ColumnImtiaz Aasi

قائد اعظم یونیورسٹی کی بیوروکریسی

قائد اعظم یونیورسٹی کی بیوروکریسی

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

ایک اردو معاصر میں معروف صحافی رئوف کلاسرا کا کالم بعنوان آکسفورڈ سے پڑھی بیوروکریسی پڑھ رہا تھا جس میں کلاسرا صاحب نے آج کی بیوروکریسی کے طریقہ واردات پر کھل کر بات کی ۔پھر انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حوالے سے بھی بات کی کہ ملک وقوم کو لوٹنے والے پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔اس ناچیز کے بہت سے مہربان بیوروکریسی سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اپنی کم ازکم چالیس سالہ ملازمت میں گھر تک نہیں بنایا کجا کہ وہ بیرون ملک جائیدادیں خریدتے۔رئوف صاحب نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالے سے بات کی اب قائداعظم یونیورسٹی سے پڑھے لکھے لوگ پولیس اور بیوروکریسی میں آئیں گے۔بات دراصل آکسفورڈ یا قائد اعظم یونیورسٹی سے پڑھنے کی نہیں ہے کوئی بیوروکریٹ خواہ ٹاٹ اسکول کا کیوں نہ پڑھا ہو بات صرف قناعت اور خوف خدا کی ہے۔ مجھے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مہربانی سے نوے سے دو ہزار ایک تک مسلسل حرمین شریفین میں اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ 1994ء میں مکہ مکرمہ میں پہلی بارڈائریکٹر حج احمد بخش لہڑی جن کا تعلق بلوچستان سے تھا ملاقات ہوئی تو میں نے یونہی پوچھ لیا سر آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے رہے ہیں تو ان کا جواب تھا یار میں نے تو گورنمنٹ کالج لاہور کی شکل نہیں دیکھی میں تو ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھتا رہا ہوں۔جی یہ وہی احمد بخش لہڑی جو بعد میں سعودی عرب میں ڈائریکٹر جنرل حج بنے لیکن جنرل پرویز مشرف نے جب ایک راست باز بیوروکریٹ کی خواہش ظاہر کی تو انہیں پاکستان واپس بلا کر گوادر کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیاگیا۔1996ء میں وفاقی وزارت مذہبی امور نے اس ناچیز کو مدینہ منورہ میں دو پاکستان ہاوسوںکا نگران مقرر کر دیا ۔میں سرکاری ادارے اور روزنامہ جنگ سے ایک سال کی رخصت بغیر تنخواہ لے کر سعودی عرب چلاگیا۔وقت گزرنے کے ساتھ جناب لہڑی سے روابط بھائی چارے میں بدل گئے ۔1998ء میں چند ساتھیوں کے ساتھ ڈیرہ غازی خان کے راستے مجھے لورالائی جانا تھا ۔ اس سفر میں ہمیں عازمین حج کو مناسک حج اور حج انتظامات سے متعلق لیکچر دینے تھے۔لورالائی میں کمشنر احمد بخش لہڑی تھے جنہوں نے ہمارے قیام کے انتظامات کمشنر ہائوس میں کر رکھے تھے ۔چنانچہ اسی دوران ہماری ملاقات ایک نوجوان سے چائے کے وقفے میں ہوگئی ۔جب میں نے احمد بخش لہڑی صاحب سے اس نوجوان بارے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا یہ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر ہیں کوئٹہ میں سیکرٹری زراعت ہیں۔ظفر قادر جنیوا میں پاکستان مشن میں اکنامک منسٹر کے عہدے پر بھی رہے ۔ وفاق میں این ڈی ایم اے کے پہلے اور آخری سول چیئرمین وہی تھے۔پہلے احمد بخش لہڑی کی بات ہو جائے ۔مکہ مکرمہ کا ایک معلم مجھے بتانے لگا اس نے پہلا ڈائریکٹر حج دیکھا ہے جو پیدل حرم شریف تک آتا جاتا ہے ۔ایک روز مجھے ان کے ساتھ مغرب کی نماز کے لئے جانے کا اتفاق ہوا میں نے پوچھ لیا سر گاڑی تو مجھے کہنے لگے کون سی گاڑی میں تو سرنگ کے راستے حرم شریف تک جاتا ہوں تم بھی پید ل میرے ساتھ چلو۔ پاکستان حج مشن میںتعنیات تمام ڈی جی اور ڈائریکٹر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے کے سو ڈالر وصول کرتے تھے احمد بخش لہڑی کا موقف تھا انہیں تنخواہ جو ملتی ہے وہ ڈالر نہیں لیں گے۔وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کے پرائیویٹ سیکرٹری ساجد رضوی مرحوم نے ایک روز مجھے بتایا اس کی چونتیس سالہ ملازمت کے دوران جتنے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر حج سعودی عرب سے واپس آئے ان کا سامان بحری جہازوں پر آتا تھا لیکن احمد بخش لہڑی کے بچوں نے اپنے کپڑے شاپروں میں ڈالے ہوئے تھے۔ڈاکٹر ظفر قادر سے میرا تعلق احمد بخش لہڑی کی وساطت سے ہوا جو بعدازاں بھائی چارے میں بدل گیا۔ظفر قادر ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم رہے جب ڈاکٹر عاصم کو مشیر پٹرولیم لگایا گیا تو ڈاکٹر ظفر قادر نے اپنا تبادلہ کرالیا۔وہ بیس برس تک بلوچستان میںتعنیات رہے اسی دوران انہوں نے پسماندہ صوبے کے غریب طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے تعلیم فائونڈیشن کی بنیاد 1989ء میں ڈالی۔آج کل قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، سوئی، کولہو،لورالائی اور دیگر کئی شہروں میں طالبات کے اسکول بڑی کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تعلیم فائونڈیشن کی اعلیٰ کارکردگی کے پیش نظر پنجاب کی وزیراعلیٰ نے تعلیم فائونڈیشن کو راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان، کوٹلی ستیاں اور راولپنڈی کے پچاس طالبات کے پرائمری اسکول دے دیئے ہیں۔احمد بخش لہڑی کو وفاقی وزیر مذہبی امور راجا ظفر الحق نے مکہ مکرمہ کی چند پرانی عمارات کی فہرست تھما دی، ساتھ بتایا یہ راجا فارس میرے عزیز ہیں ان سے عمارات لے لو۔فہرست دیکھ کر لہڑی صاحب نے جواب دیا سر یہ عمارات بہت پرانی اور حرم شریف سے بہت دور ہیں میں نہیں لے سکتا جس کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور نے سعودی عرب میں سفیر پاکستان سید خالد محمود سے لہڑی صاحب کو سفارش کرائی لیکن لہڑی صاحب نے معذرت کر لی۔اس دور میں سفیر پاکستان حاجیوں کی رہائشی کمیٹی کے چیئرمین ہوا کرتے تھے۔ڈاکٹر ظفر قادری کی تعلیمی خدمات کے پیش نظر بلوچستان کے لوگ انہیں سرسید کے نام سے یاد کرتے ہیں۔نواز شریف کے دورمیں گریڈ بائیس میں ترقی کا معاملہ آیا توفواد حسن فواد بھی اجلاس میں موجود تھے جو ڈاکٹر ظفر قادر کے بلوچستان میں ماتحت کام کر چکے تھے ۔ ظفر قادر صاحب کا نام آیا تو وزیراعظم نواز شریف نے سروس ریکارڈ دیکھنے کی بجائے پوچھا اے کس دا بند ا اے۔ جب کوئی نہیں بولا تو لامحالہ ڈاکٹر صاحب ترقی سے محروم کر دیئے گے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں گریڈ بائیس دے دیا۔ جس کے خلاف اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی جو ابھی تک زیرالتواء ہے۔ یوں تو میرے بہت سے مہربان بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے ہیں جن میں سابق چیف سیکرٹری مرحوم عبداللہ صاحب جن کی راست بازی کی مثالیں لوگ دیتے ہیں۔ جناب شاہد خان جو وفاق میں سیکرٹری داخلہ بھی رہ چکے ہیں سید ابو احمد عاکف جنہوں نے پاکستان کی سول سروس میں ٹاپ کیا تھا دو حضرات کئی برس ڈائریکٹر جنرل حج رہے ۔لوگ انہیں شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ گریڈ انیس کے ایک بیوروکریٹ ایسے بھی ہیں پنجاب میں سیکرٹری تعینات رہے، اب وفاق میں بہت بڑے منصب پر ہیں، ایک کلاس فیلو سے کہا مجھے ملازمت نہیں کرنی پیسہ بہت کما لیا ہے، لہذا ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی بیوروکریسی میں ہیں۔ بیوروکریسی خواہ آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ ہو یا قائد اعظم یونیورسٹی کی بات صرف قناعت اور حق تعالیٰ کے روبرو جواب دہی کی ہے۔

جواب دیں

Back to top button