Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnKashif Bashir Khan

مقابلہ چودھری پرویز الٰہی سے ہے! .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کے روز تاریخی فیصلہ دیا اور اس کے نتیجہ میں 179 اراکین لے کر وزارت اعلیٰ سنبھالنے والے شریف خاندان کے حمزہ شریف کو فوری دفتر خالی کرنے کا حکم ملا۔ 186 ووٹ حاصل کرنے والے چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیاگیا ہے۔چودھری شجاعت حسین کے جس خط کو طارق بشیر چیمہ(جو ماضی میں سلام اللہ ٹیپو کے ساتھی رہے ہیں) اور چودھری سالک حسین نے آصف زرداری سے ساز باز کر کے منحرف ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو پہنچایا اس کا منطقی انجام یہی ہونا تھا کہ یہ خط اگر لکھنا ہی تھا تو پہلے پارٹی سربراہ یہ خط مسلم لیگ قاف کے پارلیمانی لیڈر اور تمام دس اراکین کو لکھتے کہ ووٹ کس کو ڈالنا ہے۔پھر بھی اراکین اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ آرٹیکل 63اے کے تحت پارلیمانی لیڈر نے ہی کرنا تھا اور پارٹی سربراہ اس کی سفارش پر ہی اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کی درخواست سپیکر اور الیکشن کمیشن کو کر سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے جن اراکین کی 63اے کے تحت نااہلی ہوئی ان کی سفارشات بھی پنجاب میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سبطین خان نے عمران خان کو بھیجی تھیں جس سے پہلے اراکین کو شو کاز نوٹس بھی جاری کئے گئے ۔اس لیے اس سادہ سے قانونی و آئینی معاملے کو کنفیوز نہیں کرنا چاہیے اور سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کے خلاف جو طوفان بدتمیزی اٹھایا جا رہا ہے اس سے فوری گریز بہت ضروری ہے۔

ماضی میں پاکستان میں ایک وقت وہ بھی آیا تھا کہ پاکستان کے ایک وزیر اعظم نے پاکستان کے آرمی چیف کا طیارہ کراچی اترنے سے روک دیا تھا اور اپنے ایک زرخرید پولیس افسر جو اُن دنوں سندھ کا آئی جی بنایا گیا تھا، کو کراچی ایئرپورٹ بھیج دیا تھا کہ اگر پھر بھی جہاز لینڈ کر جائے تو آرمی چیف کو گرفتار کر لیا جائے۔یہ 1999کی بات ہے اور ہمیشہ کی طرح میاں نواز شریف کا اپنی ہی فوج کے سپہ سالار سے اختلاف ہو گیا تھا۔یاد رہے کہ میاں نواز شریف اس سے پہلے مرزا اسلم بیگ، آصف نواز جنجوعہ اور جہانگیر کرامت سے بھی بھرپور اختلاف کر چکے تھے بلکہ نیشنل ڈیفنس کالج میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے حق میں تقریر کرنے پر جہانگیر کرامت سے استعفیٰ بھی لے چکے تھے ۔ اس استعفیٰ اور دو تہائی مینڈیٹ نے میاں نواز شریف کے حوصلے بڑھائے۔1997 کے انتخابات میں محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف انتخابات میں میاں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت دلانے والے ہی اب نواز شریف کے بھاری مینڈیٹ کی زد میں آ رہے تھے اور میاں صاحب پاک فوج کے سپہ سالار کو اسی طرح دیکھنا چاہتے تھے جیسے کسی بھی صوبہ کی پولیس کا آئی جی ۔ میاں نوازشریف کی سیاست میں آمد کے بعد ان کی سیاسی نگہداشت میں چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کا بہت بڑا ہاتھ تھا ۔ 1993 میں جب نواز شریف کی حکومت سپریم کورٹ نے بحال کی تو پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا لیکن چودھری پرویز الٰہی نے اراکین اسمبلی اکٹھے کرکے پنجاب اسمبلی میں ایک طویل آئینی و سیاسی جنگ لڑی لیکن جب 1997 میں کرم فرماؤں نے میاں نواز شریف کو دو تہائی مینڈیٹ سے نوازا تو شریف فیملی چودھریوں کے سارے احسانات اور ان سے کئے وعدے بھلا کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ پھر اپنے گھر لے

آئے اور میاں شہباز شریف کو وزارت اعلیٰ کی گدی پر براجمان کروا دیا۔چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نے پھر بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور شریف برادران کے ساتھ چلتے رہے لیکن کارگل پر پاک فوج اور آرمی چیف سے اختلافات اور پھر انہیں غیر روایتی طریقے سے عہدے سے ہٹا کر گرفتار کرنے یا ملک سے باہر نکالنے کی کوششوں کے بعد جب وہ گرفتار ہوئے تب تک بھی چودھری برادران پاکستان مسلم لیگ یا شریف برادران کے ساتھ ہی تھے۔

