Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnRoshan Lal

اب کیا ہوناچاہیے ؟ .. روشن لعل

روشن لعل

 

عدالتی حکم کے تحت حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کی کرسی سے ’’ اٹھک ‘‘ اور پرویز الٰہی کی ’’ بیٹھک ‘‘ کو عمران خان کی بہت بڑی جیت قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جیت سے پہلے ہی17 جولائی کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدواروں کی کامیابی پر کچھ لوگوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اب سیاسی طور پر پاکستان میں عمران خان سے زیادہ مضبوط کوئی اور نہیں ہے ۔ عمران خان کے سیاسی طور پر مضبوط ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے ان کے بیانیے کی مقبولیت کو اس کی وجہ قرار دیا۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عمران خان کا بیانیہ کیا ہے۔ عمران خان نے جس حکمت عملی اور شدت کے ساتھ اپنے بیانیے کا پراپیگنڈہ کیا ان کے مخالف شاید اس قدر شدت کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکے مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں بیانیے کی صحت پر جوسوال اٹھائے گئے وہ بے بنیاد تھے۔ قابل جواز سوالوں کے جواب سامنے نہ آنے کے باوجود عمران خان کا بیانیہ مقبول ہونے پر ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ شدید پراپیگنڈہ کرتے ہوئے ہوائی قلعے جیسی تعمیر کو لوگوں کے سامنے برج خلیفہ بنا کر پیش کر دیا گیا۔

وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتیں عمومی اور مسلم لیگ نون خاص طور پر عمران خان کے بیانیے کو ہوائی قلعہ قرار دیتی ہے ۔مسلم لیگ نون کے ترجمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے بیانیے کا پراپیگنڈہ کر کے لوگوں کو اس حد تک گمراہ کیا کہ انہوں نے ایک جھوٹ کو سب سے بڑا سچ مان لیا۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے نون لیگ والے اس پچھتاوے کا اظہار بھی کر جاتے ہیں کہ لوگوں کی طرف سے عمران خان کے بیانیے کو سچ مان لینے کے بعد ان کو جو سیاسی نقصان ہوا اس کی وجہ صرف یہ ہے انہوں نے ملکی مفاد میں کسی کے کہنے پر تیزی سے غیر مقبول ہوتی ہوئی ایسی حکومت کو گرایا جس کا ایک سال بعد آئینی طور پرخاتمہ طے تھا اور اس کے خاتمے کے بعد ا ن کے لیے میدان اس حد تک خالی ہونے کا امکان تھا کہ انہیں پارلیمنٹ میں آسانی سے دو تہائی کثریت مل جاتی۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے مسلم لیگ نون کے ترجمان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ صرف عمران خان نے لوگوں کو گمراہ کیا وہ شاید خود بھی زیادہ آگاہ نہیں ہیں۔ ان ترجمانوں کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ ایک عرصہ سے خود بھی آگاہی اور گمراہی کے درمیان کہیں پھنسے ہوئے ہیں۔

ان ترجمانوں کے سامنے یہ سوال رکھنا بہت ضروری ہے کہ عمران خان اور ان کے سابقہ اتحادی جب ابھی گھی شکر تھے اس وقت آخر کس بنیاد پر یہ کہا جاتا تھا کہ میاں نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی اب صرف چند دنوں کی بات ہے۔ واضح رہے کہ ان باتوں پر اصرار کرنے والے یہ بھی کہتے تھے کہ کچھ مقتدر لوگوں نے لندن جا کر میاں صاحب سے التجا کی ہے کہ وہ وطن واپس آجائیں کیونکہ کسی سے بھی ملک کی معیشت سنبھالی نہیں جارہی۔ میاں نوازشریف کی وطن واپسی کی باتیں شروع ہونے سے پہلے فواد چودھری کے اس بیان کا بہت چرچا ہوا تھا کہ عمران خان نے اپنی کابینہ کے ارکان کوخبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے آئندہ چھ ماہ کے دوران مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کیا تومعاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔ میاں نوازشریف کی واپسی کی غیر مصدقہ باتیںاس وقت زیادہ معتبرسمجھی جانے لگی تھیں جب سابق سپیکر ایاز صادق نے یہ کہا تھا کہ وہ میاں صاحب کو اپنے ساتھ وطن واپس لانے کے لیے لندن جارہے ہیں۔ اس طرح کی باتوں کے تناظر میں عمران خان کے اس بیان پر بھی غور کر لینا چاہیے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ 2021 کے وسط میں ہی آگاہ ہو چکے تھے کہ ان کی حکومت ختم کی جارہی ہے۔

