Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Editorial

چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے معاملے پر چودھری پرویز الٰہی کے حق میں فیصلہ سنادیا ہے اور عدالتی حکم کی روشنی میں چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے،حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے چودھری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کی۔گذشتہ روز سماعت کے آغاز پر عرفان قادر نے عدالت میں کہا کہ میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، ملک میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ چل رہا ہے اور فل کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی دائر کریں گے۔

دورانِ سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جوازپیش نہیں کیا گیا، عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پرعمل کرنے سے متعلق دلائل دیے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں، اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں اور اس سوال کے جواب کے لیے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں۔

فل کورٹ بنانا کیس کو غیر ضروری التوا کا شکار کرنے کے مترادف ہے، فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبرتک چلا جاتا کیونکہ عدالتی تعطیلات چل رہی ہیں۔ گورننس اور بحران کے حل کے لیے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں، آرٹیکل63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف انحراف کرنے والے کے نتیجے کا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی زیر صدارت وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے رن آف الیکشن ہوا ،اتحادی جماعتوں کے امیدوار حمزہ شہباز کو 179 اور چودھری پرویز الٰہی کو 186ووٹ ملے تاہم ڈپٹی سپیکرنے پاکستان مسلم لیگ قاف کے پارٹی سربراہ چودھری شجاعت حسین کا خط پڑھ کر ایوان میں سنایا اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے دس اراکین کے ووٹ خارج کردیئے اور 176ووٹ حاصل کرنے پر اتحادی جماعتوں کے امیدوار حمزہ شہباز کووزیراعلیٰ پنجاب قراردیالیکن چودھری پرویز الٰہی نے اِس معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا اس دوران عدالت میں ہونے والی کارروائی اور اتحادی جماعتوں کے فل بنچ سمیت دیگر مطالبات بھی سامنے آئے تاہم منگل کے روز سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کا موقف سننے کے بعد مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قراردیتے ہوئے حکم دیا کہ پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ رات11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں ،فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ قاف کی جانب سے سراہا گیا تو دوسری جانب مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو’ ’جوڈیشل کو‘‘ قرار دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ’’انصاف کا قتل نامنظور‘‘ کے عنوان سے ایک اور پیغام بھی شیئر کیا، اس سے