی جانب سے سامنے آئے ہیں، ان میں بے نظیر بھٹو کے متعلق کم جبکہ فیلڈ مارشل کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ہی ملائے گئے ہیں۔ اس ایک امر سے پیپلز پارٹی کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ماضی میں عوام کی سیاسی جماعت کی حیثیت اب ایک تنخواہ دار حاشیہ بردار جماعت سے قطعا زیادہ نہیں کہ اسے بخوبی علم ہے کہ اگر اس سے زیادہ کچھ کرنے کی کوشش ہوئی تو عین ممکن ہے کہ جو میسر ہے، اس سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں کہ عوامی حمایت کا بیشتر حصہ تحریک انصاف ہڑپ چکی ہے اور جو باقی بچا ہے، اس میں اب اتنا نہیں کہ اپنے زور بازو پر کچھ حاصل کیا جا سکے۔
گزشتہ دنوں جو رویہ پنجاب حکومت کی جانب سے دیکھنے کو ملا، اس سے طبیعت سخت مکدر ہے کہ ایسی روئیے کبھی بھی پنجاب کی پہچان نہیں رہے، البتہ اس کی ابتداء بھی میاں نواز شریف کے دوسرے دور وزارت اعلی میں ہوئی کہ جب مرکز میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی تو میاں نواز شریف نے کبھی بھی بے نظیر بھٹو کو ان کے منصب کے مطابق ، خوش آمدید نہیں کہا تھا بلکہ اپنے اس عمل پر ہمیشہ نازاں رہے، آج وہی عمل ان کی دختر نیک اختر نے دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کے ساتھ دہرایا ہے۔ اس عمل نے پنجابیوں کی مہمان نوازی کو ہمیشہ کے لئے گہنا دیا ہے کہ پنجابیوں کے متعلق یہ مشہور ہے کہ ان کے گھر اگر دشمن بھی چل کر آجائے، تب بھی یہ اپنی روایتی مہمان نوازی سے پیچھے نہیں ہٹتے لیکن اس مرتبہ مہمان نوازی تو کیا خاک ہوتی، جو اقدامات اٹھائے، اس سے پنجاب کی ثقافت بری طرح شرمندہ ہے۔ ایسا کب ہوا ہے کہ کسی دوسرے صوبے سے آئے خاص مہمانوں، بالخصوص جو عوامی نمائندگی کا تاج بھی سر پر رکھے ہوئے ہوں، کے لئے شہر لاہور کی فوڈ سٹریٹ کو جبرا بند کروادیا جائے یا وہاں روشنیاں گل کر دی جائیں؟ تسلیم سیاسی مخالفت موجود ہے، آپ خود میزبانی نہ کریں، کوئی بات نہیں، لیکن فوڈ سٹریٹ پر دکانیں بند کروا دینا یا وہاں کی روشنیاں گل کروا دینا، یہ کس ظرف کا مظاہرہ ہے؟۔ کے پی کے وزیراعلیٰ کو پنجاب اسمبلی میں داخلے سے روکنے کا اس قدر بھونڈا انداز ؟ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ سپیکر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا اظہار کر رہے ہیں؟ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کا استقبال صوبے کی پولیس راستے روکتے ہوئے، یہ کون سی جمہوریت ہے اور کون سی جمہوری اقدار؟ کیا پنجاب پاکستان کا حصہ نہیں یا صرف اسے ہی پاکستان تصور کیا جانا درست ہے؟ کیا کے پی، سندھ اور بلوچستان پاکستان کی اکائیاں نہیں؟ کے پی کے علاوہ کسی دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ اگر پنجاب آئے، یا کسی دوسرے صوبے سے کوئی سیاسی رہنما پنجاب آئے، تو کیا پنجاب ان کا استقبال نہیں کرتا یا انہیں منتخب نہیں کر سکتا یا کیا کسی دوسری سیاسی شخصیت کو پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں؟ یہ رویہ کسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور کیا ایسا رویہ قومی یکجہتی کو پروان چڑھا سکتا ہے؟ کیا اس روئیے سے عوامی رجحان، عوامی سوچ کو مقید کیا جاسکتا ہے؟ اپنی حق میں ہموار کیا جاسکتا ہے یا اس کا ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے؟ موخرالذکر کے حوالے سے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ فارم 47کی حد تک عوامی ووٹ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقتا عوامی نمائندگی ایسے نہیں ملتی۔ شریف خاندان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ جمہوری طرز عمل میں یہ ایک لازمی امر ہے کہ جو سیاسی جماعت یا سیاسی قیادت، عوامی امنگوں پر پورا نہیں اترتی، اسے مسند اقتدار سے اترنا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ موجودہ حکمران سیاسی جماعتوں کو اس حقیقت کا ادراک نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے نزدیک اقتدار ہی اہم ہے، خواہ کسی بھی طریقے سے حاصل ہو۔ افسوس تو اس امر کا ہے کہ حکمرانوں کا بخوبی معلوم ہے کہ ان کا اقتدار کلیتا جعلی ہے لیکن اس کے باوجود، ان کی حالت بھارتی کرکٹ ٹیم جیسی ہے، جو امپائر کی سہولت کاری کے باعث بے شرمی کی انتہا کرتے ہوئے ہی میچ جیت پاتی ہے وگرنہ اس میں سپورٹس مین شپ نام کی کوئی چیز نہیں، بعینہ سیاسی میدان کے ان کھلاڑیوں میں سپورٹس مین شپ نام کی کوئی شے باقی نہیں ہے۔
اس کے باوجود، سہیل خان آفریدی نے جس ظرف کا مظاہرہ کیا، وہ واقعتا ایک سیاسی کارکن کے شایان شان دکھائی دیا، کھلے بندوں عوام میں نکلا، صحافیوں سے گفتگو کی، ان کے تلخ و تند و تیز سوالات خندہ پیشانی سے سنے اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے متاثر کن جوابات دئیے۔ اپنے قائد کا پیغام لے کر، اپنے قائد کے گھر ( اس کے شہر) میں گلی گلی گھومتا نظر آیا جبکہ پنجاب پولیس اس کے آگے آگے اور پیچھے پیچھے رہی، کہیں عوام کو اکٹھا نہیں ہونے دیا گیا، کسی عام جگہ پر عوام کو جمع نہیں ہونے دیا گیا، بقول سہیل آفریدی ،جماعت کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ اس کے باوجود، سہیل آفریدی جہاں گیا، اس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، راستے بند کئے گئے، سٹریٹ لائٹ بند کی گئی کہ مبادا عوام باہر نہ نکل آئیں لیکن عوام تمام تر سختیوں کے باوجود بہرطور سہیل آفریدی کے ساتھ نظر آئے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال کا مقصد ہی یہی تھا کہ نظام حکومت بند کیا جاسکے جبکہ یہ کام خود پنجاب حکومت نے اپنے خلاف کیا۔ اس کے بعد، پنجاب حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ تحریک انصاف کے ساتھ عوام نہیں ہیں، علیمہ خان کے لئے لبرٹی چوک تک پہنچنا مشکل کر دیا گیا تھا اور انہوں نے خود بتایا کہ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر لبرٹی چوک تک پہنچی ہیں، پنجاب حکومت کے اس دعوے کی کھلی نفی ہے اور اگر بالفرض واقعی عوام عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں، تو اتنی مشقت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف حکمران بلکہ آقائوں کو بھی اس کا علم ہے کہ عوام کا سمندر کس کے ساتھ ہے، جانتے ہیں کہ ہاں! مگر اقتدار نہیں ۔۔۔





