پاک بحریہ کی مشق سی گارڈ 2026: محفوظ سمندر، مضبوط پاکستان

پاک بحریہ کی مشق سی گارڈ 2026: محفوظ سمندر، مضبوط پاکستان
کاشف
پاک بحریہ نے 2تا 9فروری 2026ء پاکستان کے اہم سمندری علاقوں بشمول کراچی، اورماڑہ، گوادر اور ملحقہ ساحلی و بحری حدود میں قومی سطح کی بحری مشق’’ سی گارڈ‘‘ 2026کا انعقاد کیا۔ مشق جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC)اور دیگر اہم قومی اداروں کے باہمی تعاون سے منعقد کی گئی۔ یہ قومی سطح کی مشق پاکستان کی جانب سے سمندری سلامتی، مختلف اداروں کے مابین ہم آہنگی اور سمندری دائرہ کار میں روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو مزید بہتر بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
بحری مشق سی گارڈ 2026کا مقصد حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو ایک متحدہ عملی فریم ورک کے تحت یکجا کرتے ہوئے پاکستان کی سمندری مفادات کے تحفظ کی صلاحیت کا جائزہ لینا اور اسے مزید مستحکم بنانا ہے۔ دیگر عسکری مشقوں کے برعکس، سی گارڈ 2026 ایک قومی سمندری سلامتی کی مشق ہے جس میں پاک بحریہ کے یونٹس کیساتھ ساتھ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، پورٹ اتھارٹیز، قانون نافذ کرنیوالے ادارے، انٹیلی جنس تنظیمیں، شپنگ و پورٹ آپریٹرز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں نے شرکت کی۔
سی گارڈ 2026کا مقصد اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کوجانچنا اور بہتر بنانا، خاص طور پرمتعلقہ معلومات کے بروقت تبادلے اور سمندر میں ابھرتی صورتحال کے خلاف مربوط ردِعمل کو یقینی بنانا تھا۔ اس مشق کا مقصد سمندری سلامتی اور تحفظ کو مضبوط بنانا تھا، جس میں غیر قانونی سرگرمیوں، قزاقی، اسمگلنگ اور اہم سمندری تنصیبات کو نقصان پہنچانے جیسے خطرات سے نمٹنے پر خاص توجہ دینا بھی تھا۔ چونکہ پاکستان کی تجارت اور توانائی کی ترسیل محفوظ بحری راستوں (SLOCs)پر منحصر ہے، اس لیے اس مشق میں مسلسل نگرانی اور فعال سمندری آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ عملی منظرناموں کے ذریعے مشکوک بحری جہازوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف موثر کارروائی بھی اس مشق کا حصہ تھی۔ اس کے علاوہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام، بروقت فیصلہ سازی اور ساحل پر موجود ہیڈ کوارٹرز اور موقع پر موجود یونٹس کے درمیان رابطہ کاری کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور قانونی اقدام کو یقینی بنایا جا سکے۔
انسانی ہمدردی کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے بحری مشق سی گارڈ 2026میں سرچ اینڈ ریسکیو (SAR)کی مشقیں بھی شامل تھیں۔ جن کے دوران سمندر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بند اور حقیقی منظرناموں پر مشتمل سرگرمیاں شامل کی گئیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد بحری یونٹس، میری ٹائم سے متعلق اداروں اور سول حکام کے درمیان تیز رفتار رابطہ کاری اور عملی صلاحیتوں کی جانچ تھی۔ یہ مشقیں سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی عکاس ہیں۔ سمندری حادثات، ماہی گیر کشتیوں یا مسافر بردار بحری جہازوں کی ایمرجنسی میں موثر ردِعمل قومی سمندری ذمہ داری کا ایک اہم جزو ہے۔
مشق کا ایک اور اہم پہلو آفات سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق تھاجس میں بندرگاہ پر ہنگامی حالات اور ساحلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نبٹنے کی سرگرمیاں شامل تھیں۔ شریک اداروں نے ماحولیاتی نقصان کو کم کرنے، ساحلی آبادیوں کے تحفظ اور بندرگاہی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کی مشق کی۔ ان سرگرمیوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ سمندری سلامتی، ماحولیاتی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کی تیاری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
سی گارڈ 2026کے دوران مشترکہ کارروائیوں اور حقیقی وقت میں معلومات کے موثر تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی، جس میں جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC)نے متعلقہ معلومات کے مرکز کے طور پر کلیدی کردار ادا کیا۔ JMICCنے ملک کے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز، بحری اور ساحلی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور دیگر اہم قومی اداروں کے درمیان معلومات کے موثر تبادلے اور بروقت رابطے کو یقینی بنایا۔ اس مربوط نظام کے ذریعے نہ صرف سمندری خطرات اور غیر روایتی چیلنجز کو بروقت شناخت اور کنٹرول کرنے کی مشق کی گئی بلکہ مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کو بھی فروغ ملا۔ سی گارڈ 2026کی اصل کامیابی دراصل اسی مربوط معلوماتی عمل اور JMICCکے کلیدی کردار کی بدولت ممکن ہوئی، جس نے مشق کے ہر مرحلے میں قومی بحری تحفظ کے اہداف کو عملی جامہ پہنایا اور ملک کے سمندری دفاعی ڈھانچے کی مضبوطی کو یقینی بنایا۔
کراچی ملک کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے، جبکہ گوادر علاقائی رابطہ کاری اور معاشی ترقی کا ایک اہم مرکز ہے۔ ان اہم سمندری علاقوں میں سی گارڈ 2026کے انعقاد کے ذریعے پاک بحریہ اور شراکتی اداروں نے قومی بندرگاہوں اور ساحلی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ مشق پاکستان کے سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے تیاری اور عزم کا ایک مضبوط پیغام بھی تھی۔ تربیتی پہلوں کے علاوہ، سی گارڈ 2026، طریقہ کار، وسائل اور رابطہ کاری کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کا ذریعہ بھی بنی۔ مشق سے حاصل ہونے والے مشاہدات اور آراء آئندہ سمندری سلامتی کی پالیسیوں، معیاری عملی طریقہ کار (SOPs)اور بین الادارہ تعاون کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ایسی مشقیں اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو موثر سمندری حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔
سی گارڈ 2026نے ایک محفوظ، مستحکم اور پُرامن سمندری ماحول کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کی توثیق کی۔ بڑھتی ہوئی تجارت، ٹیکنالوجی میں ترقی اور بدلتے ہوئے سلامتی کے خطرات کے پیشِ نظر اس نوعیت کی مشقیں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ فوجی اور سول اداروں کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت یکجا کر کے، پاکستان اپنی سمندری مضبوطی اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔ سی گارڈ 2026نے نہ صرف عملی تیاری کی مضبوطی میں اضافہ کیا بلکہ سمندری سلامتی کے لیے پاکستان کے جامع نقطہ نظر کا بھی مظاہرہ کیاِ، جو دفاع، انسانی ہمدردی، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔







