Column

سانحہ گل پلازہ ۔۔۔ ایک شہر، ایک آگ، اور بہت کچھ

حرفِ جاوید
سانحہ گل پلازہ ۔۔۔ ایک شہر، ایک آگ، اور بہت کچھ
تحریر: جاوید اقبال
یہ آگ صرف گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں نہیں لگی تھی، یہ دراصل اس نظام میں بھڑکی تھی جو برسوں سے کراچی جیسے عظیم مگر مظلوم شہر کو بے حسی، نااہلی اور جھوٹے دعوں کے حوالے کیے ہوئے ہے۔ تین دن تک جلتی رہنے والی آگ محض لکڑی، کپڑے اور کنکریٹ کو راکھ میں نہیں بدلتی رہی، بلکہ اس نے حکمرانی کے دعوں، انتظامی صلاحیتوں اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بھی بے نقاب کر کے رکھ دیا۔
کراچی ایک بار پھر جلتا رہا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار آگ کسی جھگی بستی میں نہیں لگی تھی، بلکہ ایک باقاعدہ شاپنگ سینٹر میں بھڑکی، جہاں سینکڑوں دکانداروں کی عمر بھر کی کمائی، ہزاروں خاندانوں کی روزی، اور درجنوں خواب ایک ہی لمحے میں شعلوں کی نذر ہو گئے۔ گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں تین دن لگے، یا یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ آگ نے تین دن بعد سب کچھ خاکستر کرنے کے بعد خود ہی دم توڑ دیا۔ یہ جملہ سننے میں تلخ ضرور ہے، مگر سچائی اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ اگر یہ شہر واقعی کسی کا ہے، اگر واقعی کوئی جماعت خود کو کراچی کا وارث سمجھتی ہے، تو پھر یہ وارث کہاں تھے جب گل پلازہ جل رہا تھا؟ میئر کراچی، جن کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ لمحہ بہ لمحہ صورتحال کی نگرانی کرتے، تقریباً بائیس گھنٹے بعد جائے حادثہ پر پہنچے۔ اس تاخیر کو کیا نام دیا جائے؟ مصروفیت؟ مجبوری؟ یا محض وہی روایتی بے حسی جو اس شہر کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے؟
میئر صاحب کی آمد پر کیمروں کے سامنے ’’ مانیٹرنگ‘‘ کے دعوے کیے گئے، بیانات دئیے گئے، فائلوں اور محکموں کا حوالہ دیا گیا، مگر آگ کے شعلے ان دعوئوں پر ہنستے رہے۔ کیونکہ اگر مانیٹرنگ واقعی ہو رہی ہوتی تو نہ آگ تین دن تک جلتی، نہ فائر بریگیڈ کے ناکارہ انتظامات اس قدر عیاں ہوتے، اور نہ ہی متاثرین یوں خود کو لاوارث محسوس کرتے۔یہی منظر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی آمد کے وقت بھی دیکھنے میں آیا۔ چوبیس گھنٹے بعد جائے حادثہ پر پہنچ کر میڈیا کے سامنے روایتی جملے، رسمی افسوس اور اعداد و شمار کی گردان کی گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے کا سربراہ، جس کے دارالحکومت میں تین دن تک آگ لگی رہے، وہ چوبیس گھنٹے تک کہاں مصروف تھا؟ کیا کراچی اب محض ایک خبر بن کر رہ گیا ہے، جسے وقت ملنے پر دیکھا جاتا ہے؟
کراچی کے عوام اب بیانات نہیں، نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں یہ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ ’’ تحقیقات ہو گی‘‘، ’’ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا‘‘ یا ’’ رپورٹ طلب کر لی گئی ہے‘‘۔ یہ جملے برسوں سے سنے جا رہے ہیں، ہر حادثے کے بعد، ہر سانحے کے بعد۔ مگر نہ تحقیقات کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہیں، نہ ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے، اور نہ ہی رپورٹس عوام کے زخموں پر مرہم بن پاتی ہیں۔
اس سانحے کا ایک اور افسوسناک پہلو وہ ہے جس پر کم بات کی جا رہی ہے، یا شاید جان بوجھ کر توجہ نہیں دی جا رہی۔ گل پلازہ مارکیٹ کی انتظامیہ جو ہر دکان سے چار سے پانچ ہزار روپے ماہانہ مینٹیننس کے نام پر وصول کرتی رہی، وہ اس رقم سے بلڈنگ میں مثر حفاظتی انتظامات کیوں نہ کر سکے؟ فائر الارم کہاں تھے؟ ایمرجنسی ایگزٹ کیوں ناکافی تھے؟ آگ بجھانے کے آلات کس حالت میں تھے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب مگرمچھ کے آنسوں سے نہیں دیا جا سکتا۔ میڈیا کے سامنے آ کر افسوس کا اظہار کرنا آسان ہے، مگر برسوں تک وصول کی گئی رقوم کا حساب دینا کہیں زیادہ مشکل۔ اگر واقعی مینٹیننس ہو رہی ہوتی، اگر واقعی حفاظت کو ترجیح دی گئی ہوتی، تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
یہ المیہ ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کراچی میں انسانی جان، محنت اور سرمایہ آخر کس درجے پر ہیں؟ کیا یہاں صرف ٹیکس وصول کرنا، فیسیں لینا اور ووٹ مانگنا ہی اصل مقصد رہ گیا ہے؟ جب ذمہ داری نبھانے کا وقت آتا ہے تو سب پیچھے کیوں ہٹ جاتے ہیں؟
کراچی کے شاپنگ سینٹرز، فیکٹریاں، پلازے اور مارکیٹیں اکثر اوقات بارود کے ڈھیر ثابت ہوتی ہیں۔ شہید ملت روڈ پر قائم سپر اسٹور چیز اَپ میں لگنے والی آگ ہو یا آر جے مال کی آگ، ہر واقعہ نے یہی ثابت کیا کہ ہم نے پچھلے سانحے سے کچھ نہیں سیکھا۔ گلستانِ جوہر میں واقع ملینیئم مال کی آگ نے بھی یہی پیغام دیا کہ فائر سیفٹی ہمارے ہاں صرف کاغذی کارروائی ہے، عملی حقیقت نہیں۔ ہر بار آگ بھڑکتی ہے، کچھ دیر میڈیا شور مچاتا ہے، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، سوائے ان لوگوں کی زندگیوں کے، جو ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتی ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات، ناقص الیکٹرک وائرنگ، فائر سیفٹی قوانین کی دھجیاں، اور متعلقہ اداروں کی خاموشی یہ سب مل کر ایسے سانحات کو جنم دیتے ہیں۔ مگر ہر بار حادثے کے بعد سب سے آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے: وقتی ہمدردی، رسمی بیانات، اور پھر خاموشی۔
گل پلازہ کا سانحہ دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں کراچی کی مجموعی حالت صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس شہر کی یادداشت ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے وقتاً فوقتاً ہمیں جھنجھوڑنے کی کوشش کی، مگر ہم نے ہر بار اجتماعی طور پر بھول جانے کو ترجیح دی۔ بلدیہ ٹائون کی فیکٹری کی آگ کو کون بھول سکتا ہے، جہاں زندہ انسانوں کو دروازے بند کر کے آگ کے حوالے کر دیا گیا اور سیکڑوں مزدور جل کر راکھ ہو گئے۔ وہ سانحہ بھی وعدوں، کمیشنوں اور رپورٹس کی نذر ہو گیا۔ یہ شہر وسائل کی کمی کا شکار نہیں، یہ شہر صاف نیت کی کمی کا شکار ہے۔ یہاں مسئلہ صلاحیت کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ جب ترجیح اقتدار، سیاست اور بیان بازی ہو، تو شہریوں کی جان و مال ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کے عوام نے ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ہر سانحے کے بعد امید باندھ لیتے ہیں کہ شاید اب کچھ بدلے گا، شاید اب سبق سیکھا جائے گا۔ مگر ہر بار ان کی امیدیں راکھ میں بدل جاتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے گل پلازہ کی دکانیں۔
اس شہر کے تاجر، جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، آج خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ مناسب انشورنس ہے، نہ ریاستی تحفظ، اور نہ ہی ایسے نمائندے جو مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ جب آگ لگتی ہے تو وہ خود اپنی مدد آپ کے تحت بالٹیاں بھر بھر کر پانی ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ المیہ صرف ایک مارکیٹ کا نہیں، یہ پورے نظام کا ہے۔ اگر آج گل پلازہ جلا ہے، تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور فیکٹری، کوئی اور بستی جل سکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا حادثہ کہاں ہوگا، سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ایک اور نہایت تشویشناک پہلو وہ ہے جس پر دانستہ خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔ آج بھی شہر بھر میں شاپنگ سینٹرز، سپر اسٹورز اور کمرشل پلازے بلڈنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ پارکنگ کے لیے مخصوص فلورز کو دکانوں، گوداموں اور سپر اسٹورز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ایمرجنسی راستے مسدود ہو جاتے ہیں بلکہ فائر بریگیڈ کی رسائی بھی ناممکن بن جاتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر متعلقہ انتظامیہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے، جیسے وہ کسی اگلے سانحے کی منتظر ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر قوانین کی پامالی آج ہو رہی ہے اور خاموشی آج بھی برقرار ہے، تو کل کسی اور آگ، کسی اور المیے کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ محض افسوس اور بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہو، مینٹیننس کے نام پر وصول کی جانے والی رقوم کا آڈٹ کیا جائے، اور ذمہ داروں کو واقعی سزا دی جائے، نہ کہ فائلوں میں دفن کر دیا جائے۔
کراچی کو اب ہمدردی نہیں، سنجیدہ حکمرانی درکار ہے۔ اسے ایسے وارث نہیں چاہئیں جو حادثے کے بعد فوٹو سیشن کے لیے آئیں، بلکہ ایسے ذمہ دار چاہئیں جو حادثہ ہونے ہی نہ دیں۔ گل پلازہ کی آگ بجھ چکی ہے، مگر اس نے جو سوالات چھوڑے ہیں، وہ ابھی تک دہک رہے ہیں۔
یہ سوالات اگر آج بھی نظرانداز کر دئیے گئے، تو تاریخ گواہ ہوگی کہ ہم نے ایک اور موقع ضائع کر دیا۔ اور پھر کسی اگلے سانحے کے بعد، ہم ایک اور کالم لکھیں گے، کچھ اور آنسو بہائیں گے، اور ایک اور آگ کو خاموشی سے جلنے دیں گے۔

جواب دیں

Back to top button