امن کیلئے پاکستان کا متحرک کردار

امن کیلئے پاکستان کا متحرک کردار
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی اور بے یقینی صورت حال کا شکار ہے، جہاں ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنا نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کا کردار ایک ذمے دار اور امن پسند ریاست کے طور پر نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ فعال سفارتی کوششوں کے ذریعے امن کے قیام کے لیے کوشاں بھی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن، اعتدال اور امن کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ موجودہ بحران میں بھی یہی اصول واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار اور ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نہ صرف اہمیت دیتا ہے بلکہ انہیں مضبوط بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے، جو اس کی دانش مندانہ سفارت کاری کی علامت ہے۔ موجودہ صورت حال میں سب سے اہم پہلو پاکستان کی وہ پیشکش ہے جس کے تحت وہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور عملی قدم ہے، جو پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں براہِ راست بات چیت سے گریزاں نظر آتی ہیں، پاکستان کا یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں دراصل اس کے وسیع تر وژن کا حصہ ہیں، جس میں خطے کو تنازعات سے پاک اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنے کی خواہش شامل ہے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہے بلکہ معاشی ترقی کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور افہام و تفہیم پر زور دے رہا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ ایک ذمے دار ریاست کے طور پر پاکستان نے ہمیشہ امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ افغانستان کا معاملہ ہو یا دیگر علاقائی تنازعات۔ موجودہ بحران میں بھی پاکستان کا موقف واضح ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی اور اسٹرٹیجک نوعیت کے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ایک فطری عمل ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا اور ایران امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ایک نہایت نازک مگر اہم ذمے داری ہے، جسے پاکستان بخوبی نبھا رہا ہے۔ خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات پر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اظہارِ تشویش اس بات کا ثبوت ہے کہ صورت حال انتہائی سنجیدہ ہے۔ اگر اس کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی قیادت کا یہ موقف بھی قابلِ تحسین ہے کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کے لیے بھی تیار ہے۔ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش، فریقین کو قریب لانے کی کوششیں اور عالمی برادری کے ساتھ رابطے یہ سب اقدامات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان امن کے قیام میں سنجیدہ اور مخلص ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو خود بھی متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی مسائل، توانائی کا بحران اور سیکیورٹی خدشات ایسے عوامل ہیں جو توجہ کے متقاضی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کا عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کرنا اس کی بالغ نظری اور ذمے داری کا مظہر ہے۔ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، جو نہ صرف پاکستان کے وقار میں اضافہ کرے گی بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار ’’ امن کے سفیر‘‘ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھی پاکستان کی ان کوششوں کا ساتھ دے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہی اور نہ ہی آئندہ ہو سکتی ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور پاکستان اسی راستے پر گامزن ہے۔
پاک چین بحری مشق سی گارڈین4 کا آغاز
پاکستان اور چین کے درمیان بحری تعاون حالیہ برسوں میں خطے کی سیکیورٹی اور اسٹرٹیجک توازن کے لیے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ سی گارڈین مشق کا چوتھا مرحلہ اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کی بحری صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ عزم کو بھی واضح کرتا ہے۔ حال ہی میں چین کے جہاز داقنگ کی آمد اور پاک بحریہ کی جانب سے اس کا پرتپاک استقبال اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ گہرے اعتماد اور عملی شراکت داری پر مبنی ہیں۔ اس طرح کی مشترکہ مشقیں پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے ساتھ جدید بحری چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہیں۔ سی گارڈین مشق کے دوران گن فائرنگ، مشترکہ گشت اور میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز جیسی سرگرمیاں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پاکستان اور چین نہ صرف دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں بلکہ سمندری راستوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں جہاں سمندری تجارت عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، وہیں ایسے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مزید برآں، ہاربر اور سمندری مراحل کے ساتھ ماہرین کے درمیان تبادلہ خیال اور نوجوان افسران کے لیے سیمینارز کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مشق صرف عسکری سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ علمی اور پیشہ ورانہ ترقی کا ذریعہ بھی ہے۔ اس سے نئی نسل کے افسران کو عالمی معیار کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے جو مستقبل میں بحری قوت کو مزید مضبوط بنائے گا۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاک چین بحری تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دونوں ممالک کا مشترکہ پیغام واضح ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کے بجائے امن، استحکام اور باہمی احترام کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سی گارڈین مشق نہ صرف دفاعی تعاون کی ایک مثال ہے بلکہ یہ اس وسیع تر وژن کی عکاسی بھی کرتی ہے جس کے تحت پاکستان اور چین ایک محفوظ، مستحکم اور خوش حال خطہ چاہتے ہیں۔ ایسی مشقیں مستقبل میں بھی جاری رہنی چاہئیں تاکہ باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید فروغ ملے۔ ایک مضبوط بحری شراکت خطے کے امن کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے۔





