پاک امارات اسٹرٹیجک شراکت داری کی طرف قدم

اداریہ۔۔۔۔۔
پاک امارات اسٹرٹیجک شراکت داری کی طرف قدم
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، باہمی اعتماد اور برادرانہ جذبات پر مبنی ایک مضبوط رشتہ ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم محمد شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر و ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان شیخ زاید پیلس رحیم یار خان میں ہونے والی ملاقات اسی دیرینہ تعلق کی ایک اہم کڑی ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اب اپنے تعلقات کو روایتی دوستی سے نکال کر ایک مضبوط، اسٹریٹجک اور باہمی طور پر مفید اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار اور گرمجوش ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں رہنماں نے نہ صرف دسمبر 2025ء میں اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے امور کو آگے بڑھایا بلکہ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اس ملاقات کی خاص بات یہ ہے کہ شیخ محمد بن زاید النہیان نے بطور صدر متحدہ عرب امارات پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تعلقات کو ایک ایسی اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلا جائے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے براہ راست فوائد کی حامل ہو۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی صلاحیتوں اور امکانات کی عکاسی نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے میں یو اے ای جیسے قریبی دوست اور سرمایہ کاری کے خواہاں ملک کے ساتھ مضبوط اقتصادی روابط پاکستان کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ملاقات میں آئی ٹی، توانائی، کان کنی و معدنیات، دفاعی تعاون اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک تعلقات کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان آئی ٹی اور معدنی وسائل کے میدان میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدید انتظامی مہارت کا حامل ملک ہے۔ اگر دونوں ممالک ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں تو نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے بلکہ یو اے ای کو بھی طویل المدتی سرمایہ کاری کے نئے مواقع دستیاب ہو سکتے ہیں۔ توانائی اور کان کنی کے شعبے پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان توانائی کے بحران اور وسائل کے مثر استعمال جیسے مسائل سے دوچار ہے، جبکہ یو اے ای اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی تعاون کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے مضبوط روابط موجود ہیں، جنہیں مزید وسعت دینا خطے کے استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے شیخ محمد بن زاید النہیان کی متحرک اور دوراندیش قیادت میں متحدہ عرب امارات کی غیرمعمولی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے مختصر عرصے میں جس انداز سے خود کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اقتصادی اور سفارتی قوت کے طور پر منوایا ہے، وہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یو اے ای کی جانب سے 21لاکھ پاکستانیوں کی میزبانی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جو نہ صرف پاکستانی معیشت میں ترسیلات زر کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نہ صرف دوطرفہ تعاون بلکہ عالمی چیلنجز کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایسے روابط کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق یہ ملاقات ایک سال کے دوران قیادت کی سطح پر ہونے والے بھرپور روابط کا تسلسل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات وقتی یا رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک مستقل اور طویل المدتی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کو اب بیانات اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے واضح روڈ میپ، شفاف پالیسیوں اور موثر عملدرآمد کے بغیر یہ مواقع ضائع ہو سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ ملاقات ایک مثبت پیش رفت ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتی ہے بلکہ پاکستان کی معاشی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اسٹریٹجک قربت کو ٹھوس نتائج میں بدلا جائے تاکہ برادرانہ تعلقات واقعی ایک مضبوط اقتصادی شراکت داری کی شکل اختیار کر سکیں اور دونوں ممالک کے عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
شذرہ۔۔۔۔
ڈیجیٹل اسکیمز کے بڑھتے خطرات
پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل فراڈ اور مالی اسکیموں سے ہونے والے نقصان کا سامنا ہے۔ حالیہ گلوبل اسٹیٹ آف اسکیمز رپورٹ 2025ء میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ہر سال 9.3ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو کہ جی ڈی پی کا 2.5فیصد بنتا ہے۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے قرض پروگرام سے 33فیصد زیادہ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مالیاتی فراڈ پاکستان کی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل لٹیروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف اسکیموں جیسے فشنگ، اسکیمنگ اور جعلی سرمایہ کاری کے ذریعے لوگ عوام کے پیسے لوٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان اسکیموں کا مقصد عام لوگوں کی مالی حالت کا فائدہ اٹھا کر ان کے پیسے ہڑپ کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر حملے سوشل میڈیا، ای میلز اور موبائل ایپس کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر لوگ مالیاتی سیکیورٹی کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں، اس لیے وہ آسانی سے ان دھوکہ دہی کے طریقوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت پر ہونے والے 9.3ارب ڈالر کے نقصان کا اثر صرف مالیاتی سیکٹر پر نہیں، بلکہ پورے ملک کی ترقی پر پڑتا ہے۔ جب عوام اپنے پیسے کھو دیتے ہیں تو ان کی خریداری کی طاقت متاثر ہوتی ہے، جس سے کاروبار اور معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ مزید برآں، مالی فراڈ کا شکار ہونے والے افراد کو نئے کاروبار یا سرمایہ کاری کے لیے پیسہ لگانے میں مشکل پیش آتی ہے، جس سے معیشت میں سرمایہ کاری کی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس نقصان سے نہ صرف فرد بلکہ پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل عوامی آگاہی میں مضمر ہے۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کو عوام کو ڈیجیٹل فراڈ کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مہمات چلانی چاہیے۔ سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے لوگوں کو مالیاتی سیکیورٹی کی اہمیت اور ان اسکیموں سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو مالیاتی قوانین کو مزید سخت کرنا ہوگا تاکہ ان لٹیروں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ بینکوں اور مالی اداروں کو اپنے سسٹمز کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان اسکیموں کا پتہ لگا سکیں اور عوام کی مالی معلومات کو محفوظ رکھ سکیں۔ پاکستان کی معیشت مالیاتی فراڈ اور ڈیجیٹل اسکیموں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ملکی ترقی کے لیے بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت، مالیاتی اداروں اور عوام کو مل کر اس مسئلے کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کی معیشت کو اس خطرے سے بچایا جا سکے اور اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔







