شیطانی مثلث، ایران اور سہ ملکی اسلامی اتحاد

شیطانی مثلث، ایران اور سہ ملکی اسلامی اتحاد
عبدالحنان راجہ
امن کے نوبل انعام کے حریص امریکی صدر کہ جو اس وقت رعونت و تکبر کا پیکر بنے وینزویلا کو فتح کرنے کے بعد کمزور گرین لینڈ، ایران اور پھر نہ جانے کتنے اور کمزور ممالک پر نظریں گاڑے ہیں کو کینیڈین وزیر نے دعووں کی بجائے چینی صدر سے ملاقات کر کے امریکی دھونس کے سامنے سر نہ جھکانے کے عزم کا اظہار کر کے یورپ کے دیگر ممالک کو بھی دعوت غیرت دی۔ کینیڈین وزیر اعظم نے براہ راست ٹکر لینے کی بجائے حکمت اور دانش سے کام لیا۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ ایران پر حملہ موخر ہوا ہے مگر خطرہ باقی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان کی ڈپلومیسی اور پاکستان کی ایران کو حکیمانہ مشاورت اپنی جگہ بجا، مگر شنید یہ بھی ہے حملے کے التوا کی ایک بڑی وجہ چند روز قبل ایران کا بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ بھی ہے کہ جس کی مار دور تک۔ ( واللہ اعلم) الحمد للہ دور مار میزائل ٹیکنالوجی کا حامل یہ پہلا اسلامی ملک ہے یا دوسرا، اس کا فیصلہ بھی وقت کے ساتھ ہو ہی جائے گا۔ مگر صد شکر کہ اسلامی دنیا کے تین ممالک بہترین دفاعی ٹیکنالوجی کے حامل بنتے جا رہے ہیں خصوصا ترکیہ و پاکستان کے مابین ٹیکنالوجی منتقلی کے معاہدات یقینا کفر پر برق بن کر گر رہے ہیں۔ ایران سے خطرہ وقتی ٹلا مگر ایران کو اندر سے خطرات اب بھی لاحق کہ خدشہ ہے کہ مبینہ طور پر سی آئی اے و موساد کے ایجنٹوں کی بڑی تعداد کسی نہ کسی روپ میں اب بھی وہاں موجود۔ ایران کو فوری طور پر اپنے اندر چھپے غداروں کا قلع قمع کرنا ضروری۔ معتدل و طاقتور ایران ہمارے لیے بھی اہم اور پوری اسلامی دنیا کے لیے بھی، کہ اقبالؒ نے کہا تھا
دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے
تہران ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
حد سے زیادہ طاقت یقینا حرص بڑھاتی ہے، امریکہ کہ جو مغربی معاشرے کا آئیڈیل اب انہی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ وینزویلا پر یلغار کے بعد اب امریکہ یورپ سے ہاتھ کرنے پہ تلا بیٹھا ہے۔ خیال رہے کہ بظاہر طاقتور نظر آنے والا یورپ اندر سے کتنا بے بس کہ وہ سوائے تشویش کے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی مدد کے قابل نہیں۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا پے کہ طاقت کا اپنا قانون اور اپنی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ نوبیل انعام کے حریص موجودہ صدر تو اقوام متحدہ تو کیا اپنی سینٹ، کانگریس یا کابینہ سے بھی مشاورت کرنے کی زحمت کے قائل نہیں۔ کہیں سازشوں کے ذریعے تو کسی ملک کی اپوزیشن کو سہانے خواب دکھا کر آمادہ بہ انقلاب کرنا امریکہ و صیہونیوں کا پرانا و آزمودہ طریقہ۔ مگر ایرانی عوام کتنی خوش قسمت کہ 6000ہزار میل دور اس کے ہمدرد کو ایران میں مہنگائی کے احساس نے اتنا تڑپایا کہ کروڑوں اربوں ڈالر خرچ کر ڈالنے کو تیار، مگر عجب نہیں کہ اتنے رقیق القلب اور نرم دل صدر کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے غزہ کے بلکتے، تڑپتے اور آتش و آہن سے لہولہان بچے دکھائی نہ دئیے۔ ماضی کی امریکی پالیسی کے برعکس اگر ٹرمپ اہل غزہ کے زخموں پر مرہم کا سامان کر دیتے اور ٹرمپ جیسے بولڈ صدر سے ہی ایسے کسی اقدام کی توقع کی جا سکتی ہے تو نوبل انعام ان کے لیے خواب نہ رہتا۔
خدشات موجود، ایران کے علاوہ پاکستان کے گرد ہوتے تنگ گھیرے کا کسے علم نہیں کہ سازش کی جڑیں گہری اور مکروہ ہوتی ہیں۔ سیاسی ابتری اور ہنگامہ آرائی اس کی ابتدائی نشانیاں پاکستان بھگت چکا ایران میں جاری۔ یہ تو شہدا کے خون کی برکات کہ اللہ نے ہر بار پاکستان کو بڑے حادثہ اور مس ایڈوینچر سے محفوظ رکھا مگر معاشی جونکیں اور بدانتظامی جو سلطنت اور عوام کا خون چوسنے میں مصروف عمل، کو لگام ڈالنا وقت کی ضرورت۔ ان حالات میں میثاق معیشت اور قومی سلامتی معاملہ پر عوامی کا اتحاد کتنا ضروری یہ سمجھنے کے لیے ارسطو و افلاطون جیسے عالی دماغ کی ضرورت نہیں۔پاکستان کو اللہ نے جس راہ پر چلا دیا ہے اور سعودی کے بعد ترکیہ کی دفاعی معائدہ میں شمولیت یقینا اس خواب کی تعبیر کی طرف قدم ہی ہے کہ جس کا خاکہ اقبال نے پیش کیا اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جس کے لیے کوشش کی۔ فیلڈ مارشل کی سفارتی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور نیا دفاعی معاہدہ تشکیل کے آخری مراحل میں جبکہ حالات اس میں توسیع کی گنجائش بتا رہے ہیں۔ اس وقت کہ جب پاکستان نے امریکی شرائط پر غزہ میں فوج بھیجنے سے معذرت اور اقوام متحدہ میں وینزویلا کے صدر کے اغوا کی مذمتی قرارداد پر دستخط کر کے دراصل امریکہ کی ناراضگی مول لی۔ اس میں شک نہیں کہ اس وقت پاکستان امریکہ تعلقات پائیداری و ناپیداری کے درمیان معلق کہ اگر ٹرمپ پالیسیوں کو بلا چون و چرا تسلیم کیا جاتا رہا تو ٹرمپ پاکستان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں کبھی نہیں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ ٹرمپ جیسی متلون مزاج شخصیت سے معاملات طے کرنا گھاگ اور کہنہ مشق سفارت کار کے لیے بھی مشکل کہ ٹرمپ کسی وقت کچھ کہنے اور کچھ کر گزرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان حالات میں اسرائیل اور بھارت پاکستان کی مشکل صورتحال جو غزہ امن فورس کی دعوت کے بعد پیدا ہو رہی ہے سے فائدہ اٹھانے اور امریکی قیادت کو پاکستان سے متنفر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ شیطانی مثلث کسی بھی وقت پھر پاکستان کے خلاف متحرک ہو سکتی ہے اسی لیے پاک، سعودی ترکیہ دفاعی معاہدہ اب لازم۔ایران کے معاملہ میں بھی پاکستان نے محتاط رہ کر سفارت کر کے ایران کو نہ صرف بڑے المیہ سے بچانے میں کردار ادا کیا بلکہ پرتشدد مظاہروں کی وجہ جھوٹے بیانیہ کی بیخ کنی میں بھی مدد کر کے معاملات کو گھمبیر ہونے سے بچانے میں کردار ادا کر کے برادر اسلامی ملک ہونے کا حق ادا کیا۔ یہ درست کہ ایران میں مہنگائی کا عنصر بھی موجود اور دنیا کے متعدد ممالک سے ایران کے سفارتی تعلقات بھی محدود جبکہ معاشی پابندیاں بھی زخم لگا رہی ہیں۔ گو کہ گزشتہ سال چین و پاکستان کی خاموش سفارتکاری نے سعودی عرب و ایران کے معاملات طے کروا کے اسلامی دنیا کے لیے روابط کے دروازے کھولے مگر اعتماد سازی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی۔ اب بھی امریکی حملہ کو رکوانے میں سعودی عرب کا کردار مثبت اور اہم رہا۔ ایرانی قیادت کو اس کا ادراک گرم جوشی سے کرنا چاہیے۔ پاکستان بھی گویا تنی رسی پہ چل رہا ہے کہ بے قابو امریکی عفریت کو بھی سنبھالنا ہے اور اسرائیل، بھارت اور شیطان بزرگ کی منشا کے برخلاف سعودیہ اور ترکیہ سے دفاعی معاہدے کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ عوام کو منفی و شر پسندانہ بیانیوں و کارروائیوں سے خود کو الگ کرنا ہو گا کہ ثمرات و برکات اتحاد میں ہیں، انتشار میں نہیں۔





