ColumnQadir Khan

سعودی عرب اور یو اے ای کی کشمکش

سعودی عرب اور یو اے ای کی کشمکش
قادر خان یوسف زئی
جزیرہ نما عرب کے ریگزاروں میں برسوں سے دبی چنگاری بالآخر شعلہ بن کر بھڑک اٹھی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یمن کے محاذ پر جو کچھ ہوا ہے، وہ محض ایک فوجی جھڑپ یا غلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ دو علاقائی طاقتوں کے مابین مفادات کے ٹکرا کا وہ نقطہ عروج ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے شہر مکلا میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی فوجی کھیپ پر فضائی حملہ اور اس کے فوری بعد صدارتی کونسل کی جانب سے اماراتی فورسز کو چوبیس گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم، خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جو خطے کے جیو سٹریٹجک نقشے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر سکتا ہے۔
یہ محض یمن کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ اب مشرق وسطیٰ میں قیادت اور بالادستی کی جنگ بن چکی ہے۔ سعودی عرب، جو خود کو عالم اسلام اور خلیج کا قدرتی قائد سمجھتا ہے، اور متحدہ عرب امارات، جو اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی اور معاشی قوت کے بل بوتے پر ایک آزاد علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا ہے، اب ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف شروع ہونے والا اتحاد اب عملی طور پر ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ ریاض کی نظر میں یمن کا اتحاد اور وہاں ایک مرکزی حکومت کا قیام اس کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ایک غیر مستحکم یمن سعودی عرب کے جنوبی بارڈر کے لیے ہمیشہ خطرہ رہے گا۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات کی تزویراتی ترجیحات مختلف رہی ہیں۔ ابوظہبی کی دلچسپی یمن کے جنوبی ساحلی علاقوں، خاص طور پر باب المندب کی گزرگاہ اور سقطریٰ جیسے جزیروں پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امارات نے جنوبی یمن میں علیحدگی پسند گروپ ’ سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ ( ایس ٹی سی) کی آبیاری کی، جو سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے لیے براہ راست چیلنج بن چکا تھا۔ مکلا میں ہونے والا حملہ دراصل ریاض کی جانب سے کھینچی گئی وہ سرخ لکیر تھی جسے عبور کرنے کی قیمت اب دونوں ممالک کے تعلقات کی سرد مہری کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو بھائیوں کی اس لڑائی میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اور اس کے لیے یہ صورتحال کس قدر تشویشناک ہے؟ پاکستان کے لیے یہ تنازع ’ آگے کنواں اور پیچھے کھائی‘ کے مترادف ہے۔ اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی خلیجی ممالک میں تقسیم ہوئی، پاکستان کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا جان جوکھوں کا کام بن گیا۔ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کے ساتھ انتہائی گہرے تزویراتی، معاشی اور فوجی تعلقات ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب ہے جو پاکستان کا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مالی امداد کے لیے سب سے پہلے ہاتھ بڑھاتا ہے، تو دوسری طرف متحدہ عرب امارات ہے جو پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، ترسیلاتِ زر اور تجارتی شراکت داری کا ایک کلیدی مرکز ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت مذہبی اور دفاعی ہے، جبکہ یو اے ای کے ساتھ یہ تعلقات جدید معاشی مفادات اور جغرافیائی قربت پر استوار ہیں۔
علاقائی معیشت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچیں گے۔ باب المندب، جہاں سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، یمن کے ساحل پر واقع ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای کی کشمکش اس اہم آبی گزرگاہ کے تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ تیل کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سبب بنے گی، اور پاکستان جیسا ملک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، مہنگے تیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں مہنگائی کے طوفان کو مزید ہوا دے گا، جس سے پہلے سے پسی ہوئے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب کا جدید وژن2023اور دبئی کا معاشی ماڈل اب ایک دوسرے کے حریف بنتے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف کھینچنے کی اس دوڑ میں سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاروں کو پورے خطے سے بدظن کر سکتا ہے۔
اس تمام منظر نامے میں ایک اور اہم فیکٹر ایران کا ہے۔ تہران یقیناً ریاض اور ابوظہبی کے درمیان اس بڑھتی ہوئی خلیج کو بغور دیکھ رہا ہوگا۔ ماضی قریب میں چین کی ثالثی میں سعودی ایران تعلقات کی بحالی نے خطے میں امید کی ایک کرن روشن کی تھی، لیکن عرب اتحاد کے اندر یہ دراڑ ایران کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا ایک نیا موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ حوثی باغی، جو اس وقت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر سعودی عرب اور یو اے ای آپس میں الجھتے رہے تو یمن میں حوثی گرفت ایک بار پھر مضبوط ہو جائے گی، جو بالآخر پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو معمول پر رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اگر خلیجی گھرانے میں آگ لگتی ہے تو اس کی تپش سے بچنا پڑوسیوں کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
اگر ہم تلخ حقیقت کا سامنا کریں تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اب محض اتحادی نہیں بلکہ ’’ فریمینیز‘‘ (Frenemies)یعنی دوست نما دشمن بن چکے ہیں۔ ان کے درمیان معاشی مسابقت اب تزویراتی مخالفت میں بدل چکی ہے۔ سعودی عرب اب وہ پرانا قدامت پسند ملک نہیں رہا جو صرف تیل بیچ کر خوش تھا؛ محمد بن سلمان کی قیادت میں وہ اب ہر اس شعبے میں نمبر ون بننا چاہتا ہے جہاں پہلے دبئی یا ابوظہبی کا راج تھا۔ چاہے وہ سیاحت ہو، لاجسٹکس ہو یا میڈیا، ریاض اب دبئی کو چیلنج کر رہا ہے۔ یمن کا حالیہ واقعہ اسی بڑی جنگ کا ایک چھوٹا سا محاذ ہے۔ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خلیجی ممالک کی ترجیحات اب ’ امتِ مسلمہ‘ کے جذبات سے زیادہ ’ قومی مفادات‘ اور ’ معاشی بالادستی‘ کے گرد گھومتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنی پالیسیوں کو جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس معاشی اور اسٹریٹجک حقائق کی بنیاد پر تشکیل دینا ہوگا۔ کیونکہ جب بڑے ستون ہلتے ہیں تو پوری عمارت کے گرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ خطے کی فضا میں بارود کی بو رچ بس گئی ہے اور اگر بروقت دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو اس آگ کے شعلے بحیرہ عرب کے پانیوں کو بھی گرما دیں گے۔

جواب دیں

Back to top button