تازہ ترینخبریںپاکستان سے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گورنر ہاوس میں سینئر صحافیوں کی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گورنر ہاوس میں سینئر صحافیوں کی ملاقات، صدر نے کہا کہ بطور صدر ملک کے تمام ادارے میرے لئے قابل احترام اور عزیز ہیں،میں کسی قسم کا تنازعہ کھڑا کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔

میڈیا سے بات چیت کا مقصد موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کے بارے میں ان کی رائے حاصل کرنا اور سیاسی درجہ حرارت میں کمی کیلئے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

پاکستان کے عوام نے بطور صدر پاکستان یہ ذمہ داری سونپی ہے جس نے ان پر کچھ اہم آئینی ذمہ داریاں عائد کی ہیں، صدر مملکت نے کہا کہ مشاورتی عمل کے ذریعے بہتری لانے کے بہت سے راستے موجود ہیں۔

تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے میز پر لانے کے لیے مشاورتی عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت کا وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر کا آئینی کردار انہیں باضابطہ طور پر اسٹیک ہولڈرز سے رابطے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایگزیکٹیو اور اپوزیشن اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پولرائزیشن کو ختم کرنے کے لیے کام کریں،سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر آگے بڑھنے کے لیے ایک متفقہ راستہ طے کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد اور معیشت کا ایک چارٹر تیار کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنا ہوگی،انھوں نے کہا کہ بدعنوانی کسی بھی ملک کی پسماندگی میں ایک بڑا عنصر ہے، بدعنوانی روکنے کیلئے تمام مالیاتی لین دین خاص طور پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے عطیات وصول کرنے میں رسمی بینکنگ چینلز کا استعمال ہونا چاہیے۔

پاکستان کے اندر اسٹیک ہولڈرز کو ملک کو درپیش مسائل کے حل میں کسی غیر ملکی شمولیت کے بغیر کردار ادا کرنا چاہیے، تمام حکومتی سمریوں کی بروقت منظوری دی، چار سمریوں میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تاخیر ہوئی، صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور بعد میں میاں نواز شریف کی حکومتوں کے دوران بھی ای وی ایم کا حامی تھا، پی ٹی آئی کو انتخابات کے دوران ٹیکنالوجی کے استعمال پر میں نے قائل کیا، ای وی ایم آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے انتہائی آسان حل فراہم کرتی ہے، انھوں نے کہا کہ طالبان سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button