گرین لینڈ، نوبل انعام اور طاقت کی نئی لکیر

گرین لینڈ، نوبل انعام اور طاقت کی نئی لکیر
از قلم : مسعود چودھری
گرین لینڈ کوئی نیا تنازع نہیں، مگر آج اسے جس انداز میں عالمی سیاست کے مرکز میں لایا جا رہا ہے، وہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ طاقت، انا اور بیانیے کی جنگ ہے۔
تیرہویں صدی سے 1814ء تک گرین لینڈ ڈینش۔ ناروے بادشاہت کا حصہ رہا۔ کیل معاہدہ (1814)کے تحت ناروے سویڈن کے حوالے ہوا، مگر ڈنمارک نے اپنی نوآبادیات۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ اور فیرو آئی لینڈز اپنے پاس رکھیں۔1931ء
میں ناروے نے ایرک دی ریڈز لینڈ کے نام پر شمال مشرقی گرین لینڈ پر دعویٰ کیا، مگر 1933ء میں مستقل عالمی عدالت انصاف نے یہ علاقہ ڈنمارک کے حق میں دے دیا۔ یوں ناروے کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
یہ تاریخ آج اس لیے اہم ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام درکار ہے۔ ناروے کے وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ نوبل امن انعام دینے والی کمیٹی آزاد و خودمختار ہے اور حکومتِ ناروے کا اس پر کوئی اختیار نہیں۔ ٹرمپ اس موقف کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ چونکہ نوبل کمیٹی ناروے میں قائم ہے، اس لیے حکومتِ ناروے عملاً اس پر اثرانداز ہوتی ہے۔
یہی نکتہ گرین لینڈ کو اچانک امریکی ’’ قومی سلامتی‘‘ کے بیانیے میں لے آتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ کو روس اور چین سے خطرات لاحق ہیں اور امریکہ اسے ہر قیمت پر ان خطرات سے بچائے گا۔
یہاں ایک بنیادی تصحیح ضروری ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ کبھی امریکہ کا حصہ تھا جسے اس نے واپس کر دیا، یہ تاریخی طور پر غلط ہے۔ گرین لینڈ کبھی بھی امریکہ کا حصہ نہیں رہا۔ البتہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1941ء کے ڈنمارک۔ امریکہ دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ کو وہاں فوجی موجودگی کی اجازت ملی، جس کی علامت آج بھی پٹوفِک ( تھولی) ایئر بیس ہے۔ فرق واضح ہے کہ کنٹرول اور ملکیت ایک چیز نہیں ہوتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نیٹو کی رکنیت کے باعث یورپ کے ساتھ براہِ راست جنگ چھیڑنا امریکہ کے لئے ممکن نہیں۔مگر گرین لینڈ پر کنٹرول کا بیانیہ دراصل جنگ نہیں، بلکہ طاقت کی نئی حد بندی ہے، ایک ایسا اعلان جو یہ بتاتا ہے کہ آرکٹک اب عالمی سیاست کا اگلا محاذ ہے۔
گرین لینڈ محض برف کا جزیرہ نہیں رہا۔ یہ آرکٹک سمندری راستوں، نایاب معدنیات، ریڈار اور میزائل وارننگ سسٹمز اور مستقبل کی عالمی تجارت کی کنجی بن چکا ہے۔2009ء کے بعد گرین لینڈ کو داخلی خودمختاری حاصل ہے، مگر خارجہ اور دفاعی معاملات اب بھی ڈنمارک کے ہاتھ میں ہیں، اور یہی خلا عالمی طاقتوں کو متحرک کر رہا ہے۔
یہ تمام بیانات محض وقتی یا جذباتی نہیں۔ یہ تاریخی نظریاتی لائنز کو دوبارہ کھینچنے کی دانستہ کوشش ہے، جس میں پیغام واضح ہے کہ امریکہ آرکٹک میں اپنی برتری ہر حال میں برقرار رکھے گا، چاہے سفارت کاری کو دبائو میں ہی کیوں نہ لانا پڑے۔
اسی تمام صورتحال میں پاکستان نے بروقت عالمی درجہ حرارت کو بھانپتے ہوئے اپنے سٹریٹیجک اہداف نہ صرف متعین کئے ہیں بلکہ عالمی منظر نامے میں مرکز نگاہ رہنے کے لیے میسر سٹریٹیجک راستوں پر سفر کا ارادہ بھی کر رکھا ہے۔ یہ ایک قابل ستائش و قابل تحسین، حوصلہ افزاء پیش رفت ہے۔
