Columnمحمد مبشر انوار

اعتراف شکست

اعتراف شکست

محمد مبشر انوار

مشرق وسطیٰ کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال نے دنیا کو تذبذب میں مبتلا کر رکھا ہے اور کسی کو علم نہیں کہ مستقبل قریب میں کیا ہو گا؟ دنیا کس رخ پر جائیگی اور اس کی ہیئت و نوعیت کیا ہو گی؟ کیا موجودہ تہذیب و تمدن و ترقی قائم رہ پائے گی یا یہ دنیا کھنڈرات کا منظر پیش کرے گی اور کیا یہ وقت آخرت کی نشانی ہے یا واقعی وقت آخرت آن پہنچا ہے؟ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طاقتور فریق اپنی طاقت کے زعم میں بدمست ہاتھی کی مانند، ایک مجبور، بے کس اور بے بس ملک پر یلغار اس امید پر کرتا ہے کہ اس کو پہلے ہی پابندیوں میں جکڑ چکے لہذا یہاں سے کسی ردعمل کی توقع ہی نہیں اور دندناتے ہوئے جائیں گے اور اس کو نیست و نابود کر دیں گے یا اس پر قابض ہو جائیں گے یا اپنے تئیں یہ توقع کہ وہ لڑے بغیر ہتھیار ڈال کر جارح کو خوش آمدید کہیں گے۔ کس قدر غلط فہمی کا شکار اور اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں سے روگردانی کی گئی اور ایک مسلمہ ریاست کی سالمیت و خود مختاری کو بلا جواز جارحیت کا نشانہ بنایا گیا لیکن آفرین چھ ہزار سال پرانی تہذیب اور قوم پر، جو مشکل حالات میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی اور ایسی ہلائی دیوار کی مانند جارح دشمن کے ارادوں کو دھول چٹا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ، گو کہ ایران کا شدید ترین نقصان ہو رہا ہے لیکن جوابی کارروائیوں کے اثرات کو کسی بھی صورت کم نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ کے لے پالک اسرائیلی درندوں کو دن میں تارے نظر آ رہے ہیں اور انہیں بخوبی علم ہو رہا ہے کہ کسی دوسرے کے گھر کو جلانے کا درد کیا ہو تا ہے؟ اسرائیلی درندوں نے گو اپنے تئیں قبل از وقت ہی محفوظ پناہ گاہیں تیار کر رکھی تھی کہ کسی بھی ایسے حملے کی صورت فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم و محفوظ ہوا جا سکے لیکن طاقت کے نشے میں چور قومیں ہمیشہ دوسرے کو کمتر و کمزور سمجھنے کی غلطی کرتی ہیں اور جنگ میں دشمن کو کمتر و کمزور سمجھنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا بلکہ اس کے سنگین نتائج بھگتتا ہے، بعینہ یہی صورتحال اس وقت اسرائیل و امریکہ کی دکھائی دیتی ہے۔ اپنے طور پر جن پناہ گاہوں کو محفوظ تصور کیا جاتا رہا اور جسے زندگی کی ضمانت سمجھا گیا، وہ بنکرز بھی کسی طور محفوظ نہیں اور ایرانی ڈرونز اور میزائل، ان محفوظ بنکرز کو ویسے ہی تباہ کر رہے ہیں جیسا حزب اللہ کے قائد حسن نصر اللہ کا بنکر تباہ ہوا تھا، ویسے ہی اسرائیلیوں کو بنکرز میں موت کا مزہ چکھنا پڑ رہا ہے جیسے حماس کے کئی مجاہد اس کا مزہ چکھ چکے ہیں۔

ایران پر بلا جواز جنگ مسلط کرنے، ویسے تو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اور دیگر خطوں میں جنگیں بلا جواز اور اپنے مقاصد و مفادات ک لے حصول میں ہی مسلط کی گئی ہیں، پر بالفرض ایرانی قوم میں نظام سے متعلق پائے جانے والے تحفظات یا نفرت، یکلخت حمایت میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ایرانی قوم کی جانب سے جس روئیے کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک زندہ قوم کی نشانی ہے کہ وہ پہلے متحد ہو کر بیرونی دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لئے، سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں جبکہ اندرونی معاملات جنگ کے بعد طے کرتے دکھائی دینے پر متفق نظر آتے ہیں۔ لہذا جارحیت کرنے والوں کو لینے کے دینے پڑ چکے ہیں اور وہ جو ایک ہفتہ کے اندر اندر اس جنگ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے دعویدار تھے، جنگ کی دلدل میں ایسے دھنسے ہیں کہ آگے کنواں، پیچھے کھائی دکھائی دے رہی ہے، ایرانی سپریم لیڈر کو شہید کرنے کے بعد ، جن کی تدفین غالبا تاحال نہیں کی گئی کہ کم ظرف دشمن کی طرف سے یہ خدشہ بہرحال موجود ہے کہ وہ اس جنازے کو بھی نشانہ بنائے گا، دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس کا ایک مقصد حاصل ہو چکا اس لئے وہ کسی بھی وقت اپنی من پسند شخصیت، جو یقینی طور پر ایک غلام ہوتا اور امریکی اشاروں پر ایک کٹھ پتلی کی مانند عمل کرتا، کو مسند اقتدار پر بٹھا کر دیگر مقاصد کو حصول ممکن بنایا جاتا لیکن شو مئی قسمت کہ ایران کے شہید سپریم لیڈر نے قبل از وقت ہی ایسے انتظامات کر دئیے کہ قیادت کو مستقل و قائم رکھنے کے لئے ہر سطح پر، چار چار متبادل قیادتوں کو نامزد کر دیا گیا تا کہ قیادت کا تسلسل قائم رہے اور دشمن کو قیادت میں کوئی دراڑ نہ ملے۔ یہ عمل اس وقت پوری طرح ایران میں نافذ العمل ہے اور کسی ایک شخصیت کی شہادت کے بعد طے کردہ نظام کے مطابق نئی قیادت سامنے آ جاتی ہے اور کسی قسم کا خلل قیادت میں دکھائی نہیں دیتا لہذا دشمن کا یہ دعویٰ کہ اس نے ایرانی قیادت ختم کر دی ہے رجیم چینج کر دیا ہے، ایک باطل دعوی سے زیادہ نہیں بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ نئی قیادت نہ صرف زیادہ پرجوش ہے بلکہ جارح مزاج بھی ہے اور جو نقصان امریکہ کی جانب سے ایران کا کیا گیا ہے، اس کا مداوا یا انتقام لئے بغیر جنگ ختم کرنے پر قائل دکھائی نہیں دیتی۔

یہی وجہ ہے کہ جب امریکہ کی جانب سے ایرانی توانائی پلانٹس پر حملوں کی بات کی گئی تو ردعمل میں ایران نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اگر ایسی کوئی حرکت امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ہوئی تو ایران فوری طور پر پورے خطے کو اس سے محروم کر کے امریکہ اور اس کے سہولت کاروں کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرے گا گو کہ یہ عمل بذات خود ایک جنگی جرم ہے مگر اس کی ابتداء امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ہو گی۔ یہاں اس امر کا اظہار کرنا ازحد ضروری ہے کہ اس جنگ میں ایک طرف ایران نے ردعمل کے طور پر خطے میں صرف ان اہداف کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے امریکہ و اسرائیل کو سہولت کاری میسر تھی تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے ممالک کے صبر و تحمل کو داد نہ دینا بھی زیادتی ہو گی کہ انہیں علم ہے کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ اس پر جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں کے اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، زبانی کلامی انتباہ سے کام لیا ہے اور جوابی ردعمل نہ دے کر تاحال صورتحال کو کنٹرول میں ہی رکھا ہے البتہ امریکہ و اسرائیل کی یہ شدید ترین خواہش ہے کہ کسی طرح مشرق وسطیٰ کے ممالک اس جنگ میں براہ راست کود جائیں۔ امریکہ و اسرائیل کی اس خواہش کے برعکس مشرق وسطیٰ کے ممالک کا ردعمل مدبرانہ و دانشمندانہ دکھائی دیتا ہے کہ عربوں کے خیمے میں تحفظ کے نام پر گھسا امریکی اونٹ، ماسوائے ان کے وسائل ہڑپ کرنے کے کچھ نہیں کر رہا بلکہ ان ممالک میں بیٹھ کر، اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود خود اپنے اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکا تو عرب ریاستوں کا تحفظ کیسے اور کیونکر کر پائے گا؟ لہذا یہ تصور کرنا کہ عرب اس صورتحال کے پس منظر میں اپنے خیمے سے، امریکی اونٹ کو نکال باہر کریں، بعید از قیاس نہیں اور یوں اپنے خیمے کو اس اونٹ سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائیں، جس نے عرب ریاستوں کو تحفظ کے حوالے سے مفلوج کر رکھا ہے۔ بہرکیف اس کے باوجود، امریکہ و اسرائیل کی حالت اس وقت تک انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے اور رجیم چینج جیسا بنیادی مقصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد، دیگر مقاصد کا حصول، ’’ ہنوز دلی دور است‘‘ والی بات دکھائی دیتی ہے کہ ایرانی تنبیہ اور کارکردگی کے بعد، امریکہ و اسرائیل پیچھے ہٹتے دکھائی دے رہے ہیں اور امریکہ کی جانب سے پندرہ نکاتی تجاویز برائے مذاکرات پیش کرنا، اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکی منصوبہ بندی و تخمینے میں بہرحال ایسے سقم موجود ہیں کہ وہ اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ کی جانب سے توانائی پلانٹس پر پانچ دن کے لئے حملے روکنا اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی کوشش کرنا، یہ سب ہوش ٹھکانے لگنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا ہے کہ امریکہ ہر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی میں بھی مذاکرات کی آڑ میں پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے لہذا اس مرتبہ ایران جسے کسی جھانسے میں نہیں آئیگا بلکہ اب جنگ بندی ایرانی شرائط اور وقت کے مطابق ہو گی وگرنہ جنگ جاری رہے گی۔ تادم تحریر ٹرمپ کی جانب سے دیئے گئے پانچ دنوں کا وقت، ختم ہونے سے قبل ہی، ٹرمپ نے اس میں یکطرفہ طور پر دس دن کی مزید توسیع کا اعلان کر دیا ہے جس پر ایرانی ردعمل کا انتظار ہے لیکن اس کایا پلٹ کو بہرطور امریکہ کی جانب سے اعتراف شکست ہی تصور کیا جائے گا کہ ایران امریکہ کو فیس سیونگ دیتا دکھائی نہیں دیتا، واللہ اعلم بالصواب۔

جواب دیں

Back to top button