Column

:شادی فرض سے نمائش تک کا سفر 

شادی: فرض سے نمائش تک کا سفر

 

رفیع صحرائی

ہم عجیب دور کے باسی ہیں۔ نمود و نمائش کو فرض سمجھ بیٹھے ہیں اور اصل فرائض کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ثقافتی یلغار کے اس زمانے میں ہماری اپنی شناخت، اقدار اور سادگی رفتہ رفتہ ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ گھروں کے ڈرائنگ رومز سے لے کر بیڈ رومز تک، ہمارے رہن سہن، لباس، گفتگو اور تقریبات میں غیر ضروری دکھاوے نے جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے جہاں ہر تقریب مقابلہ بن چکی ہے۔ یہ مقابلہ اس بات میں ہوتا ہے کہ کس نے زیادہ خرچ کیا؟ اور کس کی تقریب زیادہ ’’ شاندار‘‘ رہی؟

خاص طور پر شادی جو ایک مقدس فریضہ اور سادہ ترین سماجی بندھن ہونا چاہیے تھا، اسے ہم نے پیچیدہ رسومات، فضول اخراجات اور بے جا توقعات کے شکنجے میں جکڑ دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ایک طرف خوشحال طبقہ اسراف میں ڈوبا ہوا ہے تو دوسری طرف متوسط اور غریب گھرانے اس اندھی تقلید میں قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

اسلام نے نکاح کو نہایت آسان اور بابرکت عمل قرار دیا ہے۔ چند قریبی رشتہ داروں اور گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول اور بعد ازاں سادہ ولیمہ، یہی اس رشتے کی اصل روح ہے۔ اس عمل میں جہیز کی شرط ہے نہ نمود کی دوڑ اورنہ ہی بارات کے ہجوم کی قید ہے مگر ہم نے اس سادگی کو ترک کر کے شادی کو ایک مہنگا منصوبہ بنا دیا ہے جہاں رشتے سے زیادہ ’’اسٹیٹس‘‘ کو اہمیت دی جاتی ہے۔

رشتوں کی تلاش کا عمل بھی اپنی اصل کھو چکا ہے۔ اب لڑکی کا سگھڑپن چیک نہیں کیا جاتا۔ لڑکی کا کردار، اخلاق اور دین داری کو پرکھنے کے بجائے، گھروں کی سجاوٹ، کھانوں کی اقسام اور جہیز کی فہرست کو معیار بنا لیا گیا ہے۔ لڑکیوں کو ایک شے کی طرح دیکھا اور پرکھا جاتا ہے اور ان کے والدین کو ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش سے گزارا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بن رہا ہے۔

شادی کی تقریبات میں مہندی، بارات اور ولیمہ جیسے مراحل اب سادگی کی بجائے مقابلہ بازی کا میدان بن چکے ہیں۔ مہندی کی راتیں ناچ گانے اور فضول خرچی کی علامت بن گئی ہیں۔ بارات میں سینکڑوں افراد کی شرکت اور قیمتی گاڑیوں کی قطاریں محض دکھاوے کی عکاسی کرتی ہیں۔ دلہن کے والدین اپنی عزت بچانے کے لیے یہ بھی نہیں کہہ پاتے کہ باراتیوں کی تعداد محدود رکھیں، اپنے مہمانوں کو ولیمے پر بلا لیں، ان کا بوجھ ہم پر نہ ڈالیں۔ وہ بے چارے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ دلہا والے بھی پیچھے نہیں رہتے۔

وہ بھی فضول رسومات پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں۔

اس سب کا انجام کیا ہوتا ہے؟ شادی کے بعد خوشیوں کے بجائے قرضوں کا بوجھ، ذہنی دبائو اور معاشی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ کئی خاندان سالہا سال اس ایک دن کی نمائش کی قیمت ادا کرتے رہتے ہیں۔ وہ اکک اولاد کی شادی کا قرض اتارتے اتارتے باقی اولاد کو اپنی دہلیز پر بوڑھا ہوتا دیکھتے رہتے ہیں مگر ان کی شادی کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایک ہی شادی انہیں دیوالیہ کر دیتی ہے۔ اس کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس دوڑ میں سب شامل ہیں۔ وہ بھی جو استطاعت رکھتے ہیں اور وہ بھی جو طاقت نہیں رکھتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رک کر سوچیں۔ کیا شادی واقعی ایک نمائش ہے؟ یا یہ ایک سادہ، مقدس اور بابرکت بندھن ہے جسے آسانی سے ادا کیا جانا چاہیے؟ اگر ہم سکون چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ شادی کے موقع پر سادگی کو اپنانا ہو گا، غیر ضروری رسومات کو ترک کرنا ہو گا اور معاشرے میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنا ہو گا۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کو بوجھ نہ بنائیں۔ ان کے رشتے اپنی حیثیت سے اونچی جگہ کریں گے تو تنگ ہو جائیں گے۔ حیثیت کی بجائے شرافت کو معیار کا پیمانہ بنائیں۔ یہاں نوجوان نسل پر سب سے زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ شادی کے مقدس بندھن میں بندھنے والے نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ سادہ شادی کو فخر سمجھیں، اسے محرومی نہ سمجھیں۔ علمائ، اساتذہ، میڈیا اور معاشرتی رہنما اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے سیاسی راہنما اگر اپنی اولاد کی شادی کرتے وقت سادگی کو اپنائیں گے تو عوام کے رول ماڈل ہونے کی وجہ سے لوگ ان کی تقلید کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کریں گے۔ تاجر طبقے اور بڑے زمینداروں کو بھی شادی کے موقع پر سادگی اپنا کر عام لوگوں کے لیے مثال بننا چاہیے تاکہ شادی کو دوبارہ اس کی اصل روح کے مطابق آسان اور بابرکت بنایا جا سکے۔

آئیے! عہد کریں کہ ہم اپنی اور آنے والی نسلوں کی آسانی کے لیے اس فرسودہ نمائشی کلچر کو خیرباد کہیں گے اور سادہ شادی کو فروغ دیں گے تاکہ کوئی بیٹی صرف اس لیے گھر نہ بیٹھی رہے کہ اس کے والدین نمود کی اس دوڑ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ یہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے اور یہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔

جواب دیں

Back to top button