ColumnImtiaz Ahmad Shad

انسان اور جانور میں واضح فرق .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

خدائے برتر نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا اور پوری کائنات کو محض اسی کے لیے پیدا فرمایا اسی انسان کے اندر ظلمت و نور، خیر وشر، نیکی اور بدی جیسی ایک دوسرے کے مخالف صفات بھی پیدا فرما دیں،اب اگر انسان چاہے تو ان متضاد صفات کے ذریعہ تمام مخلوق سے افضل اور برتر ہو سکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو تمام تر پستیوں سے بھی گزر جائے۔ اگر خدا کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلتا ہے تو خدا فرماتا ہے: ’’تحقیق ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی و سمندر پر چلنے کی اور سفر کی طاقت دی۔‘‘اسی طرح اگر یہی انسان اپنے اندر قرآن حکیم کی ہدایات اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا نمونہ پیش کرتا ہے تو پھر قرآن میں خدا نے وعدہ فرمایا:’’اور تم ہی بلند ہو اگر تم مومن ہو جائو۔‘‘لیکن اگر انسان اپنے آپ کو قرآنی چشمہ ہدایت سے محروم رکھے تو پھر قرآن میں باری تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا:’’کہ ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔‘‘خداوند کریم کی وہ امانت جس کے اٹھانے سے تمام کائنات عاجز رہی،اللہ جل جلالہ نے اس امانت کو انسان کے سپرد فرمایا، اس امانت کے کچھ تقاضے ہیں اور قرآن کریم انسان سے ان تقاضوں کی تکمیل اور اس کی پیدائش سے لے کر موت تک اس امانت کے بار کو سنبھالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔اس تمام تر ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے انسان تین قوتوں سے کام لیتا ہے۔ ان میں پہلی قوت فکر ہے جسے سوچ اور علم کی طاقت کہہ سکتے ہیں، دوسری غصہ کی طاقت اور تیسری خواہشات کی طاقت۔ اب اگر ان تینوں قوتوں کو اعتدال میں رکھا جائے تو انسان کامیاب ہو جاتا ہے ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں ناکام رہتا ہے۔سوچنے کی قوت کو استعمال کرنے اور اسے اعتدال میں رکھنے کے لیے قرآن حکیم کی تعلیمات میں تدبر کا حکم ملتا ہے۔تدبر کا لفظی معنی غور و فکر کرنا، دور اندیشی اور سوچ سمجھ کر کوئی کام کرنا ہے۔ انسان تدبر سے کام لینے کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوتا ہے لیکن دو چیزیں تدبر اختیار کرنے سے روکتی ہیں۔ ایک غصہ دوسری جلد بازی۔ جس طرح اسلام نے باقی تمام قوتوں کے لیے اعتدال کا حکم دیا ہے اسی طرح غصہ کے بارے میں بھی اعتدال اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔ یعنی نہ اس کا استعمال بے جا کیا جائے اور نہ ہی بالکل کمی کر دی جائے۔ اگر غصہ کی کیفیت اور اس کی قوت کو بالکل استعمال نہ کیا جائے تو یہ کیفیت بزدلی کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے۔

اس کیفیت سے حضور اکرم ﷺ نے بھی پناہ مانگتے ہوئے دعا فرمائی:’’اے اللہ مجھے بزدلی سے بچا۔‘‘لیکن اگر غصہ کا استعمال ہر جگہ کیا جائے تو پھر ایک انسان اچھے بھلے معاشرہ میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے اور اہل معاشرہ کی زندگیوں سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انسان کو یہ کام کرنے سے پہلے خصوصاً غصہ کے وقت میں تدبر یعنی غور وفکر اور سوچ سمجھ سے کام لینا چاہیے دوسری چیز جو انسان کو تدبر اختیار کرنے نہیں دیتی وہ جلد بازی ہے۔ حضورپاکﷺنے ارشاد فرمایا: ’’کاموں کی متانت، اطمینان اور سوچ سمجھ کر انجام دینا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے۔‘‘معلوم ہوا کہ ہر ذمہ داری کو اطمینان سے انجام دینے کی عادت اچھی ہے اس کے برعکس جلد بازی ایک بری عادت ہے اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ محاورۃً بھی کہا جاتا ہے ، جلد بازی سے شرمندگی ہی حاصل ہوتی ہے۔