اس بدلتی عالمی بساط میں پاکستان کے لیے جذبات یا نعروں کی نہیں، خاموش، حساب شدہ اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
اول تو یہ کہ پاکستان کی درست پالیسی ہے کہ جب ہم بھانپ چکے ہیں امریکہ کی منشاء اور بالخصوص صدر ٹرمپ کی خواہشات نے ہمارے لئے عالمی منظر نامہ میں جگہ پیدا کر دی ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ یہاں یہ انتہاء اہم ہے کہ ہم امریکہ سے فوری فوائد حاصل کرتے ہوئے چین کو خود سے زیادہ دور نہ ہونے دیں اور بظاہر سٹریٹیجک بیلنسنگ کی پوزیشن اختیار کئے رکھیں۔ کسی ایک بلاک میں مکمل ضم ہونا، آنے والے برسوں میں ریاستی خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے لیکن دوست وہی ہے جو ہماری موجودہ پوزیشن کو سمجھے اور ہمیں آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرتا رہے، دوسرا یہ کہ گو کہ آرکٹک کی سیاست میں ہم براہِ راست فریق نہیں اور یہ بظاہر پاکستان کے مفاد میں بھی نہیں، مگر ملٹی لیٹرل فورمز جیسے کہ اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، اور مستقبل کے آرکٹک معاشی فریم ورکس میں قانونی و سفارتی اصولوں کی حمایت پاکستان کے لیے نرم طاقت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس سے عالمی سطح پر ہم جتنا بھی فائدہ اٹھا سکیں ہمیں بھرپور کوشش کے ساتھ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ تیسرا یہ کہ سی پیک اور علاقائی رابطہ کاری کو محض انفرا سٹرکچر نہیں بلکہ جیو اکنامک شیلڈ کے طور پر پیش کیا جائے، جس کے تحت ایسا فریم ورک جس میں یورپ، وسط ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے مفادات بھی جڑ سکیں ہمارے فائدے میں ہے۔ تاریخی اعتبار سے ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کی دوستی اور اسی تناظر میں مدد وقتی ہوتی ہے اور جب تک صدر ٹرمپ کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے یہ دوستی قائم دائم رہنی ہے تو ہمیں بروقت ان راہداریوں اور الائنسز کو ایکسپلور کرنا چایئے جن پر امریکی مدد کے بغیر قدم رکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔ چوتھی اہم ترین بات یہ کہ دفاعی اور انٹیلیجنس سطح پر پاکستان کو آرکٹک میں ہونے والی عسکری و تکنیکی پیش رفت پر سٹریٹیجک آبزروَر کی حیثیت سے نظر رکھنی ہوگی، کیونکہ آج آرکٹک میں جو ٹیکنالوجی آزمائی جا رہی ہے، وہ کل جنوبی ایشیا میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔ جس نوعیت کی سٹریٹیجیز اور لابنگ آج آرکٹک اور بالخصوص گرین لینڈ میں استعمال ہو گی، اس سے بہت سے نئے راستے پاکستان کے مفاد میں بھی نکلیں گے۔ ہمیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پانچویں اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان کو خود کو ’’ کیمپ فالوور‘‘ کے بجائے ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ ایک ایسی ریاست جو تصادم نہیں، توازن کی بات کرے اور خود کو دنیا بھر میں امن کا علمبردار بنا کر پیش کرتی رہے۔
دنیا کی بساط تیزی سے بدل رہی ہے۔ گرین لینڈ اس بساط کا دور دراز خانہ نہیں، بلکہ طاقت کے نئے مرکز کی علامت ہے۔ اور اس کھیل میں پاکستان کا اصل امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کہاں کھڑا رہتا ہے اور اس تمام بدلتی صورتحال سے کتنا فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔





