Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
تازہ ترینخبریںپاکستان سے

میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں اور وہ قبر تک دفن رہیں گے، وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اگر فیصلہ کرنا ہے تو انصاف کی بنیاد پر کرنا ہوگا یہ نہیں ہوسکتا میرے ساتھ الگ برتاؤ ہو کسی اور کے ساتھ الگ۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں طوفانی بارشوں سے نقصانات ہوئے، کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کی آبادی شدید متاثر ہوئی، ان طوفانی بارشوں نے ہر جگہ تباہی پھیلائی، ان طوفانی بارشوں میں بے پناہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، اللہ تعالی جاں بحق ہونے والوں کوجنت میں جگہ عنایت فرمائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بارشوں کے دوران صوبائی حکومتوں کی امدادی کارروائیوں کے ساتھ وفاق نے بھی بھرپور حصہ ڈالا ہے، اس حوالے سے میں نے کل دوبارہ اجلاس طلب کیا ہے،کسانوں کے نقصانات پورے کرنے کیلئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایوان پاکستان کے آئین کی ماں ہے، 1973کا آئین ایک متفقہ آئین تھا، 1973 میں تمام سیاسی جماعتوں نےآئین پراتفاق کیا، آئین پاکستان ہی وحدت کی نشانی ہے، اسی آئین نے پوری دنیا میں پاکستان کو مضبوط ملک کے طور پر پیش کیا ۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ ماضی میں کئی بار مارشل لاء اس ملک پر مسلط رہے، مارشل لاء کے نتیجے میں ہی پاکستان دو لخت بھی ہوا، 75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے بدترین انتخابات ہوئے، رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس بند ہوا اور دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہم پر مسلط کر دیا گیا۔

وزیراعظم ںے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں 20 ہزار ارب سے زیادہ قرض لیے گئے، روزگار دلوانا تو دور کی بات لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے، ہم جانتے تھے کہ پاکستان دیوالیہ کے قریب ہے، اگر متحدہ اپوزیشن سیاست کو مقدم رکھتی تو پھر ریاست کا خدا حافظ تھا، سب نے مل کر مشاورت کی اور فیصلہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے، پہلی مرتبہ ووٹ کی طاقت سےکرپٹ حکومت کو گھر بھیجا۔

شہباز شریف نے کہا کہ تمام جماعتوں نے مل کر مجھے وزارت عظمیٰ کیلئے منتخب کیا، مجھے وزیراعظم بننے کا لالچ نہیں تھا ، ماضی میں بھی پیشکش ہو چکی، وزیراعظم بننے کئی مواقع ملے، پرویز مشرف نے بھی مجھے وزیراعظم بننے کی پیش کش کی تھی، جب نواز شریف کو سزا ہوئی تو اس وقت بھی مجھے وزیراعظم نامزد کیا گیا، میں نے پنجاب کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے وزارت عظمیٰ لینے سے انکار کر دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں اور وہ قبر تک دفن رہیں گے، میں اگر وہ راز کھول دوں تو یہ ایوان حیرت میں مبتلا ہو جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ سب آتے ہیں اپنی اننگز کھیلتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، ایک زمانہ تھا سابق چیف جسٹس دن رات از خود نوٹس لیتے تھے، عدالت اگر بلائے تو ہمیں احترام سے جانا چاہیے, اگر فیصلہ کرنا ہے تو انصاف کی بنیاد پر کرنا ہوگا یہ نہیں ہوسکتا میرے ساتھ الگ برتاؤ ہو کسی اور کے ساتھ الگ۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے سب کے ساتھ تعلقات خراب کیے، جب ٹرمپ کو مل کر آئے تھے تو کس نے کہا تھا میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں، دعویٰ کیا گیا کہ روسی حکومت نے سستا تیل دینے کی پیشکش کی لیکن روس نے تردید کی کہ انہوں نے سستا تیل دینے کی کوئی پیشکش نہیں کی۔

قائد ایوان نے مزید کہا کہا 2014 میں اسی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کا اعلان کس نے کیا تھا؟عدالتی عمارت پر گندے کپڑے کس نے لٹکائے تھے؟ بلوں کو آگ لگانے کا کس نے کہا تھا؟کسی نے نوٹس نہیں لیا سب خاموش رہے، کیایہ آئین اورقانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف نہیں تھا؟

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور بھارت سے پیسہ میں نے نہیں عمران خان نے لیا، اسرائیل اور بھارت سے پیسے لینے کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، فارن فنڈنگ کیس کا الیکشن کمیشن کیوں فیصلہ نہیں کررہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے زمانے میں چینی ایکسپورٹ ہوئی تو اس وقت اس کی قیمت 52 روپے کلو تھی، چینی کی ایکسپورٹ پر اربوں روپے سبسڈی دی گئی، گیس جب 3 ڈالر کے ریٹ پر بک رہی تھی تو یہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے تھے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیااور خود ہی نےاس کی دھجیاں اڑائیں، ان کی اس غفلت پر کسی نے ازخود نوٹس نہیں لیا، مونس الہٰی کا کیس نیب نے بند کیا، کسی نے نوٹس نہیں لیا،عمران خان کی بہن کو ایف بی آر سے خاموشی کے ساتھ این آر او دلوایا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک ایسا لاڈلا جس کو 15 سال دودھ پلایا گیا، ادارے دن رات اس کے لئے کام کرتے تھے، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کسی کو حمایت اور مدد نہیں ملی اور نہ ملے گی، اس کے باوجود معیشت کا جنازہ نکال دیا گیا۔

معیشت کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ چار سال کے دوران معیشت ڈبو دی گئی، تیل اور گیس کی قیمتیں میرے اختیار میں نہیں، ہم سب دن رات ایک کر کے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ مارچ میں جس طرح آئین شکنی کی گئی سب کو معلوم ہے، ڈپٹی اسپیکر،صدر مملکت اور عمران خان نے دھوکے سے اسمبلی توڑنے کی کوشش کی، اُس آئین شکنی پر تو کسی کو عدالت میں نہیں بلایا گیا لیکن ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو عدالت میں بلالیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کی کابینہ میں بند لفافوں پر اراکین سے دستخط لئے جاتے رہے، اراکین کے پوچھنے پر عمران خان نے کہا یہ حساس دستاویزات ہیں آپ سب دستخط کریں، بند لفافے میں لکھا ہوتا کہ جوہری اثاثے بیچ دو؟ کیا وہ کابینہ کا فیصلہ ہوتا؟ تفصیلات اور بھی ہیں بتاؤں تو سب کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!