Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnHabib Ullah Qamar

جنرل حمیدگل کی یاد میں ۔۔ حبیب الله قمر

حبیب اللہ قمر

 

جنرل حمید گل پاکستان کی تاریخ کا ایک معروف نام ہیں اور ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔انہیں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے سات برس بیت چکے ہیں۔ وہ اگست کے مہینہ میں ہی ہم سے جدا ہوئے ۔ان کی وفات سے چند دن قبل لاہور میں نظریہ پاکستان کے احیاء کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کے حوالے سے ایک مشاورتی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں جنرل حمید گل کو بھی دعوت دی گئی، وہ کبھی ایسی مجالس میں شرکت سے پیچھے نہیں رہے اور ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا کرتے تھے تاہم اس مرتبہ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہاکہ میں اپنی اہلیہ کو لیکر مری جارہا ہوں مجھے امید ہے کہ پرفضا مقام پر جاکر ان کی طبیعت بحال ہوجائے گی۔ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے عظیم شخص تھے لیکن کون جانتا تھا کہ جہاں وہ جارہے ہیں وہاں خود ان کی اپنی طبیعت بگڑ جائے گی اور انہیں اس دنیا سے رخصت ہونا پڑے گا۔ بہرحال ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے اور ہر کسی نے اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے لیکن خوش قسمت ہیں وہ انسان جن کے رخصت ہونے کے بعد دنیا انہیں اسلام، ملک و قوم کی خدمت اور اچھے اخلاق و کردار کی بنیاد پر یاد رکھے۔ جنرل حمید گل بہت زیادہ باصلاحیت انسان تھے۔ انہوںنے اپنی ساری زندگی اسلام و پاکستان کے دفاع کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ 1936ء میں پیدا ہونے والے یہ عظیم جرنیل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے ۔ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں روس کی قوت بکھرچکی اور یہ جنگ اپنے اختتامی مراحل تک پہنچ رہی تھی۔ یہ بہت کٹھن دور تھا، پاکستان کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں مگر ان کی قیادت میں آئی ایس آئی نے ایسا شاندار کردار ادا کیا کہ بین الاقوامی دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی کہ پاکستان کا یہ خفیہ ادارہ دنیا بھر میں ٹاپ پوزیشن پر ہے اور بھرپور انداز میں پیشہ وارانہ امور سرانجام دے رہا ہے۔
روس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ ایسا ریچھ ہے جہاں جاتا ہے خالی ہاتھ واپس نہیں پلٹتا لیکن پھر تاریخ نے دیکھا کہ جنرل حمید گل کی سربراہی میں طے کردہ وار اسٹریٹیجی نے سوویت یونین کی چولیں ہلا کر رکھ دیں اور وہ بدترین شکست کے بعد یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوا۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد دیوار برلن بھی گرا دی گئی جس پر جرمنی والوں نے اس دیوار کا ایک ٹکڑا انہیں تحفے کے طور پر بھیجا اور کہاکہ آپ کے سوویت یونین کو توڑنے سے ہمیں حوصلہ ملا اور ہمیں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جنرل صاحب کے اس کارنامے کو دنیا بھر کے اخبارات میں شہ سرخیوں میں شائع کیا گیا۔ ان کے گھر میں جب کوئی خاص مہمان جاتا تو وہ انہیں دیوار برلن کا یہ ٹکڑاخاص طور پر دکھایا کرتے تھے جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی زندگی کا قیمتی اثاثہ تھا۔ بھارت، امریکہ اور دیگر اسلام دشمن قوتیں انہیں پاکستان کا دفاع کرنے والی ایک فولادی قوت سمجھتی تھیں اور ان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دلوں میں ان کا بہت رعب و دبدبہ ڈال رکھا تھا مگر حقیقی زندگی میں وہ انتہا درجے کی حد تک نرم دل انسان اور اس شعرکی عملی تصویر تھے کہ
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
فروری انیس سو نواسی میں سوویت یونین کا انخلاء مکمل ہو ا تو بیرونی قوتوںنے سازشیں کر کے مسلمانوںکو باہم دست و گریباں کر دیااور افغان جہاد کے ثمرات کو ضائع کرنے کی کوششیں کیں تاہم جنرل حمید گل ہمیشہ افغان مجاہدین کے مختلف گروہوں میں باہم اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ان کی آئی ایس آئی کی سربراہی کے دورمیں پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اقتدار سنبھالا اورانیس سو اکیانوے میں آئی جے آئی کا تخلیق کار سمجھتے ہوئے انہیں آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹادیا گیا۔ پاکستان میں اگرچہ اس فیصلہ کو پسند نہیں کیا گیا تاہم امریکہ ، بھارت اور مغربی دنیا نے اس پر زبردست خوشی کا اظہار کیا۔اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے اسلام و پاکستان کے دفاع کیلئے اپنی جدوجہد کو بھرپور انداز میں جاری رکھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نہ تو میں تھکا ہوں اورنہ ہی خود کو ریٹائرڈ سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ اسلام و پاکستان کے خلاف سازشوں کے توڑ کیلئے وہ ہمیشہ ہراول دستہ کا کردار اد ا کرتے۔ پاکستان میں ان کی آواز کو بہت موثر سمجھاجاتا تھا اور محب وطن وسنجیدہ طبقہ ان سے بہت زیادہ محبت کرتاتھا۔
نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو فورسز نے افغانستان پرحملہ کیا تو پاک افغان دفاع کونسل میں انہوںنے قائدانہ کردار ادا کیا۔ وہ ملا عمر اور طالبان کے بہت بڑے حامی تھے البتہ تحریک طالبان کے نام سے ملک میں خودکش حملے کرنے والوں کی سرگرمیوں کو پاکستان کے حق میں نہیں سمجھتے تھے۔ وہ نا صرف یہ کہ ان کی کھل کر مخالفت کرتے بلکہ پاکستانی فورسز پر حملوں کو شرعی طور پر ناجائز سمجھتے ہوئے اسے افغان طالبان کو بدنام کرنے کا عمل قرار دیاکرتے تھے۔وہ پاکستان میں امریکہ کے بہت بڑے ناقد تھے اور اس کی پالیسیوںکی کھل کرمخالفت کیا کرتے تھے۔ افغانستان کی سرزمین سے جب پاکستان کے خلاف سازشیں بڑھنے لگیں۔امریکیوںنے بھارت سرکار کو کھل کھیلنے کا موقع دیا،بھارتی قونصل خانوں میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان داخل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور سلالہ چیک پوسٹ جیسے حملے ہونے لگے تو محب وطن مذہبی وسیاسی جماعتوںنے دفاع پاکستان کونسل کے نام سے نیا اتحاد تشکیل دیا اور نیٹو سپلائی بحالی کے خلاف زبردست تحریک شروع کر دی۔ اس اتحاد میں انہیں مشترکہ طور پر دفاع کونسل کی رابطہ کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا ۔اس دوران جب حکومت پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی کوششیں شروع ہوئیں تو کونسل نے اس کی بھی بھرپور مخالفت کی اور نیٹو سپلائی منقطع کرنے کی طرح مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے دوستی و تجارت بڑھانے کی کوششوں کو مظلوم کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیاگیا۔ اس دوران لاہور، اسلام آباد، ملتان، کراچی، کوئٹہ اور پشاور سمیت پورے ملک میں بڑی دفاع پاکستان کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں بلاشبہ لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اسی طرح تاریخی لانگ مارچ کئے گئے جس سے عوامی دبائو اس قدر بڑھا کہ نیٹو سپلائی کئی ماہ تک منقطع رہی اورحکمرانوں کے دل میں انڈیا کے حوالہ سے نرم گوشہ ہونے کے باوجود بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ نہیں دیا جاسکا۔ یعنی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اس مشترکہ فورم کی کوششیں بہت کامیاب رہیں۔ اگر یہ کہاجائے کہ کونسل نے صحیح معنوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا اورجنرل حمید گل اور حافظ محمد سعید جیسے قائدین نے حکومت کی سمت درست رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تو بے جا نہ ہوگا۔ان کے اس کردار کو تاریخ میں سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔
جنرل حمید گل بلا کے خطیب تھے۔ وہ لانگ مارچوں کے دوران سخت گرمی اور طبیعت کے خرابی کے باوجود گھنٹوں ٹرک پر سفر کرتے اور جگہ جگہ کھڑے ہو کر شرکاء کے جذبات کو گرماتے جس کے نتیجے میں لمبے سفرکے باوجود لوگوں میں کسی قسم کی تھکان اور جذبہ کی کمی دیکھنے میں نہیں آتی تھی۔ کشمیر، فلسطین، برما،افغانستان و دیگر خطوں کے مظلوم مسلمان انہیں اپنا حقیقی لیڈر سمجھتے تھے تو دشمنان اسلام بھی انہیں مجاہدین کا روحانی باپ کہاکرتے تھے۔افغان مجاہدین کی طرح تحریک آزادی کشمیر کے حق میں بھی وہ ایک توانا آواز تھے اور مظلوم کشمیری قوم بھی ہر مشکل وقت میں ان کی جانب دیکھتی تھی۔حقیقت ہے کہ وہ آ ج ہمارے درمیان نہیں رہے تاہم اسلام و پاکستان کے دفاع کیلئے ان کی مخلصانہ جدوجہد اور قربانیوں کی یاد ان شاء اللہ دلوں میں تازہ رہے گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور ان کی آخرت کی منزلیں آسان کرے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!