ColumnQadir Khan

کراچی کا نوحہ: راکھ کے ڈھیر سے اٹھتا دھواں

کراچی کا نوحہ: راکھ کے ڈھیر سے اٹھتا دھواں
قادر خان یوسف زئی
گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے انتظامی بے ضابطگیوں کے اس پہاڑ کو بے نقاب کر دیا ہے جس کے نیچے کراچی کا شہری ہر روز سسکتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے مطابق پلازہ کے 26میں سے 24ہنگامی راستے (Emergency Exits) بند تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)کہاں سو رہی تھی؟ کیا 1980کی دہائی میں بننے والی اس عمارت میں بعد ازاں غیر قانونی دکانوں کی بھرمار اور راستوں کی بندش کسی کی ملی بھگت کے بغیر ممکن تھی؟ شہلا رضا نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ راستے بند تھے اور ٹریفک کے ہجوم نے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی، لیکن کیا یہ بیان حکومت کی بری الذمہ ہونے کی دلیل بن سکتا ہے یا یہ خود اپنے ہی اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے؟ آگ بجھانے والا عملہ وقت پر کیوں نہ پہنچ سکا؟ پانی کے ٹینکرز ٹریفک میں کیوں پھنسے رہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہر قائد کے قلب میں واقع اتنے بڑے تجارتی مرکز میں فائر سیفٹی کا نظام سرے سے موجود کیوں نہیں تھا؟۔ یہ وہ انتظامی خامیاں ہیں جن کی نشاندہی کرنا اب محض رسمی کارروائی لگتی ہے کیونکہ ہر سانحے کے بعد ان کا ذکر ہوتا ہے اور پھر اگلی آگ لگنے تک خاموشی چھا جاتی ہے۔ اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ کراچی جیسا میٹروپولیٹن شہر آج بھی فرسودہ فائر فائٹنگ نظام کے سہارے چل رہا ہے جہاں اسنارکلز کی کمی اور پانی کی عدم دستیابی جیسے مسائل معمول بن چکے ہیں۔
اس سانحے پر ہونے والی سیاست نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن، بجائے اس کے کہ مل کر اس المیے کا حل نکالتے، ایک دوسرے کے گریبانوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی اور واک آئوٹ کیا، ان کا موقف ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی بدترین ناکامی ہے اور وہ اس شہر کو چلانے کے اہل نہیں۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں یہ کہہ کر بحث کو نیا رخ دے دیا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے تحت کراچی کا انتظام چلانا ”انسانی طور پر ناممکن” ہے اور انہوں نے بااختیار بلدیاتی نظام کا مطالبہ دہرایا۔ یہ سیاسی رسہ کشی دراصل لاشوں پر سیاست کی ایک اور بھونڈی مثال ہے۔ پیپلز پارٹی، جو پچھلے 18سال سے سندھ پر حکمران ہے، اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے دفاعی پوزیشن میں نظر آتی ہے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے اگرچہ اعتراف کیا کہ کوتاہیاں ہوئی ہیں اور اسے بلدیہ فیکٹری سانحے کے بعد سب سے بڑا سانحہ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپوزیشن پر ”پوائنٹ اسکورنگ” کا الزام بھی لگا دیا۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کے لیے انسانی جان سے زیادہ اہم اپنا سیاسی بیانیہ بچانا ہے۔ اپوزیشن کا شور شرابا اور حکومت کی تاویلیں، دونوں ہی اس دکاندار کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتیں جس کی زندگی بھر کی جمع پونجی راکھ ہو گئی، یا اس ماں کے آنسو نہیں پونچھ سکتیں جس کا بیٹا بند راستوں کی نذر ہو گیا۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا کا اسمبلی میں دیا گیا بیان اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ متنازعہ اور قابلِ غور ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ”وزراء کا ہر حادثے کی جگہ پر پہنچنا ضروری نہیں ہوتا، اہم بات ریسکیو کا کام ہے”۔ ( ریسکیو) ، امدادی عملے کی فوری رسائی اور متاثرین کی مدد کی ہوتی ہے، بظاہر یہ جملہ منطقی لگ سکتا ہے، لیکن ایک ایسے وقت میں جب شہر جل رہا ہو اور لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہوں، ایسا بیان عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کیا یہ بیان حکومت کی خامیوں کو چھپانے کی کوشش ہے؟ یقیناً۔ جب وہ یہ کہتی ہیں کہ 24راستے بند تھے، تو وہ دراصل یہ اعتراف کر رہی ہیں کہ ان کی حکومت کے ماتحت ادارے ( جیسے ایس بی سی اے اور سول ڈیفنس) مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ راستے ایک رات میں بند نہیں ہوئے، یہ برسوں کی کرپشن اور چشم پوشی کا نتیجہ تھے۔ شہلا رضا کا یہ کہنا کہ ٹریفک کی وجہ سے تاخیر ہوئی، بھی ایک عذرِ لنگ ہے کیونکہ ٹریفک کو کنٹرول کرنا اور ایمرجنسی روٹس کو کلیئر رکھنا بھی انتظامیہ ہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کا یہ بیان دراصل اس روایتی ”سندھ کارڈ” یا ”دفاعی حکمت عملی” کا حصہ لگتا ہے جس کا مقصد اپنی نااہلی کا ملبہ حالات، ماضی کی حکومتوں یا عوام پر ڈال دینا ہوتا ہے۔
گل پلازہ کے واقعے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ کراچی ایک لاوارث شہر ہے۔ یہاں تجاوزات کی بھرمار ہے، بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی روز کا معمول ہے، اور سیفٹی کے معیارات کاغذوں تک محدود ہیں۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ آگ لگنے کے بعد دھوئیں کے اخراج کا کوئی نظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے کئی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں۔ یہ وہ بنیادی سہولیات ہیں جن کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن یہاں ریاست کہیں نظر نہیں آتی، صرف سیاست نظر آتی ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان ایک روایتی ردعمل ہے جس کا ماضی میں کبھی کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ کیا اس بار کوئی ذمہ دار کٹہرے میں لایا جائے گا؟ کیا ان افسران کا محاسبہ ہوگا جن کی ناک کے نیچے یہ غیر قانونی تعمیرات اور راستوں کی بندش جاری رہی؟ بظاہر اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ حکومت کا سارا زور اس بیانیے کو فروغ دینے پر ہے کہ ریسکیو آپریشن کامیاب رہا ( حالانکہ 36گھنٹے تک آگ نہیں بجھی)۔
اس تمام تر صورتحال میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوامی تحفظ اور انسانی جان کی قیمت اس شہر میں سب سے کم ہے۔ گل پلازہ کا سانحہ پہلا نہیں ہے اور نہ ہی یہ آخری ہوگا۔ جب تک کراچی کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات نہیں لائی جاتیں، جب تک سیاسی بھرتیوں کے بجائے میرٹ پر ادارے نہیں چلائے جاتے، اور جب تک کرپشن کے ناسور کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاتا، ایسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ شہلا رضا کی منطق یا خواجہ آصف کی تنقید سے وہ جانیں واپس نہیں آسکتیں جو ضائع ہوئیں، لیکن کم از کم مستقبل کے لیے تو کوئی سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے، ہمارے ہاں تاریخ خود کو دہراتی نہیں بلکہ چیخ چیخ کر روتی ہے، اور سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ آج گل پلازہ کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، کل شاید یہ خبر اخبار کے کسی کونے میں دب جائے گی، اور پرسوں ہم کسی اور پلازہ یا فیکٹری میں لگنے والی آگ کا ماتم کر رہے ہوں گے۔ یہی کراچی کا مقدر بنا دیا گیا ہے، اور یہی اس شہر کی سیاست کا اصل چہرہ ہے، سنگدل، بے حس اور مفاد پرست۔

جواب دیں

Back to top button