طیارہ ہائی جیکنگ اور کرپشن کے مختلف کیسوں میں جب نواز شریف اور شہباز شریف کو عدالتوں نے سزائیں سنائیں اس وقت تک بھی چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت نواز شریف وغیرہ کے ساتھ ہی تھے لیکن جب ایک صبح جب میڈیا کے ذریعے چودھری برادران کو بھی باقی پاکستانیوں کی طرح معلوم ہوا کہ شریف برادران آمر سے خفیہ معاہدہ کر کے رات کی تاریکی میں اپنے خاندان کے تمام افراد اور سازو سامان اور نوکروں کے ساتھ جدہ چلے گئے ہیں تو مسلم لیگ کے باقی رہنماؤں کی طرح وہ بھی دم بخود رہ گئے ۔جدہ جانے کی ڈیل میں شریف فیملی کے ایک فرد یعنی حمزہ شہباز شریف کا پاکستان میں رہنا بطور گارنٹی رہنا طے پایا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ جتنا عرصہ شریف فیملی ڈیل کے تحت ملک سے باہر رہے چودھری پرویز الٰہی بطور وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کو طے کردہ رولز سے ہٹ کر رعایتیں دیتے رہے۔شریف فیملی کے بیرون ملک جانے کے فیصلے نے مسلم لیگ کے ان تمام سیاستدانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی جنہوں نے قربانیاں دی تھیں۔

سابق وفاقی وزیر عماد اظہر کے والد جو شریف خاندان کے برے دنوں کے محسن بھی تھے کی سربراہی میں مسلم لیگ قاف کی بنیاد رکھی گئی اور پھر بعد میں اس جماعت کی قیادت چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کے ہاتھوں میں آ گئی۔چودھری پرویز الٰہی 2002 پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے اور میں ان کی سیاست سے اختلاف رکھنے کے باوجود ان کے کچھ کاموں کو بھلا نہیں سکتا۔ پاکستان میں کچھ ایسے قوانین تھے کہ سڑک پر زخمی پڑے کسی بھی شخص کو کوئی طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچانے سے گھبراتا تھا بلکہ بھاگتا تھا۔وجہ یہ تھی کہ جو بھی اسے ہسپتال پہنچاتا تھا اسے بٹھا لیا جاتا تھا اور اکثر مواقع پر نیکی کرنے والے کو ہی ملزم قرار دے دیا جاتا تھا چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد جو 1122 سروس کا آغاز کیا وہ آج بھی صوبے بھر کے عوام کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ، اسی طرح ٹریفک کے نظام کی بہتری کیلئے جو وارڈن سسٹم چودھری پرویز الٰہی نے روشناس کروایا وہ آج بھی سڑکوں پر ٹریفک کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں مگرافسوس کہ میاں شہبازشریف اور سردار عثمان بزدار کے دور میںان وارڈنز کی ترقیاں اور انکریمنٹس روکی گئیں، اسی طرح وزیر آباد میں سٹیٹ آف دی آرٹ دل کا ہسپتال اور میو ہسپتال میں سرجری ٹاور جیسی عوامی سہولتیں بھی چودھری پرویز الٰہی کے کارنامے تھے۔میں نے خود چودھری پرویز الٰہی کے دور وزارت اعلیٰ میں لاہور کے ہسپتالوں میں اعلان ہوتے سنے ہیں کہ اگر کسی کو دوائی اور علاج میں کوئی دشواری ہے تو وہ فلاں کمرے میں رابطہ کرے۔خیر اب جب پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی اور تحریک انصاف کی حکومت واپس آ چکی ہے تو سب سے پہلے انہیں صحت کارڈ کی سہولت بحال کرنی چاہیے جو موجودہ حکومت نے قریباً ختم کر دی ہے۔ پنجاب میں جو پڑھا لکھا ہے اس کو نوکری کا منصوبہ چودھری پرویز الٰہی نے شروع کیا تھا اس میں دانش سکول اور لیپ ٹاپ جیسے معاملات نہیں تھے، اور وہ پروگرام خالصتاً غریب بچوں کیلئے تھے۔
آج پرویز الٰہی تحریک ان

صاف کے وزیر اعلیٰ ہیں اور اس ساری عمل میں چودھری مونس الٰہی کی ثابت قدمی اور عمران خان سے عدم اعتماد کی تحریک سے قبل کئے جانے والے وعدے کو نہ سراہنا زیادتی ہو گی کہ سیاسی بے وفائیوں کے اس دور میں تمام تر مشکلات اور حکومتی جب کے باوجود چودھری مونس الٰہی نے عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ اس کے عہد کی تکمیل میں ان کے خاندان میں گہری دراڑ بھی پڑ گئی۔چودھری پرویز الٰہی کو فوری طور پر ان پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا ہوگی جو پنجاب اسمبلی میں نہ صرف گھسے بلکہ انہوں نے اراکین پنجاب اسمبلی کو زدوکوب کیا۔25 مئی اور اس سے قبل جس ریاستی جبر کا مظاہرہ پنجاب پولیس نے نہتے عوام کے ساتھ کیا تھا اور آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی آپریشن وغیرہ کے خلاف جو کاروائی کرنے کا چودھری پرویز الٰہی نے وعدہ کیا تھا، اب بھی اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو پھر جمہور کا اس نظام پر اعتماد اٹھ جائے گا۔بہر حال سوشل میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت صرف بارہ کہو سے فیض آباد کے چند کلومیٹر تک رہ گئی ہے ،کامقابلہ اب ایک ایسے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہے، جو ان کو ناکوں چنے چبوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور وہ پچھلے تین ماہ میں پنجاب اسمبلی میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ اب دکھائی ایسے ہی دیتا ہے کہ پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ بننے سے سیاسی بدتمیزی میں کمی آئے گی کہ چودھری پرویز الٰہی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر تحریک انصاف کی بھرپور عوامی،سیاسی و پارلیمانی سپورٹ ان کے ساتھ ہے۔نون لیگ کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اب ان کا مقابلہ چودھری پرویز الٰہی سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!