Editorial

سوات میں طالبان کی موجودگی کی بازگشت

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سوات میں طالبان کی موجودگی کی اطلاعات کو دیکھ رہے ہیں، افغان حکومت سے رابطہ کرلیا ہے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کی منظوری سے پختونخوا میں امن و امان کے لیے سولہ رکنی جرگہ تشکیل دے دیاگیا ہے، جرگہ میران شاہ اور میر علی میں احتجاج کرنے والوں کے نمائندوں سے بات کرے گااور احتجاج کے باعث بند سڑکیں اور دھرنا بھی ختم کروائے گا۔افغانستان میں ایمن الظواہری پر حملے میں پاکستانی فضائی یا زمینی حدود استعمال ہوئی اور نہ ہی ہم نے انٹیلی جنس شیئرنگ کی، یہ بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ نائن الیون کے بعد سے خطے کے تمام ممالک نے نیٹو کو سہولیات فراہم کیں، جن میں ہم بھی شامل ہیں، اب افغانستان میں افغانوں کی اپنی حکومت قائم ہوئی ہے، وہ بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اس صورتحال میں ہمارا کسی کا ساتھ دینے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا،ڈرون خطے کے کسی اور ملک سے اڑا، یہ بھی امکان ہے کہ افغانستان کے اندر بھی یہ سہولت موجود ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق خیبر پختونخوا کے گائوں تحصیل مٹہ کے علاقہ بالاسور ٹاپ پر طالبان نے اپنا پہلا چیک پوسٹ قائم کرلیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان صرف بالاسور ٹاپ پرنہیں بلکہ تحصیل مٹہ کے مختلف علاقوں برشور، کوز شور، نمل ،گٹ پیوچار سمیت دیگر علاقوں میں بھی پہاڑوں پر بڑی تعداد میں موجود ہے، تحصیل مٹہ میں پہاڑوں پر روزبروز طالبان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس معاملے پر ڈی آئی جی ملاکنڈ نے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف کی سوات میں طالبان سے متعلق گفتگو، ڈی آئی جی ملاکنڈ کی خاموشی اور مقامی لوگوں کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف قیاس آرائی نہیں بلکہ ایسا کچھ ہورہا ہے اور حکومت پاکستان نے بھی اس معاملے پر افغانستان سے رابطہ کیا ہے۔

قریباً ایک ماہ قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اِن کیمرا اجلاس میں کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے معاملے پر اسٹیئرنگ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیاگیا۔ پارلیمانی فورم نے مذاکراتی کمیٹی کوٹی ٹی پی سے بات چیت جاری رکھنے کا مینڈیٹ بھی دیا۔ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کی زیر صدارت اِس اجلاس میں عسکری قیادت نے بریفنگ میں اب تک بات چیت کے ہونے والے ادوار سے متعلق بتایا کہ افغانستان کی حکومت کی سہولت کاری کے ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ مذاکراتی کمیٹی حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل ہے، کمیٹی آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر مذاکرات کر رہی ہے، حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لیے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ پارلیمانی فورم نے مذاکراتی کمیٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات جاری رکھنے کا مینڈیٹ دیااور طے کیا گیاتھا کہ ایک پارلیمانی اوورسائٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں صرف پارلیمانی ممبران شامل ہوں گے اورمذاکراتی عمل کی نگرانی کریں گے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ پچھلی حکومت میں بھی مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے لیکن مثبت نتیجہ و اعلان قوم کے سامنے نہ آسکا

تاہم ذرائع ابلاغ کی طرف سے دعویٰ سامنے آیا کہ ٹی ٹی پی اور مذاکراتی کمیٹی کے مابین نوے فیصد سے زیادہ معاملات طے پاچکے اور باقی معاملات پر مذاکرات کا عمل جاری تھا اور مذاکراتی کمیٹی نے بھی محسوس کیا تھا کہ ٹی ٹی پی والے بھی نہ صرف امن بلکہ وہ باعزت واپسی بھی چاہتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مطالبات میں ماضی میں اپنے گرفتار رہنماؤں کی رہائی، قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی، آئین پاکستان پر اعتراضات اور فاٹا انضمام کا خاتمہ قابل ذکر شرائط تھیں اور اُن کا زیادہ فوکس مستقبل میں ان کی تنظیمی سرگرمیوں کی آزادی، نظام انصاف اور جرگوں کی آزادی پر تھااسی لیے وہ فاٹا انضمام اور آئین پاکستان کے بعض حصوںپر اعتراض کررہے تھے لیکن مذاکراتی کمیٹی نے اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ اب اس عمل کو قبائلی عوام سمیت سیاسی پارٹیاں بھی نہیں مانیں گی اسی لیے تحریک طالبان پاکستان فاٹا کے انضمام کا فیصلہ واپس لینے کے علاوہ چند دیگر مطالبات سے قریباً قریباً دستبردار ہو چکی تھی، جہاں تک فاٹا کے انضمام کا معاملہ ہے تو پاک فوج کے آپریشن کے دوران جب ٹی ٹی پی نے پاکستان چھوڑا اِس وقت قبائلی علاقوں میں ایف سی آر قانون نافذ تھا اور آئین پاکستان کے آرٹیکل247کے مطابق ایف سی آر کی رو سے فاٹا اور شمالی علاقہ جات پر کسی بھی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کا کوئی بھی دائرہ اختیار متعین نہیںتھا اور یہ علاقہ جات براہ راست صدارتی احکامات کے پابند ہوتے تھے ۔

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس قانون کو ختم کرنے کا اعلان تو کیا مگر عملدرآمد میں بہت دیر کر دی چونکہ ایف سی آر کے تحت وفاقی یا صوبائی حکومت یہاں مداخلت نہیں کرسکتی تھی اور نہ ہی یہاں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت تھی اس لیے یہ علاقے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے اورمقامی لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا گیا تاہم پاک فوج نے ان علاقوں سے نہ صرف یہاں سے بدامنی کا خاتمہ کیا بلکہ ان علاقوں کی کایہ پلٹنے میں ایسا کردار ادا کیا جو واقعی لائق تحسین ہے، پاک فوج نے نہ صرف بدامنی کے دوران یہاں ترقیاتی کام کروائے بلکہ صحت و تعلیم کی سہولتوں کو بھی عام کیا اور مقامی لوگوں کے احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے ہر وہ ممکن کوشش کی جو ممکن تھی، پاک فوج نے ایسی ہی خدمات بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بھی انجام دیں اور اُن علاقوں میں ترقی اورخوشحالی کے لیے اپنا کردار اپنے وسائل کے ساتھ ادا کیا وہاں بھی تعلیمی ادارے کھولے اور صحت کی مثالی سہولیات کے مراکز قائم کیے بلکہ انہیں ہر لحاظ سے ترقی یافتہ علاقے بنانے کے لیے اپنے وسائل استعمال کیے مگر قبائلی علاقے ہوں یا بلوچستان کے شورش زدہ علاقے جہاں بھی امن اور خوشحالی کے دشمنوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی یا اِس ارض کے لیے دشمنوں کے آلہ کار بنے، پاک فوج اور سکیورٹی اداروں نے اِنہیں نشان عبرت بنایا ۔

سیاسی و عسکری قیادت جس طرح ملک و قوم کے بہترین مفاد میں اِس مقصد کے لیے کوشاں ہے ہم پرُ امید ہیں کہ یہ کوششیں کامیاب ہوں گی اور وطن عزیز دشمنوں کی سازشوں سے پاک ہوکر امن کا گہوارہ بنا رہے گاتاہم سوات سے حالیہ دنوںجیسی خبریں آرہی ہیں ان سے ایک طرف عام لوگوں میں تشویش پیدا ہورہی ہے تو دوسری طرف اطمینان بھی موجود ہے کہ پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے سامنے کوئی بھی نہیں ٹھہرسکتا۔ قوم کو یقین ہے کہ اب پہلے جیسے حالات پیدا ہوں گے اور نہ پیداکرنے کی اجازت دی جائے گی، جو امن و امان پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے دیکر قائم کیا ہے ،اس کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور یقیناً اس وقت بھی ساری صورتحال ارباب اختیار اور سکیورٹی فورسز کی نظر میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button