CM RizwanColumn

حُب وطن جزو انسانیت ہے ! .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

وطن عزیز میں جہاں ایک طرف غداری اور ملک دشمنی کے سرٹیفکیٹ تھوک کے حساب سے بغیر کسی تصدیق اور تمیز کے جاری کئے جانے کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، وہیں دوسری طرف یہ امر بھی باعثِ صد افسوس ہے کہ وطن سے حقیقی محبت بھی بس خاص طبقوں تک محدود رہ گئی ہے جبکہ اکثر اجارہ دار طبقے اس جزو ایمان سے یکسر تہی دامن ہی چلے آرہے ہیں اور بدقسمتی یہ بھی ہے کہ یہی طبقے اختیار واقتدار میں بااثر بھی ہیں حالانکہ محروم اور پسماندہ طبقات میں اس علت کاخدشہ زیادہ ہوتا ہے مگر یہاں معاملہ ہی الٹ گیا ہے۔ آج کے انسان کو سوچنا چاہیے کہ حیوان بھی جس سر زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس سے محبت و اُنس اس کی فطرت میں ہوتی ہے۔ چرند، پرند، درند حتیٰ کہ چیونٹی بھی اپنے دل میں اپنے مسکن اور وطن سے بے پناہ اُنس اور محبت رکھتی ہے۔
قرآن کریم اور سنّتِ مقدسہ میں اس حقیقت کو شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنی مقبوضہ سرزمین میں داخل ہونے اور قابض ظالموں سے اپنا وطن آزاد کروانے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ (المائدۃ، 5: 21) اے میری قوم! (ملک شام یا بیت المقدس کی) اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو ? تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر (پیچھے) نہ پلٹنا ورنہ تم نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹو گے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا شہر مکہ کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعا کرنا بھی درحقیقت اس حرمت والے شہر سے محبت کی علامت ہے۔ قرآن فرماتا ہے۔ (إبراہیم، 14: 35) اور (یاد کیجیے) جب ابراہیم ؑ نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنا دے اور مجھے اور میرے بچوں کو اس (بات) سے بچا لے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔ ابراہیمؑ کا اپنی اولاد کو مکہ مکرمہ میں چھوڑنے کا مقصد بھی اپنے محبوب شہر کی آبادکاری تھا۔ آپ نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا۔ (إبراہیم، 14: 37) اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی اولاد (اسماعیل ؑ) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسا دیا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں پس تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ شوق و محبت کے ساتھ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں (ہر طرح کے) پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر بجا لاتے رہیں۔ اِسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کے بعد بنی اسرائیل جب اپنی کرتوتوں کے باعث ذلت و غلامی کے طوق پہنے بے وطن ہوئے تو ٹھوکریں کھانے کے بعد اپنے نبی یوشع یا شمعون یا سموئیل ؑسے کہنے لگے کہ ہمارے لیے کوئی
حاکم یا کمانڈر مقرر کر دیں جس کے ماتحت ہو کر ہم اپنے دشمنوں سے جہاد کریں اور اپنا وطن آزاد کروائیں۔ تب نبی ؑ نے فرمایا: ایسا تو نہیں ہوگا کہ تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور تم نہ لڑو؟ اِس پر وہ کہنے لگے۔ (البقرۃ، 2: 246) ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ? جنگ نہ کریں حالانکہ ہمیں اپنے وطن اور اولاد سے جدا کر دیا گیا ہے۔ سو جب ان پر (ظلم و جارحیت کے خلاف) قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے چند ایک کے سوا سب پھر گئے اور ? ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ اس آیت میں وطن اور اولاد کی جدائی کروانے والوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح تعالیٰ نے دیگر نعمتوں کے ساتھ مسلمانوں کو آزاد وطن ملنے پر شکر بجا لانے کی ترغیب بھی دلائی ہے۔ (الانفال، 8: 26) اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم (مکی زندگی میں تعداد میں)تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے تھے۔ یعنی معاشی طور پر کمزور اور استحصال زدہ تھے۔ تم اس بات سے (بھی) خوفزدہ رہتے تھے کہ (طاقتور) لوگ تمہیں اچک لیں گے (یعنی سماجی طور پر بھی تمہیں آزادی اور تحفظ حاصل نہ تھا) پس (ہجرت مدینہ کے بعد) اس (اللہ) نے تمہیں (آزاد اور محفوظ) ٹھکانا (وطن) عطا فرما دیا اور (اسلامی حکومت و اقتدار کی صورت میں) تمہیں اپنی مدد سے قوت بخش دی اور (مواخات، اموالِ غنیمت اور آزاد معیشت کے ذریعے) تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا فرما دی تاکہ تم (اللہ کی بھرپور بندگی کے ذریعے اس کا) شکر بجا لا سکو۔ ان آیات سے وطن کے ساتھ محبت کرنے، وطن کی خاطر ہجرت کرنے اور وطن کی خاطر قربان ہونے کا شرعی جواز ثابت ہوتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی اپنے وطن سے محبت کی واضح نظائر ملتی ہیں، جن سے محبتِ وطن کی مشروعیت اور جواز کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ حدیث، تفسیر، سیرت اور تاریخ کی قریباً ہر کتاب میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جب حضور نبی اکرمﷺ پر نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو سیدہ خدیجہ ؓآپ ﷺکو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے حضور نبی اکرم ﷺسے نزولِ وحی کی تفصیلات سن کر تین باتیں عرض کیں۔ ایک یہ کہ آپ کی تکذیب کی جائے گی یعنی (معاذ اللہ) آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے گی۔ آپ کو اذیت دی جائے گی اور آپ کو اپنے وطن سے نکال دیا جائے گا۔ امام سہیلی نے الروض الانف میں رسول ﷺکی اپنے وطن کیلئے محبت کے عنوان سے لکھا ہے کہ جب ورقہ بن نوفل نے آپ ﷺکو بتایا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کرے گی تو آپ ﷺنے خاموشی فرمائی۔ ثانیاً جب اس نے بتایا کہ آپﷺکی قوم آپ ﷺکو تکلیف و اذیت میں مبتلا کرے گی تب بھی آپ ﷺنے کچھ نہ فرمایا لیکن تیسری بات جب اس نے عرض کی کہ آپﷺکو اپنے وطن سے نکال دیا جائے گا تو آپﷺنے فوراً فرمایا کہ کیا وہ مجھے میرے وطن سے نکال دیں گے؟۔ امام سہیلی لکھتے ہیں کہ اس میں آپﷺ کی اپنے وطن سے شدید محبت پر دلیل ہے۔اِسی طرح ہر مرتبہ سفر سے واپسی پر حضور نبی اکرمﷺ کا اپنے وطن میں داخل ہونے کیلئے سواری کو تیز کرنا بھی وطن سے محبت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ گویا حضور نبی اکرم ﷺوطن کی محبت میں اتنے سرشار ہوتے کہ اس میں داخل ہونے کیلئے جلدی فرماتے، جیسا کہ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرمﷺجب سفر سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کر دیتے اور اگر دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو بھی مدینہ منورہ کی محبت میں اُسے تیز بھگاتے تھے۔ یہ اور اس جیسی متعدد احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرمﷺ اپنے وطن مدینہ منورہ کی خیرو برکت کیلئے دعا فرماتے جو اپنے وطن سے محبت کی واضح دلیل ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تو حضور نبی اکرمﷺکی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے۔ حضور نبی اکرمﷺاسے قبول کرنے کے بعد دعا فرماتے: اے اللہ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما۔ ہمارے (وطن) مدینہ میں برکت عطا فرما۔ ہمارے صاع میں اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔ اور مزید دعا فرماتے۔(صحیح مسلم 2: 1000، رقم: 1373) اے اللہ! ابراہیم ؑتیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ مکرمہ کیلئے دعا کی تھی۔ میں ان کی دعاؤں کے برابر اور اس سے ایک مثل زائد مدینہ کیلئے دعا کرتا ہوں یعنی مدینہ میں مکہ سے دوگنا برکتیں نازل فرما۔ حضرت عائشہ ؓروایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کوئی شخص مکہ مکرمہ سے آیا اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺمیں حاضر ہوا۔ سیدہ عائشہؓنے اس سے پوچھا کہ مکہ کے حالات کیسے ہیں؟ جواب میں اُس شخص نے مکہ مکرمہ کے فضائل بیان کرنا شروع کیے تو رسول اللہ ﷺکی چشمانِ مقدسہ آنسوئوں سے تر ہوگئیں۔ آپﷺ نے فرمایا: (ترجمہ )
اے فلاں! ہمارا اِشتیاق نہ بڑھا۔
جب کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اُسے فرمایا کہ وطن سے دور رہ کر ہمیں قرار پکڑنے دے۔ مطلب یہ کہ وطن سے دوری بے قراری اور اضطراب کا باعث بن سکتی ہے۔ قرآن حکیم کی سب سے معروف اور مستند لغت یعنی المفرادت کے مصنف امام راغب اصفہانی نے اپنی کتاب ’محاضرات الادباء (2:652) میں وطن کی محبت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کی گفت گو کا خلاصہ وہ یوں لکھتے ہیں کہ (ترجمہ)
