انتخاباتتازہ ترینخبریں

پی ٹی آئی کے جوش و خروش نے مسلم لیگ (ن) کو پریشانی میں مبتلا کردیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کے باعث پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس 6 قومی اور صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے لیے بظاہر اپنےقائد کی بیٹی اور پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کی طرف رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 157 (ملتان) پر ضمنی انتخاب 11 ستمبر جبکہ این اے 108 (فیصل آباد) اور این اے 118 (ننکانہ صاحب) پر 25 ستمبر کو ہوگا، اسی طرح (شیخوپورہ) اور پی پی 241 (بہاولنگر) کے حلقوں میں 11 ستمبر کو ضمنی انتخابات ہوں گے، جبکہ پی پی 209 (خانیوال) میں پولنگ 2 اکتوبر کو ہوگی۔

جولائی میں پنجاب اسمبلی کی 15 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنے کے بعد پارٹی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے محروم ہونا پڑا جس کے باعث مسلم لیگ (ن) کی قیادت ان 6 حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کے لیے بہت کم پرجوش دکھائی دیتی ہے۔

6 میں سے 5 نشستوں کے لیے انتخاب لڑنے والے پارٹی کے امیدواروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں پارٹی کے کسی بڑے رہنما کی قیادت میں کوئی ‘عظیم الشان’ ریلی نہ کرنے پر قیادت سے ناخوش ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے پی ٹی آئی کے سربراہ کا سخت مقابلہ کرنے کے لیے انہیں اپنی قیادت کی حمایت کی ضرورت ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ ‘امیدواروں کی شکایت پر، پارٹی کے قائد نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز سے کہا ہے کہ وہ ضمنی انتخابات سے قبل کم از کم چند جلسے کریں۔’

انہوں نے کہا کہ مریم نواز جنہوں نے 17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے متاثر کن ریلیوں کی قیادت کی اور خطاب کیا، نے ابھی تک آئندہ انتخابات میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اپنے والد کی ہدایت پر ان کا جمعرات کو پی پی 241 سے ان حلقوں میں کچھ جلسے کرنے کا امکان ہے جبکہ سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز، جو پارٹی کے امیدواروں کو ضمنی انتخاب میں درپیش متعدد مسائل دیکھیں گے وہ منظر عام پر زیادہ متحرک نہیں۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے حیرت کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت نے ضمنی انتخابات کے بارے میں کوئی سنجیدگی کیوں نہیں دکھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ان انتخابات میں ہارنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ شکست یہ ثابت کرے گی کہ عمران خان 13 جماعتی حکمران اتحاد سے زیادہ مضبوط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تصور کریں، ایسے حالات میں، اگلے عام انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ کون مانگے گا؟ اور قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں جیت کو یقینی بنانے میں صرف کریں۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ پارٹی قیادت بظاہر مختلف مقدمات میں عدالتوں سے عمران کی نااہلی پر یقین رکھتی ہے، جس کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے دیگر امیدواروں پر بھی اثر پڑے گا۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر معزول وزیر اعظم عمران ان دو (فیصل آباد اور ننکانہ صاحب) پر الیکشن لڑ رہے ہیں جو قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہوئی تھیں۔

این اے 157 ملتان سے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے حکمران اتحاد کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی کے مقابلے میں اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو میدان میں اتارا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ گیلانی خاندان چاہتا ہے کہ مریم نواز 11 ستمبر کے ضمنی انتخاب سے قبل اس حلقے میں جلسہ کریں حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button