تازہ ترینتحریکخبریں

ہمیں حقیقی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا ہو گی، یوم آزادی پر عمران خان کا خطاب

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں۔

لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں حقیقی آزادی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج لاہور جس طرح اسٹیڈیم میں جشن آزادی منانے آیا انہیں مبارکباد دیتا ہوں، وہ قوم خوش قسمت ہے جس کی مائیں اور بہنیں آزادی کا جذبہ رکھتی ہیں، وہ ملک خوش قسمت ہے جس میں ایسے باشعور اور جنونی نوجوان ہوتے ہیں

عمران خان نے کہا کہ آج میں نے حقیقی آزادی کا روڈ میپ دینا ہے، ہم نے کیا قدم اٹھانے ہیں حقیقی آزادی کیلئے پوری قوم کو وہ راستہ بتاؤں گا، انہوں نے کہا کہ 4 قسم کی غلامی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی، قائداعظم نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، قائداعظم نے کہا تھا ہم ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں، قائداعظم نے کہا تھا مسلمان ہمیشہ آزادی کیلئے جدوجہد کرتا ہے

قائداعظم محمدعلی جناح نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی، انہوں نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، ہم ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں اور مسلمان ہمیشہ آزادی کیلئے جدوجہد کرتا ہے، جب پاکستان بن رہا تھا تو ایک نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔

عمران خان نے کہا کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو اللہ سے وعدہ کرتے ہیں، اے اللہ تیرے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، شروع میں ہمیں بتایا گیا کہ پتھروں کے آگے جھکنا شرک ہے، جب بھی ضمیر کا سودا کرکے جھوٹے خدا کے سامنے جھکتے ہو تو شرک کرتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ خوف بھی ایک غلامی ہوتی ہے، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان بنا، جو قوم غلامی کرتی ہے اس کی عزت نفس ختم اور احساس کمتری ڈال دیتی ہے، ایسی احساس کمتری تھی کہ پاکستانی انگریز بننا چاہتے تھے، یہ غلامی تھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کرکٹ کے دنوں میں میرے سینئر پلیئر کہتے تھے کہ سوچو بھی نہ کہ ہم انگریز کو ہرا سکتے ہیں، کہتے تھے شکر کرو عزت سے ہار کر آگئے، یہ احساس کمتری تھی، بڑے بڑے میچز احساس کمتری کی وجہ سے ہار جایا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی طور پر ہم آزاد ہوئے تو ہم نے ہارے ہوئے میچ بھی جیتے، آج پاکستان کا بھی یہ ہی حال ہے، احساس کمتری سے ہم اب تک نہیں نکلے، پہلی غلامی سے تو ہمیں قائداعظم نے آزاد کرایا، 3 مزید قسم کی غلامی ہے جن سے ہمیں چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دوسری قسم کی غلامی ذہنی ہے، ہم نے نبی ﷺ کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنے ملک کے نوجوانوں کو ذہنی طور پر آزاد کرنا ہے، نبیﷺنے انسانوں کو بتایا خوف کی غلامی سب سے خوفناک ہے، آج کل پاکستانیوں پر خوف کی غلامی طاری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا خوف کاروبار، رزق اور نوکری جانے کا ہوتا ہے، انسان سمجھتا ہے کہیں میری نوکری یا کاروبار نہ چلا جائے، سیاست میں آیا تو پڑھے لکھے اور ایماندار لوگ کہتے تھے سیاست ہمیں گندا کردے گی، 26 سال سے میری کردارکشی کی جارہی ہے، لیکن اللہ کی شان دیکھیں آج بڑی تعداد میں لوگ آئے ہیں اور حوصلہ افزائی کررہے ہیں، اللہ قرآن میں کہتے ہیں عزت اور ذلت ان کے ہاتھ میں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پیسوں والے لوگ عزت خرید سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے، زندگی اور موت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو شخص موت سے ڈرتا ہے وہ آج تک کوئی بڑا کام نہیں کرسکا

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button