
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
تاہم سرکاری نشریاتی ادارے نے اس ملاقات کو امریکہ کے اصرار پر ہونے والی ملاقات قرار دیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے ٹیلی گرام چینل پر جاری رپورٹ کے مطابق، یہ بات چیت اس لیے کی گئی تاکہ ایران سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی ’شرائط‘ سے آگاہ کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط میں [امریکہ کی جانب سے] بحری محاصرے کا فوری خاتمہ، ایران کے تمام منجمد اثاثوں کی فوری رہائی، اور ’محورِ مزاحمت‘ سے وابستہ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہیں۔
’محورِ مزاحمت‘ سے مراد خطے میں ایران کے اتحادی اور پراکسی گروہ ہیں۔







