تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا ، ترجمان دفتر خارجہ

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب فوجی دستے بھیجنا نہیں، بورڈ آف پیس میں شمولیت حکومتی قواعد کے تحت مشاورت سے طے پائی ہے، بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔

ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس میں شمولیت کامقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا ہے، بورڈ آف پیس کا دوسرا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو میں معاونت ہے جبکہ تیسرا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔

طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان اکیلا نہیں، 7 دیگر مسلم ممالک بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں، سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں، بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں اجتماعی کوشش کے تحت ہوا، بورڈ آف پیس غزہ اور مسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے، 2 برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوامِ متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، بورڈ آف پیس کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے، بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد میں اضافے کا حامی ہے، پاکستان دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا، 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست پاکستان کا مؤقف ہے، القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جاتا ہے، بورڈ آف پیس کی رکنیت 3 سالہ مدت پر مشتمل ہے، بورڈ آف پیس میں مستقل اور غیر مستقل رکنیت کی کوئی درجہ بندی نہیں، غزہ امن منصوبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت تشکیل دیا گیا ہے

جواب دیں

Back to top button