Column

بگ بینگ سے پہلے: وقت، جگہ اور وجود کی حقیقت

بگ بینگ سے پہلے: وقت، جگہ اور وجود کی حقیقت
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
انسان ہمیشہ سے یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، کائنات کی ابتدا کب ہوئی، اور اس سے پہلے کیا تھا۔ جدید سائنس نے ہمیں کائنات کے ارتقا کے بارے میں بے مثال معلومات دی ہیں، لیکن بگ بینگ سے پہلے کا منظر نامہ ابھی بھی ایک راز ہی رہا ہے۔
بگ بینگ تھیوری کے مطابق تقریباً 13.8ارب سال پہلے کائنات انتہائی گرم، گھنی اور غیر مستحکم حالت میں تھی۔ اس لمحے کے بعد کائنات نے پھیلنا شروع کیا، جس سے ستارے، سیارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔
بگ بینگ کے شواہد
کائناتی مائیکروویو بیک گرائونڈ ریڈی ایشن (CMB): یہ تابکاری بگ بینگ کے بعد بچا ہوا ’’ گرم اثر‘‘ ہے، جو پوری کائنات میں یکساں پایا جاتا ہے۔ 1965ء میں آرنو پینزئاس اور رابرٹ ولسن نے اس کی دریافت کی، جس سے بگ بینگ کی پیش گوئی کو مضبوط شواہد ملے۔
کہکشائوں کی دوری اور ریڈ شیفٹ: ایڈون ہبل نے 1929ء میں مشاہدہ کیا کہ دور کی کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں۔ اس ریڈ شیفٹ سے معلوم ہوا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، جو بگ بینگ کے آغاز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہائیڈروجن اور ہیلیم کی مقدار: ابتدائی نیوکلیوسنتھیسس کے دوران ہائیڈروجن، ہیلیم اور لیتھیم کی مقدار ماپا گئی۔ یہ موجودہ مشاہدات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے، جو بگ بینگ کے آغاز کا ثبوت ہیں۔
سائنس یہاں رک جاتی ہے: ’’ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟‘‘۔
اگر وقت اور جگہ بگ بینگ کے ساتھ پیدا ہوئے، تو ’’ اس سے پہلے‘‘ کا کوئی مطلب نہیں۔
کچھ جدید نظریات یہ تجویز کرتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے بھی کچھ حالات یا کوانٹم ارتعاش موجود تھے، لیکن یہ تجرباتی طور پر ثابت نہیں ہیں۔
سائنس کے جدید ماڈلز کوانٹم کاسمولوجی، کوانٹم میکینکس کے مطابق خلا خالی نہیں ہوتا۔ یہاں توانائی کے چھوٹے اتار چڑھائو (quantum fluctuations)ہوتے ہیں، جو بگ بینگ کے آغاز کا سبب بن سکتے ہیں۔
کوانٹم فلکچویشن: خلا میں توانائی کے چھوٹے اتار چڑھائو ایک بڑے دھماکے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ایورلاسٹک یونیورس ماڈل: کائنات ہمیشہ سے موجود رہی، اور بگ بینگ ایک عارضی حالت تھی، نہ کہ آغاز۔
ملٹی یونیورس تھیوری: ہماری کائنات ایک ممکنہ کائنات ہے، اور دیگر کائناتیں الگ قوانین کے ساتھ موجود ہو سکتی ہیں۔
دائمی یا سائیکلک کائنات
بعض ماڈلز میں کائنات مسلسل پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہے۔ ہر بگ بینگ ایک نیا مرحلہ ہوتا ہے، اور موجودہ بگ بینگ اس سائیکل کی ایک کڑی ہے۔
بگ بینگ سے پہلے کے امکانات
وقت اور جگہ موجود نہیں تھے، صرف’’ لامحدود امکان ‘‘ موجود تھا۔
کائنات کی ابتدائی حالت کو کوانٹم اتار چڑھائو یا دائمی سائیکل سے سمجھا جا سکتا ہے۔
ملٹی یونیورس یا متوازی کائناتیں ہمارے بگ بینگ سے پہلے بھی موجود ہو سکتی ہیں۔
فلسفیانہ زاویہ اور وجود کی اصل
سائنس کے محدود دائرہ کار کے باوجود، فلسفہ اور وجودیات بگ بینگ سے پہلے کے تصور پر غور کرتے ہیں۔ فلسفی سوالات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کائنات کا آغاز محض طبیعی عمل نہیں، بلکہ وجود کی گہری حقیقت سے بھی جڑا ہے۔
وجود کی لازمی حقیقت
ارسطو نے ’’ لازمی وجود‘‘(Necessary Being)کا تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق:’’ کچھ وجود کی لازمی شرط ہے، جس کے بغیر کائنات کی کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی ‘‘، یہ لازمی وجود خود کائنات سے ماورا ہے اور ہر تخلیق کی بنیاد ہے۔ بعد میں فلسفیوں نے اس تصور کو مختلف زاویوں سے سمجھانے کی کوشش کی: تھامس ایکوئنس کے بقول لازمی وجود خدا کے ساتھ جڑا ہے، جو کائنات کی تخلیق اور اس کے قوانین کا سرچشمہ ہے۔ لیبنیز کہتا ہے کہ ہر موجود ’’ کسی نہ کسی وجہ‘‘ سے موجود ہے، اور اس کی آخری وجہ لازمی اور خود موجود ہونا چاہئے۔ کچھ فلسفی نظریات کے مطابق وقت لامحدود ہے، اور بگ بینگ محض کائنات کے ایک مرحلے کی شروعات تھی: اگر وقت کا کوئی آغاز نہیں، تو ’’ بگ بینگ سے پہلے‘‘ کا تصور محض ہمارے محدود شعور کا مسئلہ ہے۔
کائنات کے قوانین اور توانائی کے ارتقاء کے دائمی پہلو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کائنات کی ابتدا صرف ایک لمحہ نہیں بلکہ ایک سلسلہ ہے۔
بعض فلسفی بگ بینگ سے پہلے کو ’’ لامکمل وجود‘‘ یا غیر مادی حالت کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔
یہ نظریہ ہمیں انسانی شعور سے ماورا ایک حقیقت کے تصور کی طرف لے جاتا ہے، جو سائنس کے ڈیٹا سے ظاہر نہیں ہوتی، لیکن فلسفیانہ تجزیہ اس کی اجازت دیتا ہے۔
روحانیت اور مذہبی نظریات بگ بینگ سے پہلے کے سوال کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں، جہاں ارادی تخلیق، ماورائی وجود اور کائنات کی تقدیر پر زور دیا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ بعض آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ:اللہ نے کائنات کو ایک منصوبے کے مطابق پیدا کیا۔ بگ بینگ یا کسی بھی تخلیقی عمل سے پہلے صرف اللہ کا وجود تھا، جو وقت اور جگہ سے ماورا ہے۔
اس کا فلسفیانہ مفہوم یہ ہے کہ کائنات کا آغاز ارادی تخلیق کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض طبیعی عمل۔
ہندو مت میں کائنات کو دائمی سائیکل کے طور پر دیکھا جاتا ہے:
تخلیق
استحکام
انحطاط
دوبارہ تخلیق
یہ سائیکل لامتناہی ہے، جس میں بگ بینگ ہر بار ایک نئے مرحلے کی شروعات ہے۔
مسیحی و یہودی نکتہ نظر یہ ہے کہ خدا نے کائنات کو اپنی مرضی سے خلق کیا، اور بگ بینگ اس تخلیق کا ایک فزیکل اظہار ہو سکتا ہے۔
تخلیق سے پہلے صرف خدا کا وجود تھا، جو ہر ممکن حقیقت سے ماورا ہے۔
انسان بگ بینگ سے پہلے کے راز کے بارے میں سوچتے ہوئے دو بڑے احساسات محسوس کرتا ہے:
یہ جان کر کہ ہماری کائنات کی ابتدائی حالت کی حقیقت ابھی مکمل طور پر معلوم نہیں، انسان اپنی محدود عقل اور شعور کا احساس کرتا ہے۔
سائنس، فلسفہ اور روحانیت سب کا مقصد ایک ہی ہے: وجود کے اسرار کو سمجھنا، اور یہ تسلیم کرنا کہ کائنات کی اصل حقیقت انسان کی محدود عقل سے بالاتر ہے۔
موجودہ سائنسی، فلسفی اور روحانی نظریات کو ملا کر کچھ ممکنہ منظرنامے یہ ہیں:
وقت و جگہ کی عدم موجودگی
بگ بینگ سے پہلے وقت اور جگہ موجود نہیں تھے، صرف لامحدود امکان موجود تھا
عمومی نظریہ اضافیت، فلسفہ
کوانٹم خلاء ؍ فلکچویشن
خلا میں توانائی کے اتار چڑھائو ایک بڑے دھماکے میں تبدیل ہو سکتے ہیں
کوانٹم کاسمولوجی
دائمی یا سائیکلک کائنات
کائنات مسلسل پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہے، ہر بگ بینگ ایک نیا مرحلہ ہے
سائیکلک ماڈل
ملٹی یونیورس
ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں موجود ہیں، ہر ایک کے قوانین الگ ہیں
مٹی یونیورس تھیوری
روحانی ؍ تخلیقی منظر
بگ بینگ ایک ارادی تخلیق کا نتیجہ تھا، اور اس سے پہلے صرف ماورائی یا الٰہی وجود موجود تھا
مذہبی نقطہ نظر
بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟
سائنس: وقت اور جگہ بگ بینگ کے ساتھ شروع ہوئے، بگ بینگ سے پہلے کا کوئی تجرباتی تصور موجود نہیں۔فلسفہ: کچھ لازمی وجود یا ابتدائی حقیقت موجود تھی، جو کائنات کی بنیاد بنی۔
روحانیت: تخلیق ایک ارادی عمل تھا، اور بگ بینگ سے پہلے صرف الٰہی یا ماورائی وجود موجود تھا۔
یہ سوال ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کائنات نہ صرف عظیم ہے بلکہ انسانی عقل کے پرے بھی ہے، اور ہر نئی دریافت ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button