Columnمحمد مبشر انوار

واہ ری جمہوریت!!! ۔۔ محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

 

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت دشمن عناصر اپنی بھرپور کوششوں میں ہیں کہ کسی طرح پاکستانی عوام کا جمہوریت سے دل اٹھ جائے،اور وہ جمہوری عمل سے اس قدر متنفر ہو جائیں کہ کل کلاں کسی بھی غیر جمہوری عمل پر بے حس ہو جائیں۔بظاہر یہ منصوبہ بخوبی روبہ عمل ہے لیکن پاکستان کا وجود بذات خود ایک جمہوری عمل سے ممکن ہوا ہے اور عوام دور جدید میںاس کی افادیت سے بخوبی واقف ہیں یہی وجہ ہے کہ جیسے اور جہاں انہیں موقع ملتا ہے،وہ اپنی جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرنے سے نہیں چوکتے اور یوں غیر جمہوری عناصر کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے حالیہ ایک فیصلے نے پاکستانی سیاست میں مزید ہلچل پیدا کر دی ہے اور حکومت وقت شتر بے مہار کی مانند اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے پر تولتی نظر آرہی ہے، حکومت و قت کی یہ شتر مہاری ملک میں فاشزم کو فروغ دیتی دکھائی دیتی ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ تا حال حتمی نہیں اور حکومتی جلد بازی اس امر کی غماز ہے کہ حکومت قبل ازوقت ہی حریف کے وہ تمام قانونی راستے مسدود کرنا چاہتی ہے ،جن سے استفادہ حاصل کرکے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی نفی ممکن ہے۔گو کہ حکومتی پھرتیوں اور حریفوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے باوجود،قانونی چارہ جوئی کا حق ختم نہیں ہو گا لیکن اس عمل میں کم از کم حریفوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک ضرور برتا جائے گا،اپنی طاقت کا اظہار ضرور ہو گالیکن کیا اس سارے عمل سے حریف دب جائیں گے؟حریف ختم ہو جائیں گے یا اپنے قائدین کی مانند سمجھوتہ کرکے بیرون ملک چلے جائیں گے؟کم از کم مجھے بظاہر ایسی کوئی بھی بات وقوع پذیر ہوتی نظر نہیں آتی کہ تحریک انصاف کا ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ اپنی حکومت میں ہوتے ہوئے بھی، بیشتر قانونی معاملات میں تحریک انصاف نے عدالتی فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ثبوت دیا کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی کے خواہشمند ہیں۔ یہاں ایک انتہائی اہم سوال سامنے ہے کہ عدالتی فیصلے تو اسی وقت آئیں گے جہاں کوئی غیر قانونی کام ہوگا پھر یہ دعویٰ کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف ملک میں قانون کی بالادستی کی خواہاں ہے؟اس سوال سے مفر ممکن نہیں اور میرے گمان میں اس کا جواب ڈھونڈنا اتنا بھی مشکل نہیں کہ وطن عزیز کئی دہائیوں سے غیر قانونی معاملات میں گڑا ہے اور بیشتر سیاسی قائدین نے قوانین کو گھر کی لونڈی سے زیادہ اہمیت نہیں دی،جس میں بہرطور ریاستی مشینری ان کے ہمرکاب رہی ہے اور شنید ہے کہ موجودہ حکومت فی الفور ایک طرف ریفرنس دائر کرنے کی تیاریوں میں ہے تو دوسری طرف سیاسی قد آور شخصیات کو پابند سلاسل کرنے کی تیاری کر رہی ہے،کسی بھی جرم پر مجرم کو سزا دینا بھی ایک اہم حکومتی ذمہ داری ہے تا کہ ملک میں حکومتی رٹ برقرار رہے لیکن بدقسمتی سے سیاستدانوں کی اکثریت نے ہمیشہ جرائم کی بیخ کنی کی آڑ میں سیاسی انتقام کو فروغ دیا ہے،جس سے حکومتی اداروں کی غیرجانبداری ہمیشہ مشکوک رہی ہے۔
حکومتی بزرج مہراپنی منتقم مزاجی کے باعث ہر صورت عمران خان کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ بقول ان کے تحریک انتشار ملک میں کوئی بد امنی نہ پھیلا سکے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ تحریک انصاف کے قائد کو یوں ریاستی جبر سے قید کیا جائے اور کارکنان خاموش بیٹھے رہیں؟تحریک انصاف کے کارکنان ،اس وقت پورے ملک میں ،قیادت کے اشارے کا انتظار بھی نہیں کرتے اور ازخود سڑکوں پر باہر نکل آتے ہیں تو کیا وفاقی حکومت،جس کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد تک محدود ہے،کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ پنجاب میں نکلنے والے احتجاجی جلوسوں پر قابو پا سکے؟گو کہ اس وقت ایف آئی اے اور آئی بی ہی دو ادارے وفاقی حکومت کی براہ راست ماتحتی میںآتے ہیں لیکن عوامی احتجاج کو کنٹرول کرنا بھی ان دو اداروں کا دائرہ کار سے باہر ہے،تو پھر وفاقی حکومت کیا کرنا چاہتی ہے؟دانستہ ملکی حالات کو انارکی کی جانب دھکیلنا چاہتی ہے؟وفاق اور صوبوں کے درمیان محاذآرائی کی صورت چاہتی ہے؟ بالفرض حکومت یہی چاہتی ہے تو اس سے کیا سیاسی شہادت حاصل کرنا چاہتی ہے؟کیا اس سیاسی شہادت عوض جو نقصان ملک کو ہو سکتا ہے،اس کا اندازہ بھی ان کو یقیناً ہو گا مگر افسوس کہ ذاتی مفادات ہمیشہ سے ہی ملکی مفادات پر غالب آتے رہے ہیں،اس لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات ہی نہیں۔البتہ اس سیاسی شہادت کا فائدہ سیاست کی صورت میں ممکن ہو سکتا لیکن وہ بھی اسی صورت میں اگر عوام اس سیاسی شہادت کو حقیقی تسلیم کرلے،جس کی موجودہ حالات میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
تحریک انصاف کی عوامی حمایت کا جادو بہرطور اس وقت سر چڑھ کا بول رہا ہے اور یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ موجودہ سیاسی شہادت،اگر ہوئی تو،اس کا فائدہ بھان متی کے اس کنبے کو ہو سکے۔بہرطور پاکستانی سیاست کا بیشتر عرصہ غیر جمہوری ادوار کی نذر ہو چکا ہے اور ہمارے سیاسی قائدین کی اکثریت بھی اس میں خوش رہتی ہے کہ انہیں براہ راست جمہور سے ملنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ آمروں کو بہرطور ایسے چہروں کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے جو آمریت کا دفاع کا جمہوری انداز میں کرتے رہیں۔جمہور کو اس امر کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ سیاسی قائدین میں کون کون سے ایسے چہرے ہیں جو نام تو جمہور اور جمہوریت کا لیتے ہیں لیکن بجا آوری غیر جمہوری طاقتوں کی کرتے ہیں، طاقت کا منبع و ماخذ غیر جمہوری طاقتوں کو سمجھتے ہیں اور اپنے اقتدار کا راستہ اسی شاہراہ سے لیتے ہیں۔ گذشتہ تحریر میں بھی لکھا تھا کہ موجودہ عوامی حمایت کی لہر 1977میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد نظر آئی تھی اور اب عمران حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستانی عوام میں نظر آ رہی ہے ،جس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف پاکستانی مفادات کا تحفظ ہے گو کہ نہ تو بھٹو اور نہ ہی عمران نے سمجھوتوں سے مبرا رہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے کسی حد تک سمجھوتے کرنا بھی ضروری ہے ۔ عمران خان کا ایبسولٹلی ناٹ کہنے کے بعدحکومت سے جانا ٹھہر گیا تھا لیکن جو پذیرائی عمران خان کو ’’یقینا نہیں‘‘ کے بعد عوام میں ملی ہے،اس کا اندازہ ان غیر ملکی طاقتوں کو قطعی نہیں تھا وگرنہ یقیناً یہ اقدام اٹھانے سے گریز کیا جاتا اور چند ماہ او رانتظار کر لیا جاتا لیکن عالمی طاقتوں کے اپنے منصوبے اور ترجیحات ہیں ،جن کے سامنے ایسے حقائق کوئی معنی نہیں رکھتے۔ گذشتہ دنوں افغانستان میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ڈرون حملے میں قتل کیاگیااور شنید یہی ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی اس قدر ایڈوانس ہو چکی ہے کہ اس قسم کے حملے وہ بحیرہ عرب میں موجود اپنے بحری بیڑے سے بآسانی کرسکتا ہے اور اس کے لیے اسے قریب ترین اڈے کی ضرورت ہی نہیں جیسا کہ ماضی میں اسے پاکستان کی زمین حدود میں اڈے درکار رہے ہیں۔ اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود ایران آج بھی امریکی دباؤ میں نہیں آیا۔دوسری طرف یہاں ایک اور اہم ترین پہلو بھی سامنے رکھا جانا چاہیے کہ قریباً دو دہائیاں قبل افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملے کا ملزم ایمن الظواہری،بالآخر امریکی سزا کا مستحق ٹھہرا اور امریکہ نے اپنے قومی ملزم کو ہزاروں میل دور سزا دے کر اپنے انتقام پورا کیا۔دوسری طرف پاکستانی ’’مجرمان‘‘ تکنیکی بنیادوں پر عدالتی فیصلوں سے بری ہو کربیرون ملک پاکستانیوں کے پیسوں پر عیاشی کررہے ہیں اور امریکہ ہی انہوں تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
یہ حقائق برسبیل تذکرہ تحریر کا حصہ بنے ہیں جبکہ موضوع یہ ہے کہ پاکستانی جمہوریت کے متعلق یہ حقیقت رہی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا انتظام کسی ڈرامے میں آنے والے ’’وقفہ‘‘ کی مانند رہا ہے اوربالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں جاری آمریت کے دور میں ایک مختصر ’’جمہوری وقفہ‘‘ ہوتا تھا،چونکہ آج کل ڈراموں میں بھی وقفوں کی بھرمار ہوتی ہے اسی لیے پاکستان میں ’’جمہوری وقفہ‘‘کا وقت کچھ زیادہ رہا ہے اور اس وقت جو جوتی پیزار پاکستانی سیاست میں نظر آ رہی ہے،اس کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ نہ صرف جمہوری وقفہ ختم ہونے کے قریب ہے بلکہ عاقبت نااندیش سیاستدانوں کے ذاتی مفادات میں ’’واہ ری جمہوریت‘‘تیرے انجام پر رونا آیا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button