Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Editorial

حکومت کا چھوٹے تاجروں کو ریلیف

 

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 150 یونٹ سے کم بجلی استعمال کر نے والے دکان داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 150 یونٹ سے اوپر چھوٹی دکان والوں سے ایک سال کا 36 ہزار روپے ٹیکس لیا جائے گا۔ دکان دار اگر سالانہ12لاکھ روپے کمارہا ہے تو صرف 36 ہزار روپے کا ٹیکس ہی تو مانگ رہا ہوں۔میری ترجیح مہنگائی کنٹرول کرنا نہیں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے تاجروں سے بجلی کے بل میں فکسڈ ٹیکس واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کے بل پر ٹیکس واپس لیں۔ تاجر بھائی پریشان ہیں اور شکوہ کر رہے ہیں، جس کے فوری بعد وزیرخزانہ نے 150 یونٹ سے کم بجلی استعمال کر نے والے دکان داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 150 یونٹ سے اوپر چھوٹی دکان والوں سے ایک سال کا 36 ہزار روپے ٹیکس لیا جائے گا، اِس سے قبل ملک بھر کے تاجروں نے بجلی بلوں میں فکسڈ ٹیکس وصولی کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے ہوئے نہ صرف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا تھا بلکہ تاجروں نے بجلی کے بل نہ جمع کرانے کا اعلان کر رکھا تھا۔تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ملاقات کرنے تاجروں کے مطابق بجلی کے بلوں پر لگائے گئے فکس ٹیکس اور جیولرز اور جائیداد کی خرید و فروخت پر لگائے ٹیکسز پر بھی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تاجروں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرا ئی ہے۔ ملاقات کرنے والے تاجروں نے 6 ہزار روپے سے کم کرکے 3 ہزار کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ڈیڑھ سو یونٹ تک استعمال کرنے والے دکانداروں کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے اور یہ واقعی قابل تحسین اور سراہا جانے والا فیصلہ ہے کیونکہ پہلے فیصلے کے مطابق گلی محلے کے ایسے چھوٹے دکاندار بھی ٹیکس دہندہ قرار پائے تھے جن کی آمدن قریباً قریباً نہ ہونے کے برابر تھی اور یہ ٹیکس واقعی اُن کے لیے بوجھ تھا مگر اب ڈیڑھ سو یونٹ تک استعمال کرنے والے دکانداروں کو استثنیٰ دیئے جانے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ اِس اعلان سے اُن چھوٹے دکانداروں کو ریلیف ملے گا جنہیں واقعی ریلیف کی ضرورت ہے، مگر قطعی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت ہر محاذ پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے وہیں آکر کھڑی ہوجائے جہاں سے ٹیکس اصلاحات کا آغاز کیا تھا، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کبھی بھی ٹیکس کلچر پروان نہیں چڑھا، لوگ ٹیکس دینے سے جان بچاتے ہیں خصوصاً کاروباری طبقہ تو ٹیکس بچانے کے لیے ایسی ایسی راہ نکال لیتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، حکومت ذرا سی بھی سختی کرے تو شٹر ڈائون اور احتجاج جیسے معاملات دیکھنے کو ملتے ہیں ، روزمرہ کی ضروریات زندگی کی قلت پیدا کرکے حکومت کو پسپائی پر مجبور کردیا جاتا ہے مگر ٹیکس نادہندگان کی پیش قدمی
اور حکومت کی پسپائی کا سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ عام صارف مارچس کی ڈبی سے لیکر ہر ضروریات زندگی کی خریداری بلکہ اناج تک خریدنے پر ٹیکس اداکرتا ہے مگر اُس کو بیچنے والے ٹیکس دینے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں، ٹیکس نہیں ہوگا تو ملک کیسے چلےگا؟ اشرافیہ کی لمبی اور لگژری گاڑیاں کیسے سڑکوں پر چلیں گی ، مگر کیا کیا جائے ہر حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے کے معاملے پر پہلی حکومت کی طرح بے بس نظر آتی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ واقعی ملک میں مہنگائی ہوئی ہے اور اُن کہے ہوئے الفاظ من و عن ملاحظہ فرمائیں ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن میں مجبور ہوں کچھ نہیں کرسکتا۔ جو کشتی ڈوب رہی ہے اسے پہلے بچانا ہے، جلد روپے پر دباؤ کم ہوگا تو خود بخود مہنگائی کم ہوگی اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز تب تک معاشی بحران سے باہر نہیں نکل سکتا جب تک ٹیکس اصلاحات نہیں کی جاتیں اور ہر وہ ادارہ یا شخصیت جس کی آمدن ٹیکس کے قابل ہے، وہ ٹیکس نہ دے۔ ماضی کی ہر حکومت ٹیکس اصلاحات کے معاملے میں پسپا ہوتی دیکھی گئی ہے کیونکہ جب بھی ٹیکسوں کا نفاذ کیا جاتا ہے تب حزب اختلاف والے حکومت کی بجائے ٹیکس نادہندگان کی آواز بن جاتے ہیں، جب سیاست میں ایسے فارمولے آزمائے جائیں گے تو کون ٹیکس دے گا؟ کیونکہ ملک میں ٹیکس کا کلچر موجود ہی نہیں ہے اور ٹیکس اصلاحات کبھی کامیاب ہی نہیں ہوئیں۔ بلاشبہ ڈیڑھ سو یونٹ کی چھوٹ دینے کا فیصلہ صد فی صد درست ہے کیونکہ عام چھوٹا دکاندار واقعی اِس سے پریشان تھا لیکن جو لوگ لاکھوں کروڑوں کا روز کاروبار کرتے ہیں انکا واویلا کرنا اور حکومت پر پریشر بڑھانا سمجھ سے بالاتر ہے، ماچس خریدنے والا غریب ٹیکس دے تو لاکھوں کروڑوں روپے کمانے والا کیوں نہ دے یہی سوال مفتاح اسماعیل بارہا اور بخوبی اٹھاچکے ہیں ۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں اور ٹیکس مانگنے پر مزاحمت ایسی کہ حکومت گھٹنے ٹیک دے۔ آج آئی ایم ایف بھی ٹیکس اصلاحات لانے کا مطالبہ کررہا ہے کیونکہ پوری دنیا دیکھتی ہے کہ ہمارے اشرافیہ اور خوب کمانے والے ٹیکس دینے سے ہمیشہ گریزاں رہے ہیں اسی لیے حکومت کا زور عام صارف کے استعمال میں آنے والی اشیا اور انڈسٹریز پر ہی چلتا ہے حالانکہ انڈسٹریز پہلے ہی تہہ در تہہ ٹیکسوں کی بھرمار سے برے حالات سے دوچار ہےاس لیے حکومت کو بہرحال ٹیکس اصلاحات کرنا ہی پڑیں گی اورمزاحمت کرنے والوں کا دبائو بھی برداشت کرنا پڑے گا مگر ٹیکس نافذ کرتے وقت خیال رکھا جائے کہ اس کا نقصان عام صارف کو نہ ہو کیونکہ مشاہدے میں یہی آیا ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والے سارا بوجھ عام صارف پر منتقل کردیتے ہیں۔ حکومت ٹیکس اصلاحات لائے اور پوری طاقت کے ساتھ ان کو نافذ کرے لیکن قبل ازیں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کرلے تاکہ کسی پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے، یاد رکھیں ٹیکس سے ہی نظام مملکت چلتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!