Ali HassanColumn

سیاست دان بمقابلہ افسر شاہی .. علی حسن

علی حسن

 

کڑے وقت میں کڑاامتحان ہی ہوتا ہے۔ انسان کی قوت برداشت، در گزر، تمنائے طلب، انسان کی شناخت، نظر انداز کرنے کی صلاحیت، غرض ہر انسان کا ایکسرے سے بڑھ کر الٹرا سائونڈ اور ایم آرآئی ایسے ہی وقت میں ہوجاتا ہے۔ لوگ تو امتحان سے گزر ہی رہے ہیں لیکن سیاست دان، سرکاری ملازمین بھی امتحان کا شکار ہیں۔ سیاست دانوں پر ان کے حلقے یا شہر کے لوگوں کا دبائو ہے کہ انہیں مشکل سے نجات دلائیں۔ سیاست دان اپنے دبائو کو کم کرنے کیلئے سرکاری افسران پر دبائو ڈالتے ہیں۔ کہیں بلدیاتی افسران ، کہیں محکمہ آبپاشی یا کہیں ضلعی انتظامیہ کے افسران کو دبائو کا سامنا کرناپڑتا ہے، چونکہ ہر چیز کی طلب زیادہ اور رسد بہت کم ہے، ضرورت بہت زیادہ ہے لیکن فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اکثر لوگوں کے ہاتھوں سے صبر کا دامن چھوٹ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن واقعہ شہداد کوٹ میں پیش آیا جہاں سندھ اسمبلی کے اراکین چانڈیو برادران ، سردار خان اور برہان خان ڈپٹی کمشنر ہائوس پر پہنچے اور دندناتے ہوئے اندر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ڈپٹی کمشنر عابد علی شیخ کے ساتھ بہت زیادہ تلخ کلامی کی اور ایک طرح سے ان پر چڑھ دوڑے ۔ چوںکہ چانڈیو قبیلہ کے سردار ہیں، اس علاقہ میں ان کے قبیلہ کے لوگ ہی رہائش رکھتے ہیں سو وہ ڈپٹی کمشنر پر دبائو ڈال رہے تھے کہ سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے جو بھی سامان آیا ہے، وہ ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ چانڈیو برادران تقسیم کریں۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سامان کی فہرست مکمل ہو گی پھر ضرورت مند لوگوں کی فہرست بنا کر سرکاری عملہ ہی تقسیم کرے گا۔ چانڈیو برادران کیلئے یہ قابل قبول بات نہیں تھی کیوں کہ اس طریقہ کا ر سے انہیں سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان کم تھا ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے زبر دست منہ ماری کی جس کی آواز اور تپش کراچی تک پہنچی اور نہ صرف کمبر کے ریونیو عملے نے امدادی کاموں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا بلکہ سندھ کے تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حضرات نے کام نہ کرنے اور مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی۔ اس طرح کی دھمکی ایسے وقت میں جب حکومت کو اپنے ان ہی کل پرزوں پر انحصار کرنا ہے، حکومت کیسے برداشت کرتی کہ ڈپٹی کمشنر حضرات با جماعت کام چھوڑ دیں۔ وزیر اعلیٰ نے چانڈیو برادران کو ’’ شٹ اپ‘‘ کال دی اور حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جا کر معافی تلافی کریں اور ڈپٹی کمشنر کے کاموں میں مداخلت نہیں کریں۔ عابد علی شیخ بھی لاڑکانہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ شہداد کوٹ ماضی میں ضلع لاڑکانہ کا ہی حصہ تھا۔ چانڈیو برادران کو اپنے وقت کے بہت بڑے جاگیر دار غیبی خان چانڈیو کے پڑ پوتے ہونے کا زعم ہے۔ پھر پیپلز پارٹی نے بھی انتخابی حلقوں کو مورثی بنادیا ہے جیسے خاندانی مورثی جا ئیداد ہو جو دادا سے باپ اور باپ سے بیٹوں میں منتقل ہو۔ اکثر اسمبلی اراکین کا دبائو ہے کہ پانی کی نکاسی ان کی مرضی سے کی جائے ۔
اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی زمین کسی طرح محفوظ رہ سکے۔ شہداد کوٹ کمبر کے ہی رکن قومی اسمبلی نادر مگسی پانی کی نکاسی کیلئے وزیراعظم،بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے ساتھ تلخ بحث میں اس حد تک الجھ گئے کہ بلاول بھٹو کو کہنا پڑا کہ اس موضوع پر بیٹھ کر بعد میں بات کرتے ہیں۔ پہلے وزیر اعظم کو بریف کرنے دیں کہ کس حد تک نقصانات ہوئے ہیں۔
سرکاری افسران کو اکثر و بیشتر دبائو کا سامنا رہتا ہی ہے۔ کبھی کبھی یہ دبائو خطر ناک شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ سالوں قبل اپنے وقت کے با صلاحیت سرکاری افسر زبیر قدوائی کے ساتھ پیش آیا تھا جب سیکریٹری نے اس وقت کے وزیر منظور وسان کی مرضی کے مطابق کام نہیں کیا تو وہ اپنے گارڈ کو لے کر قدوائی کے دفتر میں پہنچ گئے تھے۔ بی بی مرحومہ اس وقت وزیر اعظم تھیں۔ اس واقعہ کے بعد بھی سرکاری افسران نے قلم چھوڑ ہڑتال کی دھمکی دے دی تھی۔ بی بی نے منظور وسان کو مجبور کیا تھا کہ وہ زبیر قدوائی سے معافی مانگیں۔ منظور وسان آج کل وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر زراعت ہیں۔ خیر پور کے پانی میں ڈوبے عوام نے ان کا راستہ روک لیا تھا اور ان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔
ایک عابد علی ہی نہیں بلکہ تمام ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے علاقوں میں سیلاب متاثرین کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنمائوں اور اراکین اسمبلی کے شدید دبائو کا شکارہیں۔ محکمہ آبپاشی کے افسران اور بلدیاتی افسران بھی دبائو کا شکار ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران سے متاثرین کا سامنا ہی نہیں ہوتا کیوں کہ اکثر مقامات پر ہسپتال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ متاثرین کھانا مانگتے ہیں، پینے کا پانی مانگتے ہیں اور مچھر دانیاں مانگتے ہیں، مویشیوں کیلئے چارہ مانگتے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس سامان آیا ہے جو وہ انہیں نہیں دے رہے ہیں۔ سیاسی رہنماچاہتے ہیں کہ امدادی سامان ان کے حوالے کر دیا جائے۔ اگر ان کی خواہش پوری نہ ہو تو سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر کے خلاف خطر ناک مہم چلا دی جاتی ہے۔ جن علاقوں میں سیم نالہ (ایل بی او ڈی ) بہہ رہا ہے، نہریں موجود ہیں، پانی کسی منصوبہ کے بغیر ان میں ڈالا جارہا تھا ، سیم نالہ میں تو اکثر مقامات پر ایسے شگاف پڑ گئے جن کی وجہ سے آبادیاں متاثر ہو گئیں اور زرعی زمینوں میں سیم کا پانی داخل ہو گیا۔ بہت زیادہ تشویش ناک
صورت حال تو منچھر جھیل میں شگاف ڈالنے کے سوال پر ہوئی۔ منچھر جھیل سندھ کے وزیر اعلیٰ کے حلقے اور ان کے گائوں کے علاقہ میں واقع ہے۔ ڈپٹی کمشنر فرید الدین مصطفے مہینوں سے مختلف قسم کے ذہنی دبائو میں کام کر رہے ہیں۔ کسی بھی افسر کیلئے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے ضلع، بر سر اقتدار پارٹی کی قیادت کے علاقے میں ذمہ داریاں ادا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ بیک وقت ان کے ایک سے زیادہ کئی صاحب ہوتے ہیں۔ انہیں ہر ایک کی سننی پڑتی ہے۔ جامشورو کے ڈپٹی کمشنر نے منچھر جھیل میں شگاف ڈالنے کے فیصلے کے بعد ذرائع ابلاغ کو کہا کہ ہر شخص ماہر آبپاشی بنا ہوا ہے ، اپنے اپنے ذہن کے مطابق مشورے دے رہا ہے اور دبائو بھی ڈال رہا ہے۔ یہ آبپاشی کے انجینئروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ شگاف کہاں اور کس وقت ڈالنا ہے۔ بہت سارے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے۔ سیاست دانوں، اراکین اسمبلی اور متاثرین کے پریشر کا سامنا کرنے کی بجائے کئی ڈپٹی کمشنر حضرات نے تو حکومت کی جانب سے آنے والا سامان علاقہ کے بااثر افراد کے حوالے کردیا تاکہ ان کا درد سر ختم ہو۔
کئی مقامات پر تو لوگوں نے با اثر افراد کے گوداموں پر دھاوا بول کرسامان ہی لوٹ لیا۔ بعض شہروں میں ایسا بھی ہوا ہے کہ حکومت نے احتجاج کے بعد خیر پور سے تبادلہ کر کے ڈپٹی کمشنر سیف اللہ ابڑو کو میر پور خاص تبادلہ کردیا جہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن قائم مقام ڈپٹی کمشنر کے طور پر کام کر رہے تھے ، پورے شہر بھر نے زین العابدین کے حق میں مظاہرے کر کے حکومت کو مجبور کر دیا کہ سیف اللہ ابڑو کا تبادلہ منسوخ کیا جائے اور زین العابدین کو ہی کام کرنے دیا جائے۔ سیف اللہ ابڑو کی شہرت خیر پور میں پانی کی نکاسی میں ناکامی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر داغدار ہو گئی تھی۔ مٹیاری کے رکن قومی اسمبلی طارق شاہ نے محکمہ آبپاشی کے اہل کاروں کو لوگوں کے سامنے سخت سست کہا کہ ان کے کہنے کے باوجود انہوں نے پانی نکالنے کے پمپ کیوں کرادیئے۔ رکن قومی اسمبلی چاہتے تھے کہ ان کی زمینوں پر موجود پانی کسی طرح بھی نکالا جائے۔ وہ اہل کار کسی اور کی زمین پر ڈالنے کیلئے تیار نہیں تھا۔اس تماش گاہ میں ان واقعات کو سنانے کا مقصد یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے ایک سے زیادہ الرٹ پر کان ہی نہیں دھرا ، کسی قسم کے کوئی احتیاطی اقدامات ہی نہیں کئے گئے۔ اس کا کیا مطلب لیا جائے کہ بلدیاتی ادارے پانی کی بروقت نکاسی کرنے میں کیوں ناکام رہے۔ سارے مقامات پر ہر قدم پر کمزوریاں اور خرابیاں موجود تھیں۔ بنیادی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ ہر جگہ سفارشی لوگ مقرر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button