ColumnKashif Bashir Khan

ابراہیم .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

آج کالم لکھنے بیٹھا توقریباً 20 سال قبل کا سچا واقعہ اور مرکزی کردار ابراہیم کاچہرہ بھی مجھے یاد اور اس کے چہرے کا کرب میری یادوں میں تازہ ہے اور لگتا یہی ہے کہ ہمیشہ یہ سب تازہ ہی رہے گا۔ لاہور کی لبرٹی مارکیٹ سے مین مارکیٹ کی طرف آتے ہوئے ٹریفک سگنل کے قریب تیز رفتار کار نے ادھیڑعمرشخص جو کہ اپنے سر پر آلو چھولے کی چھابڑی اٹھائے جارہا تھا، کو ٹکرماری جس پر اس کے بیٹھنے کا اسٹول اور چھابڑی کا سٹینڈ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر پہلے زمین پر گرا اور اس کے بعد اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود سر پر اٹھائی ہوئی بھاری چھابڑی زمین پر آگری،یوں اس کے کاروبار کا تمام سامان لمحوں میں زمین پرتھا۔میں چونکہ ٹریفک سگنل پر کھڑا تھا اس لیے سارا واقعہ دیکھتا رہا، میں نے چھابڑی گرنے سے پہلے اس شخص کی وہ تمام کوششیں بھی دیکھیں جو وہ چھابڑی کو گرنے سے بچانے کے لیے چند لمحوں میں کرچکا تھا لیکن غریب محنت کش ی چھابڑی نے گرنا تھا سو وہ گر گئی۔چھابڑی گرتے ہی مایوسی،دکھ اور کرب کے جوتاثرات اس شخص کے چہرے پر نمودار ہوئے ان کی تاب لانا نہایت مشکل تھا۔ فٹ پاتھ کے ساتھ ہی اس کی’’ دکان‘‘بکھری پڑی تھی اور وہ شخص پاس ہی زمین پر آلتی پالتی مار کر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں لیے ایسے بیٹھا تھا جیسے اس کی زندگی بھر کی پونجی لٹ گئی ہو یا پھر اس کا کوئی قریبی عزیز مرگیا اور وہ سوگوار ہے۔ اپنے روزگار کے واحد ذریعے کو زمین پر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہوا وہ شخص لٹھے کی طرح سفید ہو چکا تھا گویا اس کے بدن کا سارا خون ہی نچوڑ لیا گیا ہو۔نگاہوں کی حسرت بتا رہی تھی کہ اس کے دماغ میں اس وقت شورش برپا ہے اور اس کو اپنے غریب بچوں کی بھوک و پیاس نظر آرہی ہے۔اس کے گھرپر جو مفلسی اور غربت بال کھولے سو رہی تھی اس نے ٹھیلے والے کوپل بھر میں صدیوں کا بیمار بنا دیا تھا۔ اس کی دیہاڑی خراب ہو گئی، گھرکا چولہا امیر گھرانے کے نوجوان کی تیز رفتاری کی وجہ سے بجھ چکا تھا، اس کے بچوں کی غریبوں والی خواہشات کا قتل ہو چکا تھا۔

کچھ ہی دیر میں سگنل کھلا تو میں آگے بڑھا اور ساہیڈ پر گاڑی کوکھڑا کر کے اس شخص کی طرف جانے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اسی اثنامیں ٹریفک پولیس کا اہلکار آیا اور اسے کہاکہ اپنی چھابڑی فوری اٹھا لے کیونکہ کسی’’بڑے‘‘ آدمی نے گزرنا ہے اور اگر وہ یہاں بیٹھا رہا تو اس کی نوکری کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔اس شخص نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ٹریفک پولیس کے اہلکار کی طرف دیکھنا شروع کر دیا گویا اس کی سننے اور بولنے کی صلاحیت ہی ختم ہو چکی ہو۔اتنے میں کچھ نوجوان اکٹھے ہو ئے اور غریب ٹھیلے والے سے اظہار ہمدردی کرنے لگے۔جب ان نوجوانوں نے ٹریفک اہل کار کی بات سنی تو اس’’بڑے‘‘شخص کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے،صورت حال دیکھ کر ٹریفک اہلکار وہاں سے کھسک گیا۔مجھے ایسا لگا گویا دل سے وہ بھی یہی کچھ چاہتا تھا جووہ نوجوان کسی ’’بڑے‘‘کے خلاف کر رہے تھے۔اس کے بعد ان نوجوانوں نے جن کا تعلق متوسط طبقے کے گھرانوں سے لگ رہا تھا، آپس میںصلاح و مشورہ شروع کردیاجبکہ چھابڑی والا ان نوجوانوں کی سرگرمیوں سے بے خبر اپنا سر پکڑ کر کہیںکھویاہوا تھا۔ ان میں سے دو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کسی طرف چلے گئے۔میں پاس ہی کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک بہت ہی مہنگی گاڑی ٹریفک سگنل پر آکر رکی۔اس کے رکتے ہی اس گاڑی کے آگے پیچھے والی دو گاڑیوں سے مسلح گارڈز نے اتر کر اس گاڑی کو اپنی نرغے میںلے لیا۔گاڑی میں موجود ایک بچے نے چھابڑی والے کی طرف دیکھا اور اپنی ماں کی توجہ اس چھابڑی والے کی طرف مبذول کروائی۔اس میک اپ زدہ خاتون نے جو زیورات میں لدی ہوئی تھی پہلے تو اس چھابڑی والے کی طرف ناگواری سے دیکھا۔اس کے بعد اس نے جانے اپنے ڈرائیور کو کہاکہ اس نے 50 کا نوٹ نکالااور ایک گارڈ کو بلا کر اسے دیا جس نے دور ہی سے اسے چھابڑی والے شخص جس کا نام ’’ابراہیم‘‘تھا کی طرف اچھال دیا۔خاتون کی’’خاتم طاہیانہ ‘‘حرکت کی ابراہیم کو کوئی بھی خبر نہ تھی،اس قافلے کی سخاوت کے بعد میری توجہ پھر سے ان نوجوانوں کی طرف چلی گئی جو چند منٹوں کے صلاح و مشورے کے بعد اب میری طرف دیکھ رہے تھے۔اسی دوران دو نوجوان جو موٹر سائیکل پرکہیں گئے تھے وہ بھی واپس آ گئے، ان کے ہاتھوں میں مشروب کی ایک بوتل اور کچھ بسکٹوں کے پیکٹ تھے، جو انہوں نے ابراہیم کو دیئے اور اس نےبہت ہی مشکل سے وہ لےکر اپنے پاس ہی زمین پر رکھ لیے۔تمام نوجوان میری طرف آئے اور مجھ سے کہا کہ میں چھابڑی والے سے بات کروں کہ اس کا کتنا نقصان ہوا ہے۔میں ان نوجوانوں کے ساتھ ہی فٹ پاتھ پر ابراہیم کے پاس بیٹھ گیا،میں نے دیکھا کہ ابراہیم کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی جسے وہ آنسووں میں تبدیل ہو نے سے روک رہا تھا۔میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ ایک کچی آبادی میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہے جو اس مقام سے قریباً چار کلو میٹر دور ہے اور وہ روزانہ ادہار سودا لے کر اپناچھابہ سجاتا ہے اور امیروں کی بستی میں رات گئے تک آلو چھولے بیچتا ہے اس کے بعد جو منافع ہوتا ہے اس سے اپناگھر چلاتا ہے اور دکان دار کے پیسے واپس دے کر اگلے دن کا سودا پھر سے ادہار لے لیتا ہے۔ابراہیم کے مطابق اس کی پریشانی کا سبب دکاندار سے ادہار لیے ہوئ سودے کے پیسےچکانا تھا جبکہ اس کا سامان چھابڑی کے ساتھ ہی زمین پرگر چکا تھا اور منافع تو کجا اس کا اصل بھی زمین کھا چکی تھی۔