ColumnKashif Bashir Khan

ملک کو برباد کرکے رکھ دیا اس نے منیر .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

آج ہم دنیا میں رسوا ہو چکے ہیں۔معیشت تباہ حال ہو چکی اور ہمارے معاشی ارسطو دنیا بھر میں در در اُدھار مانگتے پھر رہے ہیں۔ہمارا حاکم اعلیٰ بار بار کہہ رہا ہے کہ ہم عالمی مالیاتی ادارے کی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتے یا نوالہ بھی نہیں نگل سکتے۔سیلاب زدگان کی امداد کیلئے دنیا بھر کے ممالک جو امداد کرنا چاہ رہے ہیں اس کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی پریشان کن ہے۔بہت سے ممالک پاکستان کو نقد امداد کی بجائے امدادی سامان کی شکل میں دے رہے ہیں۔کینیڈا سے آنے والی بھاری امداد کیلئے پاکستان میں کینیڈا کے سفارت کاروں کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور اس کے بعد امدادی سامان یا رقوم پنجاب حکومت کو دینے کا اعلان بھی سچ کچھ عیاں کر رہاہے۔اسی طرح کینیڈا اور کچھ اور ممالک کا امدادی سامان ریڈ کراس سوسائٹی کے ذریعے دینے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کا ابرارالحق کو ریڈ کراس پاکستان کی سربراہی سے ہٹا کر شاہد لغاری کر سربراہ بنانا بھی مغربی میڈیا میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔افسوس ناک صورتحال ہے کہ بلوچستان،سندھ اور خیبر پختونخوا میں سیلاب کی تباہی کے بعد عالمی دنیا پاکستان کی جو مدد کرنا چاہ رہی تھی وہ بھی مشروط کر دی گئی ہے، یعنی سامان کی شکل میں امداد دی جائے گی یا اسے تقسیم کرنے کیلئے کسی ادارے کا تعین بھی امداد دینے والے ممالک ہی کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستان میں سیلابی تباہی سے بدترین متاثرین کی بدقسمتی کہ دنیا ان کی مدد کرناچاہتی ہے لیکن پاکستان میں ارباب اختیار پراُن کا اعتبار نہیں اور لگتا ایسا ہے کہ ان عالمی تنظیموں اور ممالک کو موجودہ حکومت کا کرپشن کے کیسوں میں ملوث ہونا گراں گزر رہا ہے۔چین کی جانب سے امدادی رقوم صدر پاکستان کو دینے میں دیکھنے اور سننے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔موجودہ سیلابی
صورتحال کی وجہ سے تباہی نہایت خطرناک ہو چکی جس کے بعد پریشان حال اور بدترین معاشی ابتری کے شکار پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں بیروزگاری اور شدید غربت کا پھیلاؤ ہوتا نظر آ رہاہے بلکہ یہ سب ہو ہی چکا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے سے صرف ایک ارب ڈالر کیلئے ان کی عوام کش شرائط ماننے کے بعد جب وزیر خزانہ اور حکومت وقت کے وزیر اعظم ببانگ دہل خوشی کے شادیانے بجا رہے ہوں تو اس ملک کے مستقبل کے معاشی حالات کیسے ہوں گے اس کا اندازہ ایک عام آدمی بھی آسانی سے لگا سکتا ہے۔بیرون ملک پاکستانی جن کی قانونی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے جبکہ اس سے دو گنا افراد غیر قانونی طور پر بیرون ملک مقیم ہیں۔ پاکستان میں ہرسال بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے اربوں ڈالر ہماری معیشت کی ریڈھ کی ہڈی کی مانند ہیں لیکن موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ان کو تحریک انصاف حکومت کی جانب سے دیئے جانے والا ووٹ کے حق ختم کر کے دراصل بہت بڑی ملک دشمنی کی۔ ووٹ کا حق ختم کرنے کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق تسلیم کر لیا جاتا تو ان ووٹوں کی نوے فیصد تعداد روایتی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور نون لیگ وغیرہ کے خلاف اور تحریک انصاف کے حمایتی ہیں۔دوسری اور بڑی وجہ
انتخابات میں ممکنہ دھاندلی ہے۔بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ای وی ایم کے ذریعے دیا گیا تھا اور اگر اس طریقہ کار کے ذریعے ووٹ ڈالا جائے تو دھاندلی کے امکانات بہت ہی کم ہو جاتے ہیں۔شاید اسی لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اتحادی جماعتیں اس طریقہ کار کے خلاف تھیں کہ 1970 کے بعد تمام انتخابات میں عوام کو مینڈیٹ چوری کیا گیا اور میاں نوازشریف بالخصوص خوش قسمت سیاست دان ہیں کہ 1988 اور اس کے بعد ہونے والے قریباً ہر انتخاب میں ہونے والی انتخابی دھاندلی کا فائدہ ہمیشہ انہیں ہی ہوا۔آج پاکستان میں سیلاب سےجو تباہی مچی ہے، اس کے تناظر میں بیرون ملک رہنے والے محب وطن پاکستانی موجودہ حکومت کو کسی بھی قسم کی امداد بھیجنے سے گریزاں ہیں۔وجہ ان حکمرانوں پر کرپشن کے کیسز اوراوورسیز پاکستانیوں کو اپنے مفاد کیلئے ووٹ کے حق سے محروم کرناہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کئے بغیر آج اس امر کا کھوج لگانا ضروری ہے کہ پاکستان میں انتخابی اصلاحات کا کون دشمن ہے اور کون نہیں چاہتا کہ عوامی مینڈیٹ کو عزت نہ دی جائے۔جس ملک میں عوام کی مرضی کو اپنے مفادات کیلئے روندا جائے وہاں کی افراتفری اور عدام استحکام پریشان کن ہوا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو اب ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہےلیکن 1984میں ڈھونگ ریفرنڈم سے شروع ہونیوالا ڈرامہ جس میں عوامی مینڈیٹ چرانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اس نے قریباً 38 سال اس ملک پاک کے مینڈیٹ پر قبضہ کیے رکھا لیکن جولائی میں پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اس مینڈیٹ
چوری کی کوشش کو عوام نے انتخابات میں بھرپور شرکت کر کے اور پولنگ اسٹیشنوں پر پہرا دے کر بری طرح ناکام بنا دیا۔گو کہ مینڈیٹ چوری کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔یہ صورتحال جہاں خوش آئند ہے وہاں خطرناک بھی ہے۔آج قارئین سوچیں کہ خطرناک کیسے، تو اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ جب ریاستی ادارے ناکام ہو جائیں تو پھر عوام نظام کے خلاف یااپنے حقوق کی حفاظت کیلئے سب کچھ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں تو پھر خانہ جنگی،انارکی یاپھر انقلاب کی صورتحال پیش آیا کرتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم تینوں میں سے کسی ایک صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔آج پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی،تحریر و تقریر پر سنسر،اپنے مخالفین پر مقدموں کی بھرمار اور نشریاتی اداروں کو حکومت کا وقت کا اپنے مفادات کیلئے بھرپور استعمال کرنا دنیا بھر میں موضوع بحث ہے، جو ریاست پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ریاست کے قریباًتمام اداروں میں سیاست، کرپشن اور اپنی اپنی حدود سے باہر نکلنے کی خو نے پاکستان کو آج کہاں پہنچا دیا اس کا اندازہ ایک عام پاکستانی کو تو ہو سکتاہے لیکن جن کا جینا مرنا، اولادیں ، کاروبار اور مفادات ملک سے باہر ہیں، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ کسی بھی ریاست کا پسا ہوا باشندہ اور طبقہ اس کا پیارا ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے عدالت کے نزدیک جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزم عدالت کافیورٹ چائلڈہوتا ہے۔آج سوچنے کا وقت ہے کہ پاکستان میں ریاست کے بنیادی تصور کو پامال بلکہ مسخ کرنے کی کوشش کرنے والے کون کون ہیں؟آج ریاست پاکستان اپنی شکل بگاڑنے والوں کو کوس رہی ہے اور عوام کی بے بسی،محرومیوں اور لاچاری پر بے بس نظر آتی ہے۔آج سیاسی، معاشی اور اخلاقی بدترین انحطاط کے شکار پاکستانی اس ریاست کو ڈھونڈ رہے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے آزاد ریاست کی شکل میں اس عظیم تصور کو عملی جامہ پہنایا تھا۔آج ریاست پاکستان میں ایک طرف ان گروہوں کا عناصر ہیں جن پر اس ملک کی دولت لوٹنے کے شدیدالزامات ہیں اور دوسری جانب ایسا سیاسی رہنما ہے جو ان کے خلاف علم بغاوت بلند کئے بیٹھا ہے۔ ساڑھے تین سال کی حکومت میں وہ نظام کی انتہائی بدصورت شکل کو نہ بدل سکا بلکہ وہ اس کا ذمہ دار مافیاز اور چارہ سازوں کو قرار دیتا ہے۔آج اس سابق وزیر اعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر بھی اس کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں اور اس کو ہر روز کسی نہ کسی بہانے سیاسی میدان سے آؤٹ کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمام ہتھکنڈوں کے بعد اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا نظر آتا ہے۔ گویا عوام نے عمران خان کے علاؤہ سب سیاستدانوں کو مسترد کر دیا ہے۔آج ریاست پاکستان تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں عوام کی غالب اکثریت حقیقی آزادی کی طلب گار ہے اور اداروں کو اپنی اپنی حدود میں واپس جا کر کام کرنے کی مانگ کر رہی ہے۔اصل بات عوامی مینڈیٹ کی ہے اور مینڈیٹ سے ہی حکومتیں بنتی ہیں اور مینڈیٹ نہ ماننے سے انارکی،خانہ جنگی اور انقلاب آیا کرتے ہیں۔عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے اور ان کے حقوق کی پامالی پر مجھےآج منیر نیازی مرحوم کی غزل کا شعر یاد آ رہاہے۔اس شعر میں شہر کی جکہ ملک کی تبدیلی منیر نیازی جیسے عظیم شاعر کی روح سے معذرت کے بعد کر رہا ہوں۔
ملک کو برباد کر رکھ دیا اس نے منیر
ملک پر یہ ظلم اس نے میرے نام پر کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button