Columnمحمد مبشر انوار

سرد مہری کے خدشات

محمد مبشر انوار( ریاض)
دی ڈپلو میٹ میں شائع ایک تحریر نے پاکستانی سیاست کے درو دیوار ہلا دئیے ہیںاور ہر طرف واویلا شور و غوغا سنائی دے رہا ہے کہ انتہائی قابل اعتماد،بھروسہ مند اور ہمدم دیرینہ کی جانب سے بیگانگی کے ایسے اشارے کیوں آ رہے ہیں؟ اس کے پس پردہ حقائق کیا ہیں ،کیا یہ واقعی مبنی برحقیقت خیالات ہیں یا کسی نے بے پر کی اڑائی ہے یا کسی دشمن نے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؟گھریلو سطح پر بھی اپنی حیثیت کو مستحکم رکھنے کے لئے ،سربراہ قرب و جوار،عزیز و اقارب کے ساتھ بالعموم تعلقات میں کسی قسم کی رنجش کو قائم رکھنے سے گریز کرتا ہے اور ایسی عداوتوں کو ختم کر کے،اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے بعینہ یہی صورتحال اقوام عالم میں کسی بھی ریاست کی ہوتی ہے کہ وہ اقوام عالم میں اپنی حیثیت کو قائم رکھنے کے لئے نہ صرف اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بلکہ قابل اعتماد و قابل ذکر ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہمیشہ مضبوط و توانا رکھتی ہے تا کہ بوقت ضرورت ان تعلقات سے مستفید ہو سکے۔دوطرفہ تعلقات کبھی بھی مستحکم و خوشگوار نہیں رہ سکتے کہ ایک فریق ہمیشہ زیردست رہتے ہوئے،دوسرے فریق سے مسلسل مدد و تعاون کا طلبگار رہے لیکن اندورنی طور پر اپنے مسائل ختم کرنے کی بجائے انہیں بلاوجہ بڑھائے،قومی مفادات کے برعکس ذاتی مفادات و ضد و انا کو ترجیح دیتے ہوئے،کسی ایک فریق پر لطف و عنایات کرے اور دوسرے فریق کو دیوار سے لگانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ملکی معاملات کو سنبھالنے کی بجائے انہیں مزید دگرگوں صورتحال سے دوچار کرنے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ اس میں اپنی حماقتوں سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے،ملکی وسائل کو لوٹنے کھسوٹنے سے گریز نہ کرے۔برادر ملک چین ،پاکستان سے دوبرس بعد آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوا،بوقت آزادی دونوں ممالک کا موازنہ کرتے وقت،انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ کس طرح چین نے اپنے اہداف مقرر کرکے ان پر حقیقتاً ’’ شبانہ روز‘‘ محنت کرتے ہوئے،اپنے ملک کو دنیا کی ایک بڑی معیشت کے طور پر تسلیم کروایا جبکہ دوسری طرف پاکستان کی حالت زار ہے کہ جس کی اٹھان ایسی تھی کہ اقوام عالم اس پر رشک کرتی دکھائی دی اور بجا طور پر پاکستان کو ایشیا کی ایک بڑی معیشت بنتے دیکھ رہی تھیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میںایسے حکمران مسلط کئے گئے کہ جنہوں نے ’’ شبانہ روز‘‘ محنت اپنے اثاثے بڑھانے میں صرف کی۔چین انتہائی مستقل مزاجی سے ،اپنے اہداف کی طرف گامزن رہاگو کہ اس عرصہ میں اس کے دیگر ممالک سے اختلافی معاملات پر مذاکرات بھی جاری رہے،برطانیہ سے ہانگ کانگ بھی اپنی ریاست میں شامل کروایا،بھارت سے اپنے رقبہ کے لئے جنگ بھی ہوئی لیکن اپنے اہداف سے اس کی نظر کسی بھی لمحہ نہیں چوکی۔
پاکستان سٹریٹیجک نقطہ نظر سے ،چین کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل پڑوسی ہے،چین کی ہمیشہ یہ پرخلوص خواہش رہی ہے کہ پاکستان ہر محاذ پر یکسوئی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرے ،اسی پس منظر میں چین نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران ،جنرل ایوب کو پیغام دیا تھا کہ چونکہ چین نی بھارت کو مشغول کر رکھا ہے،اس لئے پاکستان کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے فوج کشی کرے تو بھارت کے لئے دو محاذوں پر دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا،جس سے چین اور پاکستان دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن جنرل ایوب نے بوجوہ اس تجویزسے اتفاق نہیں کیا۔بہرکیف وقت گزر گیا لیکن پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی ہر گذرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتی گئی،پاکستان کے تعلقات فقط چین تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ مشرق وسطی کے علاوہ یورپ و امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات ایک زمانے میں انتہائی مضبوط تھے اور جنرل ایوب کا امریکہ و برطانیہ میں استقبال اس کا ایک ناقابل تردید ثبوت آج بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ پڑوسیوں میں پاکستان کے مضبوط ترین تعلقات کے حوالے سے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ انتہائی خصوصی اور گرم جوش رہے البتہ انقلاب ایران کے بعد،امریکی التفات کی عدم موجودگی اور سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات کی نئی شاہراہوں پر سفر نے،پاکستان کو سعودی عرب کے نزدیک کردیا لیکن اس کے باوجود ایران کے ساتھ تعلقات موجود رہے اور بیشتر معاملات پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہم خیال اور سپورٹ کرتے رہے۔ بعد ازاں مشرق وسطیٰ ،تیل دریافت ہونے کے بعد،ترقی کی نئی منزلوں پر گامزن ہوا تو پاکستانی افرادی قوت نے اپنے خون پسینہ سے اس کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور دوسری طرف اپنی مضبوط ،پرعزم اور حب رسولؐ سے سرشار عسکری طاقت سے ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ ہر طرح کے حالات میں ساتھ دیا۔ آج بھی بغور دیکھیں تو اس حقیقت سے قطعا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاک سعودی تعلقات میں ،عسکری خدمات و تعاون ایک ٹھوس حقیقت ہے اور بیشتر اوقات سعودی حکمران ،عسکری قیادت کی ضمانت اور یقین دہانی پر پاکستان کی مالی مدد و تعاون کرتے ہیں۔تقریبا ایسی ہی صورتحال مشرق وسطی کے دیگر ممالک یو اے ای،قطر اور کویت کی ہے کہ جہاں پاکستانی افرادی قوت نے ہمیشہ اپنے خون پسینہ سے ان ممالک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور کسی بھی موقع پر مشرق وسطی کے ان ممالک نے پاکستانیوں کی، ان ممالک کے ساتھ محبت و خلوص اور نیک نیتی و کردار پر شک نہیں کیا۔ تاہم ان حقائق کے باوجود،ان ممالک میں بتدریج پاکستانیوں کی حیثیت ،آج فقط ایک اجیر کی سی ہو کر رہ گئی ہے کہ یہ ممالک بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کی نیتیںاور خواہشیں صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کی اسیر ہو کر رہ چکی ہیں اور جو توقعات عالم اسلام پاکستان سے وابستہ کئے بیٹھا تھا،پاکستان اس شاہراہ سے کہیں دور جا چکا ہے۔ ساٹھ/ستر کی دہائی میں محدود وسائل اور حد سے زیادہ کساد بازاری کے باوجود،صنعتی ترقی کرتاپاکستان اس وقت حکمرانوں کی عیاشیوں، اللے تللوںاور ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کے باعث،استعداد کار رکھتے ہوئے بھی عضو معطل بن چکا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی دور کو مد نظر رکھتے ہوئے،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کی ایسی حالت سے دوچار نہ ہوتا لیکن اس کے باوجود مشکلات کا شکار ہونے کے بعد جتنی مدد اور تعاون مشرق وسطیٰ کے ممالک نے پاکستان کو فراہم کیا ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان جلد از جلد اپنے قدموں پر کھڑا ہوجاتا لیکن بدقسمتی سے اس کے برعکس، پاکستان امداد و قرضوں کی دلدل میں مزید دھنستا چلا گیا اور آج اس کی معاشی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ ہر طرف سے اس کی معاشی حالت پر تبری پڑھا جا رہا ہے، جو پالیسیاں سامنے نظر آ رہی ہیں، ان کے موجودگی میں یہ توقع کرنا عبث ہے کہ پاکستان بہت جلد دوبارہ شاہراہ پر گامزن ہو سکے گا تآنکہ اس کی پالیسیاں اور ان پر عمل درآمد کروانے کے لئے، حکمرانوں سمیت افسر شاہی بھی اپنا قبلہ درست نہ کر لے۔
پاکستان کی امداد و قرضوں میں سب سے بڑا حصہ چین کا ہے، جو ہمیشہ سے پاکستان کا خیر خواہ رہا ہے، لیکن دوسری طرف چین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ پاکستان تو کیا کسی بھی دوسرے دوست ملک کے اندرونی معاملات میں براہ راست دخیل نہ ہو مگر دوستوں کو صائب مشوروں سے ضرور نوازتا رہے اگر دوست ممالک اس کے مشوروں پر عمل کر کے اپنے بحران حل کر لیں اور چینی مفادات کے تحت اپنے ملک کو ہم آہنگ کرکے، اپنے ملک و قوم کے لئے بھی ترقی و خوشحالی کے راستے کو چن لیں تو اس میں فریقین کا فائدہ ہے بصورت دیگر چین کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی متبادل کو اختیار کرکے اپنے اہداف کو حاصل کر لے۔ اس پس منظر میں اگر ڈپلومیٹ کے مضمون کو دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین پاکستان سے دلبرداشتہ ہو چکا ہے کہ پاکستان میں جاری منصوبوں پر پاکستان نہ صرف چین کے ہنرمندوں کو محفوظ بنا سکا ہے بلکہ ان منصوبوں میں جو خورد برد ہوئی ہے، جس طرح معاملات طے کئے گئے ہیں، ان سے پاکستانی حکمرانوں کا ملک سے خلوص بھی آشکار ہو چکا ہے۔ چین میں رشوت خوری کی سزا موت ہے اور متوفی کو ماری جانے والی گولی کی قیمت بھی ورثاء سے وصول کی جاتی ہے، ماضی میں پاکستان میں جاری منصوبوں سے حاصل ہونے والے بے حساب منافع کی تفتیش چینی اہلکاروں نے کی اور حکومت پاکستان کو مطلع بھی کیا لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا، سب کو معلوم ہے۔ ایسے منصوبوں کہ جن میں شرح منافع خوفناک حد تک زیادہ تھی، عمران خان حکومت نے ایسے منصوبوں کے معاہدوں پر نظرثانی کرنے کے لئے اس وقت اقدام اٹھایا جب ترقیاتی کام بوجہ کرونا سست روی کا شکار تھے لیکن ملوث احباب نے اسے پر شور و غوغا کرنا شروع کر دیا اور عمران خان کو دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ حضور والا! دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کے خدشات، جو حقیقت میں بدل رہے ہیں، اس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کا اپنا رویہ ہے، جس میں آپ کی ترجیحات میں ریاستی مفادات نہیں بلکہ ذاتی مفادات ہیں، اس صورتحال میں آپ کے دوست کب تک دوستی میں آپ کا ساتھ دیتے رہیں گے کہ ان کی ترجیحات قومی و ریاستی مفادات ہیں، جن کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں بدلتے حالات کے مطابق دیگر ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسرنو ترجیحاتی بنیادوں پر طے کرنا ہے، اس پس منظر میں معاشی و سیاسی و اخلاقی سطح پر تباہ کن ریاست پاکستان، ترقی کرتی ریاستوں کی ترجیحات میں پہلی ترجیح میں کیسے اور کیونکر آ سکتا ہے؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button