جب میں نے ڈھارس بڑھانے کی کوشش کی تو ابراہیم بولا کہ باؤ جی میںبھکاری نہیں۔اس دوران بہت سے لوگ ابراہیم کی مدد کے لیے آئے لیکن ان نوجوانوں نے سب کو شکریہ کے ساتھ بھیج دیا۔سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے نوجوانوں کا مدد کے لیے آتے کچھ لوگوں کو واپس بھیجنے پر غصہ آ رہا تھا لیکن میں حیران بھی تھا کہ آخر یہ نوجوان کر کیا رہے ہیں اور اگر کوئی ابراہیم کی مدد کرنا چا ہ رہا ہے تو انہیں کسی کونہیں روکنا چاہے،لیکن میں خاموش رہا۔میں نے باتوں باتوں میں ابراہیم سے پوچھ لیا کہ اسکی چھابڑی کتنے میں تیار ہوتی ہے اور اسے اندازا کتنا منافع روزانہ ہوتا ہے۔ابراہیم اب کافی حد تک اس صدمے کی کیفیت سے نکل چکا تھالیکن اب بھی اپنی تقدیر کو کوس رہا تھا۔ میں اٹھا اور نوجوانوں کو بتایا کہ ابراہیم خوددار آدمی ہے اور اس کااتنے روپے کا نقصان ہوا ہے۔جس پرنوجوانوں نے کہا کہ ہم اس کا نقصان بمعہ منافع پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اس جذبہ ایثارپر میں حیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہوا۔جب میں نے اس کار خیرمیں اپنا حصہ ڈالنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ان نوجوانوں کو ناگوار گزرا اور انہوں نے مجھے احترام کے ساتھ انکار کردیا اور مجھے کہاکہ سرہم سب نے عہد کیا تھا کہ اس کا نقصان ہم پورا کریں گےاور کسی کو اس میں حصہ دار نہیں بنائیں گے۔ خیران نوجوانوں نے ایک بڑی رقم جو ابراہیم کے قریباً تین روز کی چھابڑی کے سامان اور منافع کے برابر تھی مجھے پکڑائی اور کہا کہ آپ ہم سے عمر میں بڑے ہیں آپ کی مہربانی یہ رقم ابراہیم کو دے دیں۔یہ الگ کہانی ہے کہ ابراہیم نے وہ رقم کتنی مشکل سے لی لیکن نوجوانوں کا وہ عمل مجھےخود غرض اور بدعنوان حکمرانوں کی اوقات پر غصہ دلا گیا۔ جس ریاست میں سیاست دان و حکمران لوگوں کو بیوقوف بنا کرفخر محسوس کرتے ہوں۔ جہاں اربوں کے فضول منصوبوں پر عوام کے کھربوں روپے ضائع کئے جارہے ہوں وہاں ان نوجوانوں کی ابراہیم کی بے لوث مالی امداد مجھے بتا گئی تھی کہ اب جلد یا بدیرتبدیلی آ کر رہے گی اور اس تبدیلی کو ڈگڈگی بجانے والے تمام سیاستدان لاہی نہیں سکتے بلکہ تبدیلی تو اس قوم کے نوجوان لارہے ہیں ۔آج ابراہیم کے چھابہ الٹنے کے سچےواقعہ کے دو دہائیوں کے بعد جب نوجوانوں کو باہر نکل کر اپنے حقوق کی بات کرتے اور شعور حاصل کرتے دیکھتا ہوں تو خوش ہونےکے ساتھ یقین پر مبنی امید بند جاتی ہے کہ اب ریاست پاکستان میں حقیقی نمائندہ حکومت کا انتخاب جلد ہو گا جو کہ ابراہیم جیسے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے آنسو پونچھ کر ان کے دکھوں کا مداوا کر سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button