تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

استاد نصرت فتح علی خان کی آج 25 ویں برسی ہے ،استاد فتح علی خاں کے ہاں چار بیٹیوں کے بعد 13اکتوبر1948 کو بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام پرویز (پیجی) رکھا گیا ، بچپن ہی میں بدل کر نصرت کر دیا گیاجو والد کے نام کے ساتھ نصرت فتح علی خان بنا اور جس کی شہرت ملکوں ملکوں ہوئی۔
 1965میں ریڈیو پر رسائی ہوئی۔ مزاروں، درگاہوں پر فن کا مظاہرہ بھی جاری رہا۔ سنہ1971میں استاد مبارک علی خان کی وفات کے بعد وہ خاندان کی قوال پارٹی کے سربراہ بن گئے، جو نصرت فتح علی خان، مجاہد مبارک علی اینڈ پارٹی کے نام سے جانی جاتی تھی ۔ ٹی وی پر ہونے والی محافل سماع میں بھی نصرت نے فن کا لوہا منوایا۔ وہ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں سہولت سے گاتےتھے ۔
1992کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران نصرت فتح علی خان کی قوالیوں نے کھلاڑیوں میں کچھ کرنے کا جذبہ ابھارے رکھنے میں بڑی مدد دی ، جس کا ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان نے برملا اعتراف بھی کیا۔
ممتاز کرکٹ کمنٹیٹر اور مبصر منیر حسین مرحوم نے اپنی کتاب ’ورلڈ کپ کا سفر‘ میں لکھا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی دورانِ ورلڈکپ  نصرت فتح علی خان کی قوالی ’دم مست قلندر مست مست ‘کو تواتر سے سنتے رہے ۔
16اگست 1997 کو لندن میں نصرت فتح علی خان کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی شہرت بام عروج پر تھی ،
جانشینی میں نصرت فتح علی خان خوش قسمت ثابت ہوئے، ان کے بھتیجے راحت فتح علی خان نے ان کی روایت کو نہایت عمدگی سے آگے بڑھایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button