یہ باتیں سمجھنا شاید زیادہ مشکل نہیں ہے کہ کون کتنا آگاہ ہے اور کون کس کو کتنا گمراہ کر رہا ہے مگر نون لیگ کے بعض لوگ ان باتوں پر غور کرنے کی بجائے یہ سمجھنا شروع ہوگئے ہیں کہ سازش اصل میں عمران خان کے نہیں بلکہ ان کے خلاف ہوئی ہے۔ اس طرح کی سوچ عمران خان کے ساتھ مقابلے میں شکست خوردگی کی علامت ہے۔ نون لیگ کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت نے اپنے مختصر سے اقتدار میں جو سخت اور مشکل ترین فیصلے کیے ہیں عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدے کے باوجود اپنے سیاسی فائدے کے لیے ان فیصلوں پر عمل درآمد سے راہ فرار اختیار کی۔ جن اتحادی سیاسی جماعتوں نے عمران خان کے برعکس اپنی سیاسی ساکھ دائو پر لگا کر ملک کی بقا اور مفاد کے لیے کام کیا اس کا صلہ انہیں سیاسی شکست کی صورت میں نہیں ملنا چاہیے۔یہاں گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں اتحادی جماعتوں کی سیاسی ناکام کو ان کا مقدر بنا دینا چاہتی ہیں۔ اپنی کچھ ناکامیوں کے بعد نون لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں نے عمران خان جیسا رویہ اور لب و لہجہ اختیار کر لیا ہے ۔ اب تک جو کچھ ہو چکا ہے اس سے ان جماعتوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ عمران خان جیسا لب و لہجہ صرف اسی وقت کار آمد ثابت ہوتا ہے جب کوئی استثنا میسر ہو۔

موجودہ اتحادی حکومت کو بھی شاید کچھ نہ کچھ میسر ہے مگر لگ ایسے رہا ہے کہ جو کچھ عمران خان کو میسر ہے وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس صورتحال میں اتحادی جماعتیں صرف چند بڑھکیں لگا کر اپنی مزید شکستوں کا انتظارکرتی رہتی ہیں یا کسی مختلف انداز میں عوام سے رابطہ قائم کرتی ہیں۔ عوامی رابطے کا ایک طریقہ قبل ازوقت انتخابات ہیں۔ اتحادی جماعتوں کو قبل ازوقت عام انتخابات کے لیے ضرور تیار رہنا چاہیے مگر اس سے پہلے اگر وہ ایک ریفرنڈم کا اہتمام کر لیں تو نہ صرف ان کے بلکہ ملک اور عوام کے لیے بھی بہتر ہوگا۔ ویسے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتحادیوں نے قبل ازیں ملکی مفاد میں جو سخت فیصلے کیے ، ان پر عمل درآمد سے پہلے وہ ان کے ممکنہ نتائج سے عوام کو آگاہ کرتے اور آئی ایم ایف کے شرائط کے حوالے سے ریفرنڈم کے ذریعے ان سے رائے لے لیتے۔ جو کام پہلے نہیں ہو اوہ اب ہو سکتا ہی کیونکہ مشکل فیصلے کرنے کا دور ابھی ختم نہیں ہوا ۔ لہٰذاعام انتخابات جیسے کسی بھی مرحلے کے آغاز سے پہلے ضروری ہے ملک کی زبوں حال معیشت کے تمام پہلو عوام کے سامنے رکھ کر انہیں آئی ایم ایف کی شرائط کے ممکنہ منفی و مثبت نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے ریفرنڈم کے ذریعے پوچھا جائے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ آگے بڑھانے کے حق میں ہیں یا نہیں ۔ اس ریفرنڈم میں عوام کے سامنے جو بھی سوال رکھے جائیں عمران خان کو کھل کر ان کی حمایت یا مخالفت کرنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اس ریفرنڈم کا چاہے جو بھی نتیجہ نکلے ، اس کے بعد کم از کم یہ ضرور ہوگا کہ عوام کو آسانی سے کسی یکطرفہ پراپیگنڈے کا اسیر بناناممکن نہیں رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!