حضور پاکﷺ کے ارشاد کے مطابق بردباری اور غور و فکر کے بعد کام کرنا اللہ کو بہت پسند ہے۔ چنانچہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد حضور پاکﷺ کی خدمت اقدس میں حاضری کے لیے مدینہ منورہ پہنچا چونکہ یہ لوگ کافی دور سے آئے تھے اس لیے گردوغبار میں اٹے پڑے تھے جب یہ لوگ سواریوں سے اترے ، بغیر نہائے دھوئے، نہ اپنا سامان قرینے سے رکھا نہ سواریوں کو اچھی طرح باندھا فوراً جلدی سے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے لیکن اس وفد کے سربراہ اشج جن کا نام منذر بن عائذ ؓتھا انہوں نے کسی قسم کی جلد بازی نہ کی بلکہ اطمینان سے اترے سامان کو قرینے سے ر کھا،سواریوں کو دانہ پانی دیا۔ پھر نہا دھو کر صاف ستھرے ہو کر وقار کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے وفد کے سربراہ منذر بن عائذؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی تعریف کی اور فرمایا:’’بے شک تمہارے اندر دو خوبیاں پائی جاتی ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہیں۔ ان میں سے ایک صفت بردباری اور دوسری صفت ٹھہر ٹھہر کر غوروفکر کر کے کام کرنے کی ہے۔‘‘اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب انسان ہر کام سوچ و بچار کے بعد تحمل سے

کرتا ہے تو وہ شخص اکثر مکمل کام کرتا ہے اور بہت کم نقصان اٹھاتا ہے جبکہ بغیر سوچے سمجھے جلد بازی سے کام کرنے والے ایک عجیب قسم کے ذہنی خلجان کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اکثر نامکمل اور ناقص کام کرتے ہیں۔ لہٰذا اسلامی احکام کے مطابق مسلمانوں کو تدبر یعنی غور وفکر سے کام لینا چاہیے اور مومن کی شان بھی یہی ہے چنانچہ حضور اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مومن کو ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا ۔‘‘یہ ارشاد آنحضور ﷺ نے اس وقت فرمایا جب کفار کا ایک شاعر ابو عزہ مسلمانوں کی بہت زیادہ ہجو کیا کرتا تھا۔ کفار اور مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا اور بھڑکاتا رہتا۔جنگ بدر میں جب یہ شاعر گرفتار ہوا تو حضورپاکﷺ کے سامنے اپنی تنگدستی اور اپنے بچوں کا رونا روتا رہا۔ آپ ﷺ نے فدیہ لیے بغیر اسے رہا فرما دیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو آئندہ مسلمانوں کے خلاف ایسی حرکات نہیں کرے گا لیکن یہ کم ظرف شخص رہائی پانے کے بعد اپنے قبیلہ میں جا کردوبارہ مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے لگا۔غزوہ احد میں دوبارہ گرفتار ہو گیا۔اب پھر وہی مگر مچھ کے آنسو بہانے شروع کر دیئے۔ رحم کی اپیلیں کرنے لگا لیکن حضورپاکﷺ نے سزا کا حکم صادر فرمایا اور ساتھ ہی آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ’’مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جا سکتا‘‘۔

افسوس بطور مسلمان تدبر کا عمل ہمارے معاشرے سے ناپید ہو چکا۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کے باشندے غور و فکر سے مکمل عاری نظر آتے ہیں۔پاکستان کو قائم ہوئے 75 برس بیت گئے۔ہر بار مخصوص خاندان ہم پر مسلط ہوتے آئے۔جب یہ لوگ مشکل میں آتے ہیں تو معافی تلافی کی طلب میں ہلکان دکھائی دیتے ہیں اور جب مشکل ٹل جاتی ہے تو شاعر ابو عزہ کی طرح پھر سے سازشوں میں لگ جاتے ہیں۔بطور قوم قصور ہمارا ہے کہ ہم غور و فکر سے کام نہیں لیتے اور ہر بار معاف کر کے انہی کو کندھوں پر بٹھا کر ایوانوں میں پہنچا دیتے ہیں۔حدیث نبوی ﷺ کے مطابق بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے والے کو مومن نہیں کہا جاتا۔غور طلب بات ہے کہ کیاہم مومن تو دور انسان کہلانے کے لائق بھی ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button