تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

میرے کام کو سمجھنے میں گریمی جیتنے تک کا وقت لگا ، عروج آفتاب

 پہلی پاکستانی گریمی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ عروج آفتاب نے کہا ہے کہ مختلف اندازِ موسیقی سننے کی جستجو نے انہیں لاہور سے امریکا کا سفر کرنے پر مجبور کیا۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ 18 برس کی عمر میں انہوں نے پہلا گانا جیف بکلی کا ’ہلیلوجاہ‘ کو ریکارڈ کرکے میوزک شیئرنگ سائٹ پر ڈالا جسے بہت پسند کیا گیا۔

یہ گانا اتنا وائرل ہوا کہ سٹوڈنٹ لون پران کا داخلہ بوسٹن کے برکلی کالج آف میوزک میں ہوگیا اور وہ موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر امریکا روانہ ہوگئیں۔

میوزک کالج میں انہوں نے مختلف آلات کی مدد سے میوزک کمپوز اور پروڈیوس کرنا سیکھا۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں غصہ آتا ہے جب کوئی ان کے گانے کو ’’کور‘‘ کہتا ہے، کیوں کہ وہ مختلف پرانے گانوں کو ازسرِ نو ترتیب دے کر دوبارہ بناتی ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ان کی موسیقی میں منفرد بات یہ ہے کہ یہ نہ تو مکمل پاکستانی ہے اور نہ ہی یہ مکمل مغربی بلکہ یہ ان کا مکسچر ہے جو سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا سے متعارف کرواتا ہے۔موجودہ نسل ان کی موسیقی کو اس لیے زیادہ پسند کر رہی ہے کیوں کہ نوجوان اب مقررہ زمروں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہتے، برسوں تک، ایشیائی فنکاروں کو ایک طرف دھکیل دیا گیا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

عروج آفتاب کا کہنا ہے کہ وہ اردو زبان میں گانے کے لیے پرعزم ہیں، کیونکہ یہ ایک بہت خوبصورت اور میٹھی زبان ہے۔انہیں افسوس ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ سمجھنے میں گریمی جیتنے تک کا وقت لگا کہ وہ اتنے برسوں سے جو کچھ کر رہی ہیں وہ قابل قدر ہے لیکن انہیں خوشی ہے کہ اب لاہور میں میوزک کے حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے اور اب ابھرتے ہوئے موسیقاروں کو زیادہ قبول کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ ان کے تیسرے البم ’ولچر پرنس‘ میں پاکستان کے معروف غزل گائیک مہدی حسن کے گانے ’محبت‘ نے انہیں 2022 کا گریمی ایوارڈ دلوایا۔

یہ گانا سابق امریکی صدر باراک اوباما کی پلے لسٹ میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔عروج آفتاب اس وقت یورپ اور امریکا کے بعد جرمنی، برلن اور ہیمبرگ کے دورے پر ہیں جہاں وہ اپنی البم سے مختلف گانے کانسرٹ میں پیش کریں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button