Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
تازہ ترینتحریکخبریں

عمران خان کا جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر پُرامن احتجاج کا اعلان

پی ٹی آئی چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر پُرامن احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیشنل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر پُرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعرات کی دوپہر کو الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاج کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں اور ملک میں شفاف الیکشن ہوں۔ الیکشن میں دھاندلی کا ان کا سسٹم بنا ہوا ہے۔ ای وی ایم مشین آجائے تو دھاندلی 130 طریقے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان اور ایران میں ای وی ایم مشین کا استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں چیف الیکشن کمشنر نے ای وی ایم کی بھرپور مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 1970 کے سوا کوئی بھی ہارنے کے بعد الیکشن کو تسلیم نہیں کرتا۔ بدقسمتی سے چیف الیکشن کمشنر نے ای وی ایم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

میں نے پارٹی کا سسٹم بنانے کی کوشش کی مگر پوری طرح کامیاب نہ ہوا۔ ہم نے بڑی سطح پر پارٹی الیکشن  کرائے اور مشکلات کا سامنا بھی ہوا۔ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ پارٹی آگے نہیں بڑھتی اگر ادارہ نہ بنے اور میرٹ نہ ہو۔

عمران خان نے کہا کہ دو پارٹیز نے پاکستان کے عوام کا پیسہ چوری کیا، دونوں جماعتوں کا پیسہ بنانے کے سوائے کوئی نظریہ نہیں۔ یہی دو جماعتیں 1988 سے ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔ میثاق جمہوریت کے بعد پھر 10 سال مل کر ملک کو لوٹا اور آج یہ تحریک انصاف کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت گرانے کیلیے مہنگائی کا بہانہ بناتے رہے۔ لیکن ان کا حکومت میں آنے کا صرف ایک مقصد این آر او لینا تھا۔ جب یہ حکومت میں آئے تو ان کے پاس معیشت کے لیے کوئی منصوبہ نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ ساڑھے 3 ماہ میں قوم مہنگائی میں ڈوب گئی اور اب معیشت دیوالیہ کی طرف جارہی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ جب ہم نے 12 روپے پٹرول پر بڑھائے تو کانپیں ٹانگنے والے نے مہنگائی مارچ شروع کیا۔ ہمارے دور میں عالمی سطح پر فی بیرل تیل 110 ڈالر تھا۔ اس وقت ہم پٹرول 150 روپے فی لیٹر دے رہے تھے۔ آج عالمی مارکیٹ میں تیل 95 ڈالر اور ہمارے یہاں فی لیٹر 250روپے تک ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت سازش کے تحت گرائی  گئی، ایسا کون سا بڑا بحران آیا تھا۔ جو دیکھ رہے تھے سازش ہورہی ہے انھوں نے فیصلہ کیا ہم کچھ نہیں کریں گے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان سری لنکا کے بعد دیوالیہ ہونے کے قریب ممالک میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کیلیے وہ بھی ذمے دار ہیں جو سازش روک سکتے تھے۔ جو دیکھ رہے تھے سازش ہو رہی ہے لیکن انھوں نے فیصلہ کیا ہم کچھ نہیں کریں گے اور ان کے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان سری لنکا کے بعد دیوالیہ ہونے کے قریب ممالک میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس حکومت کی ساکھ اتنی نیچے گر گئی ہے کہ آرمی چیف کو فون کرنا پڑ رہا ہے۔ آج آرمی چیف کو امریکا فون کرنا پڑا کہ آئی ایم ایف سے سفارش کر کے پیسے دلا دیں۔

سربراہ پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں نے پارٹی کا سسٹم بنانے کی کوشش کی مگر پوری طرح کامیاب نہ ہوا۔ ہم نے بڑی سطح پر پارٹی الیکشن  کرائے اور مشکلات کا سامنا بھی ہوا۔ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ پارٹی آگے نہیں بڑھتی اگر ادارہ نہ بنے اور میرٹ نہ ہو۔

عمران خان نے کہا کہ پارٹی کیلئےسب سے اہم چیز یہ ہے کہ شفاف  الیکشن ہوں۔ شفاف الیکشن نہ ہوں تو پارٹی ٹھیک ہونے کے بجائے کمزور ہو جاتی ہے۔ ہمارے سامنے دو پارٹیاں ختم ہوئیں کیونکہ ان کے اندر میرٹ نہیں۔ یہ خاندان کی سیاست کرتے ہیں۔ پارٹی الیکشن نہ ہونے پر پیپلز پارٹی آج سندھ کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔

سابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد پارٹی تنظیم کیلئے وقت کم پڑگیا جس سے نقصان پہنچا۔ ہم سب نے مل کر پارٹی میں میرٹ کو اہمیت  دینی ہے۔ پارٹی کا نظریہ بہت اہم ہے لیکن ساڑھے 3 میں اندازہ ہوا پارٹی عہدیدار کو بھی نظریے کی سمجھ نہیں۔ یہ وقت پارٹی کو منظم کے لیے سب سے بہترین ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!