ادھار کی سانسیں

ادھار کی سانسیں
قادر خان یوسف زئی
’’ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘۔ یہ محض کوئی کتابی جملہ یا طاقِ نسیاں کی زینت بننے والی عبارت نہیں، بلکہ کائنات کی وہ واحد اور غیر متزلزل سچائی ہے جس کے سامنے فرعونِ وقت کے غرور بھی مٹی میں مل جاتے ہیں۔ ہم سب اس دنیا کے عارضی اور پرفریب مسافر خانے میں اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں، مگر زندگی کی اندھی دوڑ، مادی خواہشات کے سراب اور روزمرہ کے جھمیلوں میں ہم اس اٹل حقیقت کو یوں فراموش کر بیٹھتے ہیں گویا ہمیں یہاں ہمیشگی کا پروانہ مل چکا ہو۔ لیکن جب یہ حقیقت اچانک، بغیر کسی دستک کے، آپ کے سامنے آ کر کھڑی ہو جائے، تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ اس کیفیت کا اندازہ لگانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، مگر میں۔۔۔ میں نے اس ذائقے کو ایک بار نہیں، دو بار اپنے حواس پر طاری ہوتے دیکھا ہے۔
برسوں قبل، جب موت نے پہلی بار میرا رستہ روکا تھا، تو اس کا انداز بڑا وحشت ناک، سفاک اور شوریدہ سر تھا۔ مجھے آج بھی اپنے حواس کے پردوں پر وہ منظر یاد ہے جب بارود کی بو نے میری سانسوں کا گھیرائو کیا اور سنسناتی ہوئی گولیاں میرے گوشت پوست کے وجود کو چیرتی ہوئی نکل گئی تھیں۔ وہ ایک ایسا لمحہ تھا جب موت ایک وحشی درندے کی طرح میرے سامنے کھڑی رقص کر رہی تھی اور زندگی کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح دور کھڑی کانپ رہی تھی۔ خون میں لت پت اس زمین پر گرتے ہوئے میں نے موت کو اتنا قریب سے محسوس کیا تھا کہ اس کی سردی میری ہڈیوں تک اتر گئی تھی۔ لیکن پروردگار کا معجزہ اور اس کی قدرت کہ اس نے مجھے اس مقتل سے بھی زندہ سلامت نکال لیا۔ وہ میری زندگی کا پہلا ’’ ادھار‘‘ تھا، موت کے خونخوار جبڑوں سے چھین کر لائی گئی ایک ایسی مہلت جس نے مجھے بتایا کہ انسان کی اوقات کس قدر حقیر اور میرا رب کس قدر قادرِ مطلق ہے۔
میں سمجھتا تھا کہ موت سے ایک بار اس قدر ہولناک ملاقات کے بعد، شاید مجھے اس کا خوف نہ رہے، یا شاید میں زندگی کے اس پرفریب جال کو مکمل طور پر سمجھ چکا ہوں۔ ایک قلم کار کی حیثیت سے، خبروں کی اندھی دوڑ، معاشرے کی تلخ حقیقتوں، سیاسی بساط کی مکاریوں اور ظلم کے خلاف لفظوں کی جنگ لڑتے لڑتے، میں یہ بھول ہی گیا کہ ایک اور محاذ میرے اپنے وجود، میرے اپنے سینے کے اندر بھی سلگ رہا ہے۔ اور پھر وہ دن آیا جب موت نے کوئی شور نہیں مچایا، کسی بندوق کی نالی سے آگ نہیں اِگلی، کوئی خون نہیں بہا، بلکہ ایک خاموش، سرد اور آہنی شکنجے کی طرح میرے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ سینے اور سر پر پڑنے والا وہ اچانک بوجھ، وہ جان لیوا جکڑن، شدید تکلیف کا ناقابل برادشت لمحہ، پسینے میں ڈوبتا ہوا جسم اور سانسوں کی وہ اکھڑتی ہوئی ڈور۔۔۔ یہ ہارٹ اٹیک محض دل کی شریانوں کا بند ہونا نہیں تھا، بلکہ یہ ان تمام سماجی دبا، تفکرات، تلخیوں اور رنجشوں کا لاوا تھا جو برسوں سے میرے اندر پک رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ دوسری بار موت کا ذائقہ چکھنے کا مرحلہ پہلے سے کتنا مختلف اور کتنا عجیب ہے۔ گولی کا زخم جسم پر لگتا ہے، وہ معاشرے کی کھلی درندگی کا ثبوت ہوتا ہے، لیکن دل کا دورہ انسان کی روح کو نچوڑ لیتا ہے، یہ اس خاموش درندگی کا نتیجہ ہوتا ہے جو معاشرہ دبائو کی صورت میں انسان پر مسلط کرتا ہے۔
