Column

اے راہ حق کے شہیدو… (گذشتہ سے پیوستہ) .. محمد اعجاز الحق

محمد اعجاز الحق

 

پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی نے دشمن کے 45 ٹینک تباہ کر دیئے اور کئی ٹینک قبضے میں لے لیے تھے، جنگ کا پانسہ پلٹتا دیکھ کر بھارتی فوجی حواس باختہ ہوگئے اور ٹینک چھوڑ کرفرار ہونے لگے تو پاک فوج نے دشمن کے علاقے میں کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا اسی لیے چونڈہ کے مقام کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ یوم دفاع آج بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، ہمیں آج بھی بے شمار چیلنجزہیں۔6ستمبر ہماری تاریخ کا ایک عصر آفرین اور تاریخ ساز دن ہے ہمیں عہد کرنا ہے کہ جنگ ہو یا سیلاب، یا قدرتی آفات، پوری قوم نے مل کر، متحد ہو کر اللہ کی نصرت طلب کرنی ہے اور ہمت کے ساتھ کمر باندھ کر ملک کو محفوظ بنانا ہے، قوم میں یک جہتی اور یکسوئی پیدا کرنی ہے تاکہ پوری پاکستانی قوم سرفروش مجاہد بن جائے اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہوجائے۔
ہمیںآج میجر عزیز بھٹی شہید، فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسن شہید، بریگیڈئر شامی شہید، لیفٹیننٹ افتخار جعفر اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے، غازیوں کو سلام پیش کرنا ہے، جانبازی اور جان فروشی کی داستانیں پاکستان کے بچے بچے تک پہنچانی ہیں اپنی نسل کو بتانا ہے کہ ہمارے جری بہادر فوجی کس طرح بھارتی ٹینکوں کے مقابلے میں سامنے کھڑے تھے، ان ٹینکوں کے نیچے اپنے جسموں پر بم باندھ کر لیٹ گئے تھے اور جو بھی ٹینک اس مجاہد کے اوپر سے گزرتا ، دشمن کا
ٹینک بم پھٹتے ہی روئی کے گالوں کی طرح اُڑ جاتاہم ستمبر1965ء کی وہ دوپہرکیسے بھول سکتے ہیں جب لاہور کی فضاؤں میں آٹھ بھارتی گدھوں کے خلاف چار پاکستانی شاہین معرکہ آراء تھے اور زندہ دلان لاہور فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے، سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے 2منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے جبکہ مجمو عی طور پر سات طیارے گرا کرفضائی جنگ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، لمحوں میں ہمارے شاہینوں نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے۔دو جنگی طیاروں کا حشر دیکھ کر باقی چھ بھارتی طیارے بھاگ نکلے دو۔بھارتی طیارے شکار کرنے والے سکوارڈن لیڈر شربت علی چنگیزی، فلائٹ لیفٹیننٹ سید نذیر احمد جیلانی اور فلائٹ لیفٹیننٹ امان اللہ خان تھے۔ہمارے ہوا بازوں نے جنگ کے پہلے روز ہی دشمن فضائیہ مفلوج کرکے رکھ دی تھی،1965ء کی جنگ میں
پاکستان کے پاس 134 لڑاکا بمبار طیارے تھے جن میں 98 قدیم سیبر، 24 بمبار بی 57 اور 12 سٹار فائٹر (ایف 104) تھے جبکہ انڈین طیاروں کی تعداد چھ سو تھی جو جدید اور تیز رفتار طیارے تھے۔ جن میں روسی ساختہ بیس مگ 21 طیارے بھی تھے۔ ان میں آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والے جدید ترین طیارے بھی شامل تھے۔یکم ستمبر 1965ء کو چھمب میں پاکستانی ہوا بازوں نے ایک جھڑپ میں 4 بھارتی طیارے مار کر دشمن پر دہشت طاری کر دی ۔دنیا بھر کی فضائیہ کا کوئی پائلٹ بھی پاکستانی ہوا باز ایم ایم عالم کا 30 سیکنڈ میں دشمن کے چھ جہاز شکار کرنے کا ریکارڈ نہیں توڑ سکا 6 ستمبر کو پاکستانی شہبازوں نے جالندھر سے 40 میل دور کے ہلواڑہ کا ہوائی اڈا سکوارڈن لیڈر رفیقی کی رہنمائی میں فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسن اورسیسل چودھری نے تباہ کر دیا، اس معرکے میں سرفراز رفیقی اور یونس حسن شہید ہو گئے، سیسل چودھری واپس آئے، پاک فضائیہ نے جنگ کے چھٹے روز دشمن کی آنکھ پھوڑنے کا فیصلہ کیا اس مشن میں ونگ کمانڈر انور شمیم، سکوارڈن لیڈر منیر اور فلائٹ لیفٹیننٹ امتیاز احمد بھٹی شامل تھے،اس معرکے میں دشمن کا بھرکس نکال دیا گیاگورداسپور ریلوے سٹیشن پر اسلحہ سے لدی مال گاڑی کو تباہ کرنے کا اعزاز سکوارڈن لیڈر علاؤالدین کی زیر کمان فائٹ لیفٹیننٹ امان اللہ‘ فلائٹ لیفٹیننٹ سلیم اور فلائٹ لیفٹیننٹ عارف منظور کو حاصل ہوا تھا،7 1 روزہ جنگ میں سب سے زیادہ فضائی حملے سرگودھا کے ہوائی اڈے پر ہوئے جنگ کے اختتام پر حکومتِ پاکستان نے اعزازات دینے کا اعلان کیا۔ لاہور، سیالکوٹ اور سرگودھا کو ہلالِ استقلال عطا کرنے کا فیصلہ ہوا، 1965ء کی جنگ میں ہماری فتح قوت ایمانی کی آئینہ دار ہے۔پاک فوج نے سیلاب کی صورت حال کے باعث6 ستمبر کو سادگی اور پر وقار انداز سے منانے کا فیصلہ کیا اور پوری قوم ملک کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ کھڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button