پاک فوج، قوم کا مضبوط ستون

پاک فوج، قوم کا مضبوط ستون
پاکستان اپنے قیام سے ہی داخلی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ہماری سب سے بڑی طاقت ہمیشہ ہماری متحد قوم اور پاک فوج رہی ہے، جو ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں دہشت گردی اور اندرونی و بیرونی سازشی عناصر ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہاں پاک فوج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کر رہی بلکہ ملک کے اندر امن قائم رکھنے کے لیے بھی اپنا ہر ممکن کردار ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے دئیے گئے بیان نے نہ صرف عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی بلکہ ایک اہم حقیقت کو بھی نظرانداز کیا کہ پاکستان کی سیاست اور فوج کے تعلق میں ایک واضح حد اور تقدس موجود ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس بیان کو انتہائی افسوس ناک اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے اور یہ واضح کیا کہ سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہر پاکستانی کو سمجھنی چاہیے کہ پاک فوج کسی بھی سیاسی مفاد کی آڑ میں ملوث نہیں، بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف ملک کی حفاظت اور عوام کی خدمت ہے۔ پاک فوج نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی اور خارجی سازشوں کی خلاف کامیابی کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑتا ہے۔ دہشت گردی صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ قوم کی جنگ ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور دیگر بیرونی عناصر کا ہاتھ ہے، جو پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا واحد راستہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ہے، جو ہر شہری اور ادارے کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔ حالیہ دہشت گردی اور ترلائی امام بارگاہ جیسے حملوں نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی کی تربیت افغانستان جیسے ممالک میں دی جاتی ہے اور داخلی عناصر بھی ان کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بار جب پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، وہ شکست کھا گئے۔ فتنوں کے خلاف آپریشنز نہ صرف دہشت گردوں کو کمزور کرتے ہیں بلکہ عوام میں اعتماد اور امید بھی بحال کرتے ہیں۔ پاک فوج کی سب سے بڑی کامیابی صرف دشمن کے مقابلے میں نہیں بلکہ داخلی فتنوں کے خاتمے میں بھی نظر آتی ہے۔ بلوچستان کے مسئلے سے لے کر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی تک، فوج نے ہر محاذ پر عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر امن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے پیچھے جو مالی وسائل اور منصوبہ بندی تھی، وہ ناکام ہو چکی ہے۔ ایران سے ہونے والی غیر قانونی تیل کی اسمگلنگ کا خاتمہ اور اس سے ہونے والے دہشت گرد اخراجات کا خاتمہ بھی اس کی ایک روشن مثال ہے۔ پاک فوج نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ گڈ گورننس، قانون کی بالادستی اور عوامی شمولیت ہی وہ بنیادی ستون ہیں جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کر سکتے ہیں۔ احساس محرومی اور غربت کا فائدہ اٹھا کر دہشت گردی پھیلانے والوں کو عوام پہلے ہی پہچان چکے ہیں۔ یہ عوامی شعور اور فوج کی قربانی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ فوج اور عوام کا رشتہ کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ تعلیمی اداروں میں فوج کے دورے، نوجوانوں میں قومی جذبے کی بیداری اور دہشت گردی کے خلاف آگاہی یہ واضح کرتی ہے کہ پاکستانی قوم ہر مشکل وقت میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ یہ رشتہ صرف فوج اور عوام کے درمیان نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ پاکستانی سیاست میں قائدین کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک کی افواج کے کردار اور قربانیوں کا احترام کریں۔ فوج نے کبھی بھی کسی سیاسی جماعت کے مفاد میں اقدامات نہیں کیے، بلکہ اس کا مشن ہمیشہ ملک اور عوام کی خدمت رہا ہے۔ فوج اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ہی ملکی سالمیت اور ترقی کی ضمانت ہے۔ ہر سیاسی مسئلے کو آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور فوج کو سیاست میں گھسیٹنا نہ صرف غیر مناسب بلکہ ملک کے مفاد کے خلاف بھی ہے۔ اس وقت جب پاکستان دہشت گردی، سرحدی خطرات اور داخلی فتنوں کا سامنا کر رہا ہے، فوج کے کردار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ہم اپنے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سیاست، صوبائیت یا لسانیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونا چاہیے بلکہ متحد ہو کر دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانا چاہیے۔ پاک فوج کے ساتھ ہر پاکستانی کی شراکت، چاہے وہ افسر ہو، فوجی ہو یا عام شہری، اسی اتحاد کی علامت ہے۔آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کی فوج صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ قوم کی خدمت، تحفظ اور ترقی کی ضمانت ہے۔ اس نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی اور بیرونی سازشوں کے خلاف کامیابی صرف تب ممکن ہے جب پوری قوم متحد ہو اور قانون کی بالادستی اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرے۔ قائد حزب اختلاف سمیت تمام سیاسی رہنمائوں کو چاہیے کہ وہ فوج کے کردار کو تسلیم کریں اور ملک کی سلامتی کے لیے اپنی ذمے داری نبھائیں۔ پاک فوج کے قربانیاں اور عوام کے ساتھ مضبوط رشتے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دشمن چاہے کتنی بھی سازش کریں، پاکستان کی افواج اور عوام متحد رہ کر ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عساکر نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے بلکہ امن، قانون اور ترقی کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی بقا اور امن ممکن نہیں۔ پاک فوج کو کبھی بھی سیاست کے معاملات میں گھسیٹنا یا اس کے کردار پر شبہ کرنا ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ فوج کا مشن صرف اور صرف ملک اور عوام کی خدمت ہے اور ہمیں ہمیشہ اس کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا واحد راستہ یہی ہے کہ پوری قوم فوج کے ساتھ متحد رہے اور اپنے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنائے۔
منشیات کیخلاف بڑی کامیابی
اینٹی نارکوٹکس فورس ) اے این ایف) کی جانب سے گوادر میں 1.2ٹن منشیات کی برآمدگی اور دو اسمگلرز کی گرفتاری ایک بڑی کامیابی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے منشیات کے خلاف جنگ میں متحرک اور سنجیدہ ہیں۔ پنجگور اور تربت قومی شاہراہ پر ٹرک کے خفیہ خانوں سے بھاری مقدار میں چرس کی برآمدگی نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس منظم نیٹ ورک کی وسعت کو بھی بے نقاب کرتی ہے جو پاکستان کو عالمی اسمگلنگ روٹس کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ برآمد شدہ منشیات کی عالمی منڈی میں مالیت کروڑوں ڈالرز بتائی جارہی ہے، جو اس کاروبار کی ہولناکی اور منافع بخش نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہی بھاری منافع اسمگلروں کو خطرات مول لینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ منشیات افغانستان سے اسمگل کی گئی اور گوادر کے راستے خلیجی ممالک، یمن اور تنزانیہ تک پہنچائی جاتی تھیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف داخلی چیلنج بلکہ ایک بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک کا سامنا کر رہا ہے۔منشیات کی اسمگلنگ محض ایک قانونی جرم نہیں بلکہ یہ سماجی تباہی کا سبب بھی بنتی ہے۔ نوجوان نسل اس لعنت کا سب سے بڑا شکار ہوتی ہے۔ منشیات سے وابستہ جرائم، صحت کے مسائل اور معاشرتی بگاڑ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے اس کاروبار کے خلاف کارروائی صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری نہیں بلکہ قومی فریضہ ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ چند بڑی گرفتاریاں مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ جب تک سرحدی نگرانی کو مزید موثر نہیں بنایا جاتا، اسمگلنگ کے مالی نیٹ ورکس کو توڑا نہیں جاتا اور مقامی سطح پر سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوتی، تب تک یہ ناسور کسی نہ کسی شکل میں سر اٹھاتا رہے گا۔ اس ضمن میں علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہے کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ انسدادِ منشیات کے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور تربیت فراہم کرے تاکہ ایسے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان اس تباہ کن راستے سے بچ سکیں۔ گوادر میں حالیہ کارروائی یقیناً حوصلہ افزا ہے، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب منشیات کے کاروبار کو مستقل بنیادوں پر ختم کر کے معاشرے کو اس زہر سے پاک کردیا جائے گا۔ یہ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد ہے جس میں ریاست اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔





