تازہ ترینجرم کہانیخبریں

چار برس کے دوران پنجاب سے 40 ہزار سے زائد خواتین اغوا

سرگودھا سے ثوبیہ بتول کے اغوا کی سپریم کورٹ میں بازگشت کے بعد پنجاب پولیس کے اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ صوبے بھر سے 3 ہزار 571 لڑکیاں اور خواتین اب بھی لاپتا ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس ریکارڈ میں ان لڑکیوں اور خواتین ’بازیاب‘ قرار نہیں دیا گیا کیونکہ پولیس اور ان کے والدین سمیت کسی کو بھی گزشتہ 4 برسوں میں پنجاب بھر سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

پریشان کُن اعداد و شمار کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2017 سے جنوری 2022 کے درمیان پنجاب کے 36 اضلاع سے 40 ہزار 585 خواتین کو اغوا کیا گیا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 37 ہزار 140 خواتین اور لڑکیوں کو بازیاب کرواتے ہوئے 53 ہزار 459 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جبکہ دیگر 12 ہزار ملزمان مفرور ہیں۔

تاہم اعداد و شمار سے یہ علم نہیں ہوسکا کہ کتنے گرفتار ملزمان کو سزا سنائی گئی یا ان کے خلاف کیا کیسز بنے۔

سپریم کورٹ میں زیر سماعت ثوبیہ بتول کیس کے تناظر میں پولیس کو پنجاب بھر سے 20 نا معلوم خواتین کی لاشیں ملی ہیں، کیس کی تحقیقات کے دوران ثوبیہ بتول کی بازیابی کے لیے پولیس کی جانب سے سرچ آپریشنز میں ریاست کے متعدد اداروں کی مدد بھی لی گئی۔

نامعلوم لاشیں ملنے کے بعد پولیس کے کچھ ماہرین کو خدشہ ہوا کہ ثوبیہ بتول کو قتل کیا جاچکا ہے جس پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو ڈی این اے کے نمونے بھیجے گئے ہیں تاہم 10 لاشوں کے نمونوں کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں کوئی لاش ثوبیہ بتول کی نہیں ہے، جبکہ دیگر رپورٹس آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ کچھ کیسز میں ملزمان نے لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دیا، خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا اور جرم چھپانے کے لیے ان کی لاشوں کو پھینک دیا گیا۔

قبل ازیں سرگودھا کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) ڈاکٹر رضوان احمد خان نے سپریم کورٹ میں ثوبیہ بتول کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف ہوا کہ سرگودھا ڈویژن سے اغوا ہونے والی 151 لڑکیوں میں سے 21 لڑکیون کو قحبہ خانوں سے بازیاب کروایا گیا ہے۔

عدالت کے تین رکنی بینچ نے 28 اگست 2020 کو سرگودھا کے شاہ پور صدر تھانے میں درج اغوا کے مقدمے کی سماعت کی، جس میں معلوم ہوا کہ 16 ملزمان کی گرفتاری کے باوجود ثوبیہ بتول کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جاسکا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب راؤ سردار علی خان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ثوبیہ بتول کی بازیابی کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔

عدالت نے اغوا کی وارداتوں کا ذمہ دار پولیس کی ناکامی اور نا اہلی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے اندراج کے باوجود بھی بازیابی میں سستی کا مظاہرہ کیا گیا۔

پنجاب پولیس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں اب بھی 3 ہزار 571 خواتین لاپتا ہیں، جن میں سے زیادہ تر لاہور سے لاپتا ہوئیں۔ ان میں سے سال 2017 میں 136 خواتین، سال 2018 میں 234 خواتین، سال 2019 میں 344 خواتین اور سال 2020 میں 462 خواتین اغوا ہوئیں جبکہ 2021 میں صورتحال انتہائی خراب دکھائی دی، اس دوران پنجاب میں 2 ہزار 395 لڑکیوں اور خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔

پولیس کے مطابق اغوا کے بیشتر کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے، صوبائی دارالحکومت میں سال 2017 میں 76، سال 2018 میں 141 ، سال 2019 میں 235، سال 2020 میں313، اور 2021 میں ایک ہزار 98 اغوا کے کیسز سامنے آئے۔

ریجن کی سطح پر نظر ڈالی جائے تو رپورٹ کے مطابق 2017 سے شیخوپورہ میں ریجن سے 267 لڑکیوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا، گوجرانوالہ سے 236، راولپنڈی سے 374، سرگودھا سے 4، فیصل آباد سے 143، ملتان سے 338، ساہیوال سے 151، ڈیرہ غازی خان سے 78، اور بہاولپور ریجن سے 117 خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کیا گیا۔

خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی کا معاملہ پولیس کی نااہلی یا غفلت کی نشاندہی کرتا ہے، جب تک عدالتوں نے احکامات نہیں جاری کیے اس معاملے کی پیروی نہیں کی گئی۔

اغوا ہونے والی اکثر لڑکیوں کا تعلق عموماً پسماندہ علاقوں اور خاندانوں سے ہوتا ہے، حکام ان کے اغوا کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور بجائے معاملے کی تحقیقات کرنے کے انہیں گھر سے بھاگنے والی قرار دیتے ہیں، مغوی خواتین کی جسم فروشی کے لیے اندرونی اور بیرونی اسملنگ کے پہلو پر بھی غور نہیں کیا جاتا۔

پولیس کے پاس ’بازیاب ‘ لڑکیوں اور خواتین کے حوالے سے الگ الگ اعدادو شمار نہیں ہیں، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے کتنی کو غلط کاموں کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔

سرگودھا پولیس کی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان میں سے قابل ذکر تعداد کو اسمگلنگ جاتا ہے، البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنی خواتین کو بیرون ملک سمگل کیا گیا، بہت سی خواتین کو دور دراز علاقوں میں گھر کے کاموں کے لیے غلام بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے۔

معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینئر پولیس افسر کا خیال ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں اور خواتین کو شادی کے بہانے اغوا کیا جاتا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ‘لڑکیوں کے اہل خانہ کی جانب سے جبری شادی سے بچنے کے لیے فرار ہونے کا علم ہونے کے باوجود کہ ہم پالیسی کے تحت ہر ایک کے کیس کو اغوا کے الزامات کے تحت درج کرتے ہیں’۔

مذکورہ کیسز سے نمٹنے سے متعلق برسوں کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقدمات ابتدائی تحقیقات کے بعد درج کیے جاتے ہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ بازیاب ہونے والوں میں سے کچھ کو ان کے خاندانوں کی طرف سے جنسی استحصال کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس طرح گھر والوں کی ’بے عزتی‘ ہوتی ہے ایسے حالات میں لڑکیاں عام طور پر منظم جسم فروشی کے حلقوں کا شکار بن جاتی ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن پنجاب کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر سارا شیراز نے بتایا کہ ‘جب دیہی علاقوں یا غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے، تو ان کے والدین زیادہ تر معاملات میں اس کی پیروی نہیں کرتے یا اس کے بعد اپنی بیٹیوں کو قبول نہیں کرتے کہ اس سے ان کے خاندان کی بے عزتی ہوگی’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض صورتوں میں اگر لڑکیاں جبری شادیوں سے بچنے کے لیے بھاگ جاتی ہیں تو خاندان اغوا کے مقدمات درج کراتے ہیں لیکن عمومی طور پر خاندانوں کی مزاحمت کی وجہ سے اغوا کی رپورٹنگ بھی بہت کم ہوتی ہے اور یہاں جنسی اسمگلنگ بھی ایک عنصر ہے، لیکن اس کی اطلاع یا تحقیقات نہیں کی جاتیں جبکہ پولیس بھی لاتعلق رویے کا مظاہرہ کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button