Column

قیام امام حسینؓ کے اہداف ۔۔ علامہ سید ساجد علی نقوی

علامہ سید ساجد علی نقوی

 

واقعہ کربلا میں اس قدر ہدایت،جاذبیت اور رہنمائی ہے کہ وہ ہر دور کے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس واقعہ کے پس منظر میں نواسہ رسول اکرم، محسن انسانیت حضرت امام حسین ؓکی جدوجہد، آفاقی اصول اور پختہ نظریات شامل ہیں۔

آپؓ نے واقعہ کربلا سے قبل 28 رجب 60 ھ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران 61 ھ کی عصر عاشور تک اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے واشگاف انداز سے اظہار کیا اور دنیا کی تمام غلط فہمیوں کو دور کردیا اور واضح فرمایا کہ موت یقینی ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔امام عالی مقامؓ کے قیام کے مقاصد و محرکات ان کے خطبات، مکتوبات اور وصایا کی روشنی میں بالکل واضح اور عیاں ہیں بلکہ آپؓکے کلام کے ذریعے ان کی شخصیت، ثابت قدمی، اعلیٰ نسبی، شجاعت اور معنویت بھی آشکار ہوتی ہے۔مدینہ کے گورنر سے خطاب میں فرمایا کہ سن ساٹھ ہجری کے ماہ رجب کے قریباً نصف میں جب یزید تخت خلافت پر بیٹھا تو حکومت سنبھالتے ہی اس نے مختلف علاقوں میں تعینات اپنے گورنروں کو خطوط ارسال کرکے انہیں اپنی جانشینی سے مطلع کیا۔خطوط میں ایک تو ان سب گورنروں کو عہدوں پر باقی رکھنے کی اطلاع دی اور دوسرا انہیں حکم دیا کہ وہ لوگوں سے اس کیلئے بیعت لیں۔

چنانچہ ولیدنے امام عالی مقامؓ سے بیعت کا تقاضا کیاجس پر امامؓ نے فرمایا’’ہم خاندان نبوت اور معدن رسالت ہیں، ہمارے گھروں پر فرشتوں کی رفت و آمد رہا کرتی ہے ۔ اللہ تعالی نے اسلام کو ہمارے گھرانے سے شروع کیا اور آخر تک ہمیشہ ہمارا گھرانہ اسلام کے ہمراہ رہے گا لیکن یزید جس کی بیعت کی تم مجھ سے توقع کررہے ہو اس کا کردار یہ ہے کہ وہ شرابی ہے، بے گناہ افراد کا قاتل اور برسرعام فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے،مجھ جیسا اُس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتاہم اور تم دونوں آنے والے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم میں کون خلافت اور بیعت کا زیادہ مستحق ہے‘‘۔

امام حسینؓ کا وصیت نامہ :
امام حسینؓ نے مدینہ سے مکہ کی جانب روانگی کے وقت یہ وصیت نامہ تحریر فرمایا اور اپنی مہر لگانے کے بعد اپنے بھائی محمد حنیفہؓ کے سپرد کردیا ۔’’

یہ حسین ابن علی ؓکی وصیت ہے اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام۔ حسین ؓ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں جو اس کی طرف سے دین حق لے کر آئے ہیں، اور حسین ؓ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ جنت اور دوزخ حق ہیں اور روز جزا کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس روز یقیناً اللہ تمام اہل قبور کو زندہ کرے گا۔اپنے اس وصیت نامے میں امام ؓ نے توحید، نبوت اور قیامت کے بارے اپنا عقیدہ بیان کرنے کے بعد اپنے سفر کے مقاصد ان الفاظ میں بیان کئے۔ (مدینہ سے ) میرا نکلنا نہ خود پسندی اور تفریح کی غرض سے ہے اور نہ فساد اور ظلم و ستم میرا مقصد ہے میں تو صرف اس لیے نکلا ہوں کہ اپنی نانا کی امت کی اصلاح کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو انجام دوں اور اس کی انجام دہی میں اپنے نانا اور اپنے والد گرامی کی سیرت کی پیروی کروں۔ اب اگر کوئی میری دعوت کو حق سمجھ کر قبول کرے تو اس نے اللہ کا راستہ اختیار کیا اور اگر میری دعوت کو مسترد کردے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ میرے اور ان افراد کے درمیان فیصلہ کرے اور اللہ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اے بھائی….یہی آپ کیلئے میری وصیت ہے اور میری توفیقات تو صرف اللہ کی جانب سے ہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب مجھے پلٹنا ہے۔

اہل کوفہ کے خطوط کے جواب میں امام ؓ کا مکتوب:
جب اہل کوفہ کو خبر ملی کہ امامؓ نے مطالبہ بیعت مسترد کردیا اور آپ انحراف اور گمراہی کے خلاف جدو جہد کے لیے آمادہ ہیں اور مکہ تشریف لاچکے ہیں تو انہوں نے بڑی تعداد میں قاصد، انفرادی خطوط اور دستخط شدہ اجتماعی مکتوب حسین ابن علیؓ کی خدمت میں ارسال کئے۔ جواب میں امامؓ نے اپنے مکتوب میں فرمایا’’جو کچھ حضرات نے اپنے خطوط میں لکھا اور ذکر کیا اسے میں نے سمجھ لیا ہے ۔ ان خطوط میں اکثر میں آپ حضرات کی درخواست یہ تھی کہ ہمارا کوئی رہبر و رہنما نہیں ہے آپ جلد ہماری طرف آئیے تاکہ خداوند متعال آپ کے ذریعے ہمیں حق اور ہدایت پر جمع کرے لہٰذا میں اپنے بھائی، چچا کے بیٹے اور خاندان میں اپنے قابل اعتماد شخص مسلم بن عقیل ؓ کو آپ کی طرف بھیج رہا ہوں۔ میں نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی رائے، سوچ اور وہاں کے حالات کے بارے میں مجھے تحریر کریں، اب اگر آپ کے عمائدین اور اہل فکر و نظر کی رائے بھی وہی ہوئی جو میں نے آپ کے خطوط میں پڑھی ہے اور جس کی آپ کے نمائندوں نے بالمشافہ ملاقاتوں میں مجھے خبر دی ہے تو انشاءاللہ میں بہت جلد آپ کی طرف روانہ ہوجاؤں گا۔ اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ امام اور رہبر وہ ہے جو کتاب خدا پر عمل کرے، عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرے ، حق کی پیروی کرے اور اپنے وجود کو اللہ کیلئے وقف کردے….والسلام‘‘

