Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Ali HassanColumn

ڈالرکیلئے عجلت میں ممکنہ اقدامات ۔۔ علی حسن

علی حسن

شہباز شریف کی سربراہی میں اپریل کے مہینے میں قائم ہونے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)گیارہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت جس میں پیپلز پارٹی، نون لیگ، جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) وغیرہ شامل ہیں، بظاہر ’’دیوالیہ‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اثاثے فروخت کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی تھی۔ کیا قیمتی اثاثے ہی فروخت کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے یا مقصود ہی یہی ہے کہ اثاثوں کی فروخت کی بندر بانٹ کی جائے؟ ایک اخبار نے لکھا ہے کہ افراتفری کی آڑ میں ایک بڑی واردات نہایت خاموشی سے ڈالی گئی ہے ۔ شہباز حکومت نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے مطابق دیوالیہ کا بہانہ بنا کر ملک کے اثاثے نہایت عجلت میں بیچے جارہے ہیں۔ اس آرڈیننس کے مطابق ان اثاثوں کو بیچنے کے لیے کسی پراسس، کسی پروسیجر، کسی ریگولیشن کی پابندی کرنی ضروری نہیں ہوگی۔ اس لوٹ سیل پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوگا، حتیٰ کہ کوئی عدالت اس عمل کے خلاف پیش کی گئی کسی پٹیشن کو بھی سماعت کے لیے منظور نہیں کرسکے گی۔

کہا جاتا ہے کہ نیویارک میں واقع پی آئی اے کی پراپرٹی، روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔بعض ایسے سیاست دان بھی اثاثوں کی عجلت میں خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں جو ماضی میں قومی اثاثے کوڑیوں کے داموں میں خرید چکے ہیں۔ تیل اور گیس تلاش کرنے والا نہایت منافع بخش ادارہ او جی ڈی سی ایل اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے حصص کی فروخت کار گر ثابت ہو سکے گی؟ کسی بھی جنگ میں تیل اور گیس کے ادارے کسی اور کی ملکیت ہونے سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کسی نے سوچا ہے؟ وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا فرماتی ہیں کہ کمرشل اداروں سمیت متعدد سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ملک مالی خسارے کا شکار اور متعدد مالی مسائل کا سامنا ہے۔گزشتہ حکومت کے فیصلوں کا بوجھ ہم پر پڑ رہا ہے۔

سرکاری محکموں کو موجودہ ضروریات کے مطابق فعال کرنے کی ضرورت ہے، سرکاری اداروں کو سروس ڈیلیوری یقینی بنانا ہوگی۔عائشہ غوث پاشا کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو موثر بنانا ہو گا۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتی ہیں کہ پاکستان میں حکومتوں، اسمبلیوں، وزراء سمیت کئی محکمے ملک پر بوجھ ہیں جنہیں فوری طور پر ختم اور کابینہ کا حجم مختصر کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی حکومت ڈالر کی تلاش میں ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ گھر میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو اونے پونے فروخت کر دیا جائے۔ سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کے مطابق چین، دبئی، قطر اور سعودی عرب نے بھی اس مرتبہ مدد نہیں کی اور نہ ہی آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکیج آیا۔ امریکی امداد کی شرائط پر چین کو شدید تحفظات ہیں اور پاکستانی عوام کے لیے بہت ہی زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی حکام سے آئی ایم ایف سے پاکستان کو قرضہ فوری دینے کی درخواست کی ہے۔

غیر ملکی جریدے کے مطابق جنرل قمر باجوہ نے وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خزانہ سے اپیل کی کہ وہ آئی ایم ایف پر فوری طور پرقریباً 1.2 بلین ڈالر کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالیں جو پاکستان کو دوبارہ شروع کیے گئے قرضہ پروگرام کے تحت ملنے والے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پہلے ہی 13 جولائی کو زیر غور قرض کے لیے پاکستان کوسٹاف کی سطح کے معاہدے کی منظوری دے دی تھی، تاہم اس قسط کی ادائیگی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہونی ہے اور یہ منظوری تاحال نہیں ہو سکی۔ آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس اگست کے آخر تک متوقع نہیں اور اس میں تاخیر پاکستان کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی سال پاکستان کو 36 سے 37 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

امریکی جریدے کو انٹرویو میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جو عام طور پر معاشی بحران کے شکار ممالک کو قرض دینے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اب زیادہ محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،اس وقت تمام راستے آئی ایم ایف کی جانب جارہے ہیں۔

ڈالر کی قیمت میں اضافہ گزشتہ سالوں میں جس تیز رفتاری سے ہوا ہے اس نے کس بل نکال دیئے ہیں۔ 1947 سے 1954تک ایک امریکی ڈالر تین روپے اکتیس پیسے کے برابر تھااور اب 2022 میں ڈالر236 روپے تک آن پہنچا ہے، یہ کہاں تک جائے گا، کسی کو اندازہ نہیں لیکن تیزی کے ساتھ ہونے والے اضافے نے تمام کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ ڈالر کا قہراور سیاسی جادو گری برائے قومی خود مختاری سودا گری کے عنوان سے ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہے، اس میں کہا گیا ہے ’’ میں نے دو ہزار تیرہ چودہ میں خرطوم سوڈان میں نمکو چپس کا کارخانہ لگایا تھا، مشینیں اور آٹھ دس کاریگرز پاکستان سے ساتھ لے گیا تھا باقی لیبر وہیں سے لی، تب ان کا ایک روپیہ (جنیہ) پاکستانی 11 روپے کا تھا اور ایک ڈالر 9 جنیہ کا تھا، میرا بزنس خوب چلا، کیونکہ پورے ملک میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں تھا، میں نے پہلی بار وہاں نمکو کی پروڈکشن شروع کی تھی، سیل کا اندازہ اس سے لگائیں کہ خرطوم سے دوسرے شہروں میں ہماری نمکو چالیس فٹ کنٹینرز میں سپلائی ہوتی اور خریدار پارٹیاں دس پندرہ دن ایڈوانس پے منٹ ٹرانسفر کرتی تھیں تو ہم انہیں مال بھیجتے تھے۔ دو ہزار سولہ کے آخر میں ان کی معیشت ڈسٹرب ہونا شروع ہوئی اور ڈالر 9 جنیہ سے ایک دم 16 جنیہ پر پہنچ گیا۔ میں نے کام سمیٹا (مشینیں اب تک وہیں ہیں)اور پاکستان واپس آ گیا۔آج ڈالر 570 جنیہ کا ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک سوڈانی سے حال چال پوچھا، اس نے بتایا کہ اب وہ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں اور دودھ والی چائے پیئے کافی عرصہ ہوچکا ہے۔سوڈان اب اپنی معیشت کی بحالی کے لیے مغرب کی ساری شرائط مان رہا ہے، 2020 میں وہ اسرائیل کو بھی تسلیم کر چکا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد میں نے سوشل میڈیا پہ سوڈانیوں کو فلسطینیوں سے ان الفاظ میں معذرت کرتے ہوئے دیکھا ’’ ہمیں معاف کردینا ہمارے بچے بھوکے ہیں ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا‘‘۔

عزیزانِ وطن۔آج ہمارے ملک میں بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ معاشی تباہی اسی لیے لائی گئی ہے کہ ہمیں مجبور کیا جائے کہنے پر ’’ ہمیں معاف کردینا ہمارے بچے بھوکے ہیں ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا‘‘۔ پاکستان میں ڈالر جس برق رفتاری سے مہنگا ہوا یہ بھی ایک تاریخ ہے۔ اس اضافے کے کیا اسباب ہیں۔ کیا پاکستان سے بھی کچھ ’’ چھپی‘‘ ہوئی شرائط تسلیم کرانا مقصود ہے یا کچھ اور ہے۔ جو کچھ بھی ہے پاکستانی حکمران طبقہ کو کھلی آنکھوں کے ساتھ قدم قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!