ColumnImtiaz Aasi

قتل کے مجرمان پر معافی کا اطلاق .. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

 

ایک زمانے میں قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرمان صدر مملکت کی طرف سے مذہبی تہواروں پر دی جانے والی معافیوں کے ملنے کے بعد زیادہ سے زیادہ سات سال میںرہا ہو جایا کرتے تھے۔1997 پاکستان کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ نے تمام قیدیوں کی سزائوں میں پانچ سال کی کمی کر دی جس کا فائدہ چاروں صوبوں کی جیلوں کے ہزاروں قیدیوں کو ہوا اور انہیں رہائی مل گئی ۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2001 میں قتل کے مجرمان کو صدارتی معافیاں دینے کا سلسلہ بند کر دیا گیا جس کے بعد عمر قید کی سزا پانے والوں کو کم ازکم بیس برس تک جیلوں میں رہنا پڑا۔دو عشروں سے زیادہ وقت گذرنے کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر قتل کے مجرمان کو بیک وقت پانچ سال کی معافی دی ہے جس کا فائدہ ملک بھر کی جیلوں میں گذشتہ اٹھارہ سال سے قید قتل کے مجرمان کو ہوا ہے ۔قتل کے مجرمان کی رہائی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے جوں جوں قیدی اپنے جرمانے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا رہے ہیں جیلوں کی انتظامیہ انہیں رہائی دے رہی ہے۔پنجاب میں ایسے قیدی جو اپنی ایک تہائی قید گذار کر پیرول پر رہا ہوئے تھے ان کی بڑی تعداد کو صدارتی معافی کو فائدہ ہوا ہے پنجاب میں چھ سو
کے قریب قتل کے مجرمان پیرول پر تھے جن میں پانچ سو پچاس قیدیوں کو اب تک رہائی مل چکی ہے۔صدر کی طرف سے ملنے والی معافی کا فائدہ ان قیدیوں ک بھی بہت زیادہ ہوا ہے 65 سال یا اس سے زیدہ عمر کو پہنچ چکے تھے وہ قیدی جو اپنی قید کے پندرہ سال گذار چکے تھے ان کی بقیہ قید معاف کر دی گئی ہے ۔وہ قیدی جو اپنی سزا کا پانچواں حصہ گذار چکے تھے انہیں بھی صدارتی معافی کو فائدہ ہوا ہے۔وہ خواتین جو ساٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کو پہنچ چکی تھیں اور اپنی قید کے دس سال گذار چکی تھیں انہیں بھی رہائی مل گئی ہے۔اپنی قید کا ایک تہائی عرصہ گذارنے والے قیدیوں کو بھی فوری طور پر رہائی مل گئی ہے۔وہ قیدی جو جیلوں میں گذشتہ بیس سال سے پڑئے تھے وہ بھی رہا ہو چکے ہیںالبتہ وہ قیدی جو دہشت گردی، زنا، ڈکیتی، گینگ ریپ، ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ایسے قیدی جو اغوا برائے تعاون ، بغاوت، حدود کیسز اور بنک ڈکیتی میں سزا یاب تھے ان پر اس صدارتی معافی کا اطلاق نہیں ہوا ہے۔اسی طرح موت کی سزا پانے والے قیدیوں کو بھی اس معافی کا کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔صدر مملکت کی طرف سے اس پانچ سالہ معافی کا اطلاق 1997 میں پانچ سالہ معافی کی طرح قتل کے تمام مجرمان کو ملے گا ۔جیسے جیسے قتل کے مجرمان رہائی کے قریب پہنچ چکے ہوں گے انہیں اس معافی کا فائدہ دے کر رہائی مل جائے گی۔
