سیاسیات

مذہب کے نام پر توڑ تھوڑ کی گئی، علما اور ایوان سوات واقعے کا نوٹس لیں: احسن اقبال

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ سوات میں ہجوم کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت پر علما نوٹس لیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پارلیمینٹ کی خصوصی کمیٹی بنا کر قومی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

بجٹ اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سوات میں ایک روز قبل ہجوم کے ہاتھوں موت کا ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا۔اس واقعے سے میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ’ہم کسی کی لاش کی بے حرمتی نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے اس کا اب نوٹس نہیں لیا تو یہ انارکی ہمیں جلا دے گی۔ ہم نے دین کا نام اس توڑ پھوڑ میں استعمال کیا ہے۔ علما کرام بھی اس کا نوٹس لیں۔‘

احسن اقبال نے کہا کہ ’ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائے جو ان واقعات کا جائزہ لے کر اور ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل دیا جائے تاکہ ان واقعات کی مستقبل میں روک تھام کی جا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ہمسایہ ملک جہاں مسلمانوں کے ساتھ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا سلوک ہوتا ہے وہ بھی ہمارا مذاق اڑا رہا ہے۔ آج دنیا میں ہم تعلیم، سائنس، صحت، عمل سب میں پحچھے ہیں۔‘

احسن اقبال کے مطابق ’یہ ایسے واقعات کا ایک تسلسل ہے۔ پہلے سیالکوٹ پھرجڑانوالہ، سرگودھا میں یہ واقعات ہوئے۔ اس وقت میں اپنی مثال دینا چاہتا ہوں کہ ایک ایسے ہی جنونی نے میری زندگی لینے کی کوشش کی اور وہ گولی آج بھی میرے جسم میں موجود ہے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ایوان اس معاملے کا نوٹس لے کیونکہ معاشرہ تباہی کے اس دہانے پر پہنچ گیا ہے جہاں پر سٹریٹ جسٹس میں دین کے نام کو استعمال کر کے آئین، قانون ، انصاف اور ریاست کے تمام اصولوں کو پیروں تلے روند دیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اسلام نے کافرکی لاش کی بے حرمتی تک سے منع کیا وہاں ہم مشتعل ہجوم کی صورت میں کسی کو مار کر اس کی لاش کو آگ لگا کر اس کا تماشہ دیکھتے ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button