انجیو گرافی کے عمل سے گزرتے ہوئے، جب سکرین پر دل کی بند شریانوں کا عکس ابھرا تو مجھے یوں لگا جیسے یہ صرف خون کے لوتھڑے یا کولیسٹرول کی تہیں نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ تمام اندیشے ہیں جو میں نے اس منافق معاشرے میں سچائی کی تلاش میں سہے ہیں۔ یہ وہ پریشانیاں ہیں جو ایک عام انسان، ایک سفید پوش شخص اپنے بچوں کے مستقبل، معاشی عدم استحکام اور روزمرہ کی مہنگائی کے عفریت سے لڑتے ہوئے اپنے دل پر جھیلتا ہے۔ میرے اندر احساسات کا ایک ایسا طوفان برپا تھا جسے لفظوں میں ڈھالنا شاید کسی بھی قلم کار کے لیے سب سے کٹھن مرحلہ ہو۔ دو بار موت کی دہلیز کو چھو کر لوٹنے والا انسان زندگی کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ یہ وہ کیفیت ہے جس کے احساسات کو بیان نہیں کر سکتا۔ اس بسترِ علالت سے جب میں اس معاشرے کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے اردگرد بھاگتے دوڑتے، ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے، ایک دوسرے کے حقوق غصب کرتے اور مادیت کی اندھی ہوس میں مبتلا لوگ کسی سراب کے پیچھے بھاگتے ہوئے سائے محسوس ہوتے ہیں۔ ہم نے کیسا بے حس معاشرہ تخلیق کر لیا ہے؟ جہاں انسان کو گولیوں سے چھلنی کرنا جتنا آسان ہے، اسے ذہنی، معاشی اور اعصابی دبا سے مارنا اس سے بھی زیادہ سہل ہو چکا ہے۔
ہمارے دل اتنی جلدی کیوں ہار مان رہے ہیں؟ اس لیے کہ ہم ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔ عدم برداشت، اپنوں کی بے حسی، ریاکاری اور سچ بولنے کی وہ بھاری قیمت جو اس سماج میں چکانی پڑتی ہے، یہ سب وہ خاموش قاتل ہیں جو ہمارے دلوں کو وقت سے پہلے ہی موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔ ہم روز مسکراتے چہروں، استری شدہ کپڑوں اور جھوٹے وقار کے ساتھ گھروں سے نکلتے ہیں، مگر اندر سے ہم ایک ایسی اذیت ناک جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں جس کا علم صرف ہمارے رب کو ہوتا ہے۔ ہمارے دل کی شریانوں میں پیدا ہونے والی یہ رکاوٹ دراصل ان آنسوئوں کا مجموعہ ہے جو ہم نے کبھی بہنے نہیں دئیے، ان چیخوں کا مدفن ہے جو ہم نے سماجی دبائو کے ڈر سے گلے میں ہی گھونٹ دیں۔ آج کا انسان اپنے دکھ بانٹ نہیں سکتا، کیونکہ سننے والے کان اور درد محسوس کرنے والے دل اس معاشرے سے نایاب ہو چکے ہیں۔
مجھے جو یہ کچھ وقت مزید ملا ہے، یہ ادھار کی سانسیں جو دوسری مرتبہ میرے سینے میں اتاری گئی ہیں، ہم سب اس دنیا کے مقتل میں اپنی اپنی باری کے منتظر کھڑے ہیں۔ اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ آپ کے دل کی دھڑکنوں کو ہمیشہ کے لیے منجمد کر دے، زندگی کو اس کی حقیقی خوبصورتی، ہمدردی، محبت اور سچائی کے ساتھ جینا سیکھ لیں۔ میں، جس نے بارود کی تپش اور دل کے دورے کی سردی، دونوں کو اپنے وجود پر سہا ہے، یہ گواہی دیتا ہوں کہ جب وقتِ آخر آن پہنچتا ہے، تو انسان کے پاس اس کی کمائی ہوئی محبتوں، بانٹی گئی آسانیوں اور نیکیوں کے سوا کوئی زادِ راہ نہیں ہوتا۔ یہ زندگی ایک امانت ہے، اسے دبا اور ہوس کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے، اسے انسانوں سے محبت کرنے کا ذریعہ بنائیے۔ موت کا ذائقہ تو ایک دن پھر چکھنا ہے، اور شاید تیسری بار کوئی مہلت نہ ملے اور آپ سے بات بھی نہ ہوسکے۔ بس میرے لئے دعا کیجئے۔