پرویز مشرف دور میں قتل کے مجرمان کو معافیاں دینے کا سلسلہ بند ہوا تو جیلوں میں قیدیوں نے تعلیمی معافیوں کے حصول کے لئے مختلف کورسز کرنے شروع کر دیئے تاکہ وہ تعلیمی معافیوں کے ملنے سے کسی طرح رہائی کے قریب پہنچ سکیں۔ہزاروں قیدی ایسے تھے جنہوں نے قیدی کے دوران اپنی مشقت کے علاوہ تعلیم کی طرف توجہ جاری رکھ کر تعلیمی معافیاں حاصل کرکے صدارتی معافی ملنے کے بعد رہائی پا چکے ہیں۔سنٹرل جیلوں سے رہا ہونے والوں کی تعداد تو ہزاروں میں ہے جب کہ ضلعی جیلوں سے بھی کئی سو قیدی رہا کر دیئے گئے ہیں۔ضلعی جیلوں میں ایسے
قیدی جنہیں عمر قید کی سزا ہوجائے تو انہیں مشقت کی خاطر ضلعی جیلوں سے سنٹرل جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ضلعی جیلوں میں فیکٹریاں نہیں ہوتیں چنانچہ عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کو ان کے آبائی اضلاع کی سنٹرل جیلوں میں شفٹ کر دیا جاتا ہے۔صدر کی طرف سے پانچ سالہ معافی کا سب سے بڑا فائدہ قیدیوں کوہوا ہی ہے دوسری طرف ہزاروں قیدیوں کی رہائی سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہونے میں مدد ملی ہے ۔جیلوں کی انتظامیہ کو اس معافی کا بڑا فائدہ یہ ہوا ہے جیلوں میں قیدیوں کے رہنے کے لئے مزید گنجائش پیدا ہوجائے گی ورنہ تو ملک بھر اور خصوصا پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد ملک بھر کی جیلوں سے بہت زیادہ ہے۔یہ بھی حقیقت ہے جن خاندانوں کے افراد قتل ہوتے ہیں ان کے جذبات اپنی جگہ ایسے لوگوں کی داد رسی تو عدالتوں کی طرف سے ملزمان کو سزاوں کے بعد ہو جاتی ہے اس کے برعکس یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے جب کوئی قتل جیسے سنگین جرم میں سزا یاب ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے خاندان کے لوگ بھی رل جاتے ہیں۔کسی خاندان کا کوئی واحد کفیل قتل جیسے جرم میں عمر قید ہو جائے تو جرم کرنے والا تو اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ اس کے اہل خانہ جس عصیبت سے گذرتے ہیں اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔یہ بات درست ہے جیلوں میں قیدیوں کو کھانے کے لئے روٹی ضرور ملتی ہے مگر اس کے ساتھاانسان کی اور بھی ضروریات زندگی ہوتیں ہیں جس کا پورا کرنا مجرم کے اہل خانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کسی مجرم کے گھر کے افراد اس کی ملاقات کے لئے جیلوں میں جاتے ہیں اور انہیں جس طر ح کی اذیت سے گذرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ عام آدمی نہیں لگا سکتا۔حالیہ صدارتی معافی سے جن گھروں کے چولہے عشروں سے بجھے ہوئے تھے وہ گھرانے ایک بار پھر آباد ہو جائیں گے۔وفاقی حکومت کی طرف سے قتل کے مجرمان کو پانچ سالہ معافی دینے سے برسوں سے جیلوں میں پڑے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔رہائی پانے والے ان ہزاروں قیدیوں میں بہت سے ایسے ہوں گے جن کے والدین ان کے غم میں اس جہان فانی کو سدھار گئے ہوں گے۔توجہ طلب بات یہ بھی ہے قتل جیسا اقدام عام طور پر کوئی شخص انتہائی مجبوری میں اٹھا سکتا ہے بہت سے لوگ جائیدادوں کے تنازعات کے باعث قتل جیسے سنگین جرم کے مرتکب ہو تے ہیںلہذا ایسے مجرمان کو موازنہ دہشت گردی میں ملوث مجرمان سے نہیں کیا جانا چاہیے ۔ہم امید کرتے ہیں وفاقی حکومت مذہبی تہوارو ں پرصدر کی طرف سے قیدیوں کو ملنے والی معافیوں کا اطلاق قتل کے مجرمان کرنے کا سلسلہ از سر نو شروع کرئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button