مکہ مکرمہ میں امام حسین ؓ کا خطاب :عراق روانگی سے قبل امام ؓ نے خاندان بنی ہاشم اور اپنے کچھ حامیوں کے سامنے جو مکہ میں قیام کے دوران آپ کے ساتھ ہولئے تھے یہ خطبہ ارشاد فرمایا’’ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے، اللہ کے سوا کوئی قدرت کارگر نہیں، درود و سلام اللہ کے رسول پر، انسانوں کیلئے موت اسی طرح لازم کردی گئی ہے جس طرح دوشیزہ کے گلے پر گردن بند،مجھے اپنے اسلاف اور اجداد سے ملاقات کا اتنا ہی اشتیاق ہے جتنا شوق یعقوب ؓکو یوسفؓسے ملنے کا تھا۔ میری قتل گاہ معین ہوچکی ہے جہاں میں پہنچ کر رہوں گا۔ گویا میں خود دیکھ رہا ہوں کہ صحرا اور بیابان کے بھیڑیئے سرزمین کربلا اور نواویس کے درمیان میرے جسم کے ٹکڑے کرکے اپنے بھوکے پیٹ اور خالی تھیلے بھر رہے ہیں۔ خدا کے لکھے سے فرار ممکن نہیں۔ جس بات پر اللہ راضی ہوتا ہے ہم اہل بیت ؓ بھی اسی سے راضی ہوتے ہیں۔ ہم اس کے امتحان اور آزمائش پر صبر کریں گے اور وہ ہمیں صابروں کا اجر عنایت فرمائے گا۔ رسول خدا اور ان کے جگر گوشوں کے درمیان جدائی ممکن نہیں بلکہ بہشت بریں میں سب اکٹھے ہوجائیں گے جنہیں دیکھ کر آ نحضرت کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور آپ ان سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کریں گے۔ جان لو تم میں سے جو بھی ہمارے اوپر اپنا خون نچھاور کرنا چاہتا ہو اور اللہ سے ملاقات کیلئے تیار ہو وہ ہمارے ساتھ چلے میں انشاءاللہ کل صبح روانہ ہوجاؤں گا۔‘‘
2 محر م الحرام 61 ھ کو کربلا پہنچے اور کچھ دیر توقف کے بعد اپنے اصحاب اور اہل بیت ؓ کے سامنے یہ خطبہ ارشاد فرمایا’’ معاملات نے جو صورت اختیار کرلی ہے وہ آپ کے سامنے ہے یقیناً دنیا نے رنگ بدل لیا اور بہت بری شکل اختیار کرگئی ہے اس کی بھلائیوں نے منہ پھیر لیا اور نیکیاں ختم ہوگئی ہیں اور اب اس میں اتنی ہی اچھائیاں باقی بچی ہیں جتنی کسی برتن میں باقی رہ جانے والا پانی۔اب زندگی ایسی ہی ذلت آمیز اور پست ہوگئی ہے جیسا کوئی سنگلاخ اور چٹیل میدان۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ حق پر عمل نہیں ہورہا اور کوئی باطل سے رُکنے والا نہیں ہے۔ ان حالات میں مرد مومن کو چاہیے کہ وہ خدا سے ملنے کی آرزو کرے۔ میں جانبازی اور شجاعت کی موت کو ایک سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنا میرے نزدیک بوجھ ہے۔لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں پر ہے یہ بس اس وقت تک دین کے حامی ہیں جب تک ان کی زندگی آرام و آسائش سے گزرے اور جب امتحان میں ڈالے جائیں تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔

شب عاشور امام ؓ کا خطاب :
شب عاشور خاندان بنی ہاشم کے افراد اور اپنے اصحاب کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا ۔’’میں اللہ تعالی کی بہترین تعریف و ثنا کرتا ہوں اور آسائشوں اور سختیوں میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تیری حمد بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہمارے گھرانے کو نبوت کے ذریعے شرف و احترام عنایت فرمایا اور ہمیں قرآن کی تعلیم دی، ہمیں دین کی فہم عطا کی اور ہمیں حق کو سننے والے کان، حق کو دیکھنے والی آنکھیں اور روشن و نورانی قلب عطا فرمایا اور ہمیں مشرکوں میں قرار نہیں دیا۔ اما بعد! میں نے اپنے اصحاب سے بہتر اصحاب کہیں نہیں دیکھے اور نہ کسی کے اہل خانہ اپنے اہل بیت سے بڑھ کر باوفا اور حق شناس پائے، خدا آ پ سب کو میری طرف سے جزائے خیر عنایت کرے۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button