اگر وطن کی محبت نہ ہوتی تو پسماندہ ممالک تباہ و برباد ہوجاتے (کہ لوگ انہیں چھوڑ کر دیگر اچھے ممالک میں جابستے اور نتیجتاً وہ ممالک ویرانیوں کی تصویر بن جاتے)۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اپنے وطن کی محبت سے ہی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی ہوتی ہے۔ اس کے بعد امام راغب اصفہانی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓکا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ایک شخص نے اپنا رزق کم ہونے کی شکایت کی تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے اسے فرمایا۔ (ترجمہ )
کاش! لوگ اپنے رِزق پر بھی ایسے ہی قانع ہوتے جیسے اپنے اَوطان (یعنی آبائی ملکوں)پر قناعت اختیار کیے رکھتے ہیں۔ اِسی طرح جب ایک دیہاتی سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح دیہات کی سخت کوش اور جفاکشی و رِزق کی تنگی والی زندگی پر صبر کرلیتے ہیں تو اس نے جواب دیا۔(ترجمہ)
اگر تعالیٰ بعض لوگوں کو پسماندہ مقامات پر قائل نہ فرمائے تو ترقی یافتہ مقامات تمام لوگوں کے لئے تنگ پڑ جائیں۔ یعنی اگر سارے مقامی باشندے اپنے آبائی علاقوں کی پسماندگی و جہالت اور غربت و محرومیوں کے باعث ترقی یافتہ علاقوں کی طر ف ہجرت کرتے رہے تو ایک وقت آئے گا کہ ترقی یافتہ علاقے بھی گوناگوں مسائل کا شکار ہوجائیں گے اور اپنے رہائشیوں کیلئے تنگ پڑ جائیں گے۔ اِس کے بعد امام راغب اصفہانی نے وطن سے محبت کی فضیلت کے عنوان سے لکھا ہے۔ (ترجمہ )
وطن کی محبت اچھی فطرت و جبلت کی نشانی ہے۔ مراد یہ ہے کہ عمدہ فطرت والے لوگ ہی اپنے وطن سے محبت کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وطن کی نیک نامی اور اَقوامِ عالم میں عروج و ترقی کا باعث بنتے ہیں نہ کہ ملک کیلئے بدنامی خرید کر اس پر دھبہ لگاتے ہیں۔ کسی بھی شخص کے معزز ہونے اور اس کی جبلت کے پاکیزہ ہونے پر جو شے دلالت کرتی ہے وہ اس کا اپنے وطن کیلئے مشتاق ہونا اور اپنے دیرینہ تعلق داروں یعنی اعزاء و اقربا، رفقاء و دوست احباب اور پڑوسیوں سے محبت کرنا اور اپنے سابقہ زمانے کے گناہوں پر آہ و زاری کرنا اور ان کی مغفرت طلب کرنا ہے۔ اِسی لیے بعض فلاسفہ کا کہنا ہے کہ فطرتِ اِنسان کو وطن کی محبت سے گوندھا گیا ہے یعنی وطن کی محبت انسان کی فطرت میں شامل کر دی گئی ہے۔ وطن سے محبت کے بغیر کوئی قوم آزادانہ طور پر عزت و وقار کی زندگی گزار سکتی ہے نہ اپنے وطن کو دشمن قوتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جس قوم کے دل میں وطن کی محبت نہیں رہتی پھر اُس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے اور وہ قوم اور ملک پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں وطنِ عزیز سے ٹوٹ کر محبت کرنی چاہیے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ وطن سے محبت صرف جذبات اور نعروں کی حد تک ہی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے گفتار اور کردار میں بھی اس کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ ہمیں ایسے عناصر کی بھی شناخت اور سرکوبی کے اقدامات کرنی چاہیے جو وطنِ عزیز کی بدنامی اور زوال کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے سیاستدانوں سے بھی چھٹکارے کیلئے جد و جہد کرنی چاہیے جو وطنِ عزیز کو لوٹنے اور اس کے ایٹمی اثاثے منجمد کر دینے کے درپے ہیں اور آئے روز اس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ہمیشہ وطنِ عزیز کی سلامتی کے درپے رہتے ہیں۔ معاشرے کے اَمن کو غارت کرنے والے عناصر کو ناسور سمجھ کر کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اپنا بھرپور قومی کردار ادا کرنا چاہیے۔ وطن کا وقار، تحفظ، سلامتی اور بقا اِسی میں ہے کہ لوگوں کے جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہوں۔ وطن کی ترقی اور خوش حالی اسی میں ہے کہ ہمیشہ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے اور ہر سطح پر ہر طرح کی کرپشن اور بدگمانی کا قلع قمع کیا جائے۔ معاشرے میں امن و امان کا راج ہو۔ ہر طرح کی ظلم و زیادتی سے خود کو بچائیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔ ہمیں آج کے دور میں بالخصوص ایسے سیاستدانوں کی سرکوبی کرنی چاہیے جو اقتدار میں ہوں تو خود کو سب سے بڑا محب وطن قرار دینے کیلئے اسی ملک کے وسائل استعمال کرتے ہیں اور جب اقتدار سے باہر ہوں تو ملک کے ازلی دشمنوں سے مل کر بھی سازشیں کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہمیں حقیقی معنوں میں محب الوطن بننا ہے حب الوطنی کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button