Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
CM RizwanColumn

اکثریت کی ترقی کی دشمن اقلیت .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

 

پاکستان کا مراعات یافتہ طبقہ یا اشرافیہ قیام پاکستان سے لے آج تک ملکی وسائل، اختیارات اور اقتدار پر مسلسل قابض ہے۔ یہ طبقہ اگرچہ مجموعی ملکی آبادی کا صرف ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہے مگر یہ پارلیمنٹ سے لے کر بیوروکریسی، قومی اداروں کے اعلیٰ عہدوں تک نہ صرف نسل در نسل براجمان چلا آرہا ہے بلکہ آپس کی رشتہ داریوں اور کاروباری شراکت داریوں کی بنیاد پر اس طبقے نے پاکستانی عوام کو ایک منظم،گمبھیر اور استحصالی نظام کے شکنجے کے زندان میں قید کرکے رکھا ہوا ہے۔ اس قید خانے کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ عوام کسی بھی پارٹی یا حتیٰ کہ کسی بھی آمر کو اقتدار سونپ دیں وہ بنیادی طور پر اسی طبقے کا پروردہ ہوتا ہے۔ سول بیوروکریسی،افسر شاہی اور ملز مالکان تمام کے تمام اسی طبقے اور کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ہر حال اور ہر قدم پر اپنے طبقے کے فائدے کے لیے ہی کام کرتے ہیں۔ ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے زیادہ تر سیاست دان بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بذات خود اسی استحصالی نظام کے کسی نہ کسی طرح سے طفیلی بھی ہیں اور معاون بھی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہی سیاست دان اسی نظام کو ہر بار جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وعدہ کر کے ووٹ بھی لے لیتے ہیں اور باریاں بدل بدل کر اقتدار میں بھی آ جاتے ہیں اور دولت و مراعات سمیٹنے کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کر دیتے ہیں جہاں سے پچھلی بار ٹوٹا ہوتا ہے۔
اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کی ملکی وسائل پر اجارہ داری، خود غرضی، مفاد پرستی اور سفارشی اٹھان نے اس ملک میں غریبوں کو اب تو حد سے زیادہ غریب کر دیا ہے۔ ایک سال قبل اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مراعات یافتہ طبقہ دراصل استحصالی نظام کو سہارا دیئے ہوئے ہے اور جب کبھی عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو آتا ہے تو یہ اشرافیہ عوام کے سامنے چند نمائشی منصوبے اور وقتی اقدامات کر کے اسے پھر معمول کی سطح پر لے آتے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اشرافیہ کی خدمت و اطاعت اور عوام کی ذلت پر مبنی یہ نظام صدیوں پرانا ہے اور دنیا کے چند ایک ترقی یافتہ ممالک کے سواقریباً تمام ملکوں اور خطوں میں رائج ہے۔ اس استحصالی نظام کی پائیداری کا صرف ایک ہی راز ہے کہ ایک جیسی سوچ رکھنے والے طاقتور افراد کو یکجا کرکے عوام کو سلطنت کے امور سے دور رکھنے اور مراعات سے محروم رکھ کر کمزور سے کمزور تر کرنے کا کام جاری رہتا ہے اور بالآخر غریب کی آواز اور نبض دونوں بند ہو جاتی ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو نظر آتا ہے کہ یہاں مغلوں کے دور میں بھی معاشرے کے دو طبقات میں تقسیم اس قدر واضح تھی کہ مراعات یافتہ طبقہ ایک شاندار زندگی گزار رہا تھا اور غریب طبقے پسماندگی، جہالت اور کسمپرسی میں رہتے تھے۔ لاہور کے شاہی قلعے میں طاقت اور اقتدار رکھنے والے حکمران اور ان
کے پجاری براجمان تھے جبکہ عوام الناس پرانے لاہور یا دلی کی تنگ و تاریک گلیوں میں سسکتی زندگی گزارتے تھے۔ اس طبقے نے خود تو اپنے لیے قلعے اور محل بنائے ہوئے تھے مگر عوام کے لیے کچھ قابل ذکر کام نہ کیا۔ دونوں طبقات کا معاشی، سماجی اور رہن سہن کا فرق زمین وآسمان کے فاصلے جیسا تھا۔ آج ہم آزادی کے 75 سال بعد بھی اپنی اسی تاریخ اور ماضی کے اسی جبر تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مغلوں کے زوال کے بعد انگریز آئے تو ان کے اقتدار میں رہنے کے لیے یہی نظام سود مند تھا چنانچہ انہوں نے بھی اپنے حامی جاگیرداروں، نظاموں، چوہدریوں، ملکوں، جاٹوں اور قریشیوں کو اختیارات و مراعات جبکہ عوام کو تھوڑی بہت سرکاری نوکریاں دے کر پہلے سے موجود طبقاتی تقسیم کو مزید پختہ کر دیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترقی یافتہ دنیا میں بھی عوام و خواص اور خدمات و مراعات کی یہ تقسیم موجود ہے۔ اس کا جواب شاید ہم کلی طور پر نفی میں نہ دے سکیں مگر یہ سچ ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت ترقی یافتہ بنتی ہے جب اس کی طبقاتی تقسیم کم سے کم سطح تک پہنچ جائے۔ مثال کے طور پر آج کئی ممالک میں وزیراعظم بھی ایسے ہی سفر کرتا ہے اور قانون کو جوابدہ ہوتا ہے جیسے کہ ان کے عوام۔ وہاں کسی انیس بیس گریڈ کے افسر کو سرکاری کوٹھی، مرسڈیز کار، ڈرائیور، سینکڑوں لٹر ماہانہ پٹرول، خانسامے اور نوکر چاکر حکومت کی طرف سے نہیں ملتے اور نہ ہی ان کے وزرا اور مشیروں کے لیے سڑکیں بند ہوتی ہیں۔ ان ممالک میں قانون توڑنے کا تو حکمران یا وزیر مشیر سوچ بھی نہیں سکتے۔ آج بھی دنیا
میں وہی قومیں ترقی یافتہ اور باعزت ہیں جہاں حکمران اپنے ملک کے قانون سے مستثنیٰ نہیں بلکہ قانون کے رکھوالے اور عوام کے خادم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ قانون ان کے گھر کی لونڈی اور عدالتوں کی چابیاں ان کی جیبوں میں ہیں۔ یہ جب چاہتے ہیں عدالتیں ان کے لیے چھٹی والے دن بھی کھل کر انصاف تقسیم کرتی ہیں، ای سی ایل سے ان کے نام راتوں رات خارج ہوجاتے ہیں اور سڑکیں ان کے قافلوں کے لٹے خالی کرا لی جاتی ہیں۔ یہیں عوام کا کیس داخل دفتر ہوتا ہے اور فریقین کیس لگنے اور فیصلہ ہونے کے انتظار میں قبر تک جا پہنچتے ہیں۔ یہاں سرکاری نوکریوں اور افسران کے تبادلوں کے نام حکومتوں کے پروردہ اربوں روپے کما کر بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں۔ یہاں تبدیلی کے نام تباہی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔
المیہ یہ نہیں کہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے معاشروں میں ایسا کیوں تھا یا کیوں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں کی عوام نے اپنے آپ کو کمتر اور خواص و اشرافیہ کو برتر مخلوق سمجھ کر اس تقسیم کو قبول کر لیا ہے۔ خواص کو تو خیر مراعات کی لت لگی ہوئی ہے لیکن یہاں کی عوام بھی یہی سمجھتی ہے یا انہیں سمجھادیا گیا ہے کہ اگر کوئی اٹھارہویں، بیسویں گریڈ میں افسر یا وزیر، مشیر، سفیر بن گیا ہے تو مراعات، پروٹوکول اس کا حق ہے۔ یہاں ضرورت اس اس امر کی ہے کہ اگر پاکستان کے لوگ اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر عوام اور خواص کے درمیان اس معاشی اور نفسیاتی دیوار کو گرانا ہو گا۔ معاشی طور پر ایسا اس طور کیا جا سکتا ہے کہ اشرافیہ سے ان کی مراعات واپس لے کر بچت کو غریبوں کی تعلیم اور تربیت، ترقی کے یکساں مواقع، انصاف کی بلا امتیاز فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے۔ یہ کام چند مخلص افراد جو مسئلے کی جڑ سے واقف ہوں اور اقتدار اور عدلیہ میں ہوں کے ذریعے کچھ ہی برسوں میں کیا جا سکتا ہے مگر مشکل اور طویل مرحلہ اس سے بھی پہلے شعوری اور نفسیاتی محاذ پر ہے۔ اس محاذ پر عوام کو یہ شعور دلانا ضروری ہے کہ موجودہ نظام میں دراصل جمہوریت کے لبادے میں ایک ظالم اور استحصالی طبقہ دراصل بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہے۔ پارلیمنٹ میں جمہوریت، انسانی حقوق، اور سیاسی مخالفین کی کرپشن اور بدعنوانی پر جو خواص ایک دوسرے پر تیر چلا رہے ہیں، یہ در اصل دولت اور طاقت کے حصول کے لیے ان کی آپس کی جنگ ہے۔ عوام الناس کا یہی شعور آنے والے وقت میں ایک مستحکم اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہو گا۔
اسی نفسیاتی اور شعوری جنگ کے دوسرے محاذ پر مراعات یافتہ مقتدر طبقے اور اشرافیہ کو تکبر و نخوت کے تخت سے اتار کر عوام کے برابر لانا پڑے گا تاکہ وہ ہر معاملے میں قانون اور مروج طریقہ کار کو روندتے ہوئے نہ تو پچھلے دروازے سے اپنے کام نکلوا سکیں اور نہ ہی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق عدالتیں لگوا کر من پسند انصاف لے سکیں۔ خدا نخواستہ، اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر جیسے کہ پچھتر سال عوام کو غربت کی چکی میں پستے اور اشرافیہ کو دولت و مراعات کے مزے لیتے گزر چکے ہیں، ستر سال اور بھی ایسے ہی گزر جائیں تو کچھ اچنبھے کی بات نہ ہو گی۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ اشرافیہ اور عوام میں معاشی اور نفسیاتی خلیج وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر گہری ہو جائے کہ اسے پاٹنا ممکن نہ رہے اور پھر ایک دن خلق خدا راج کرنے کا حق لینے کی خاطر سڑکوں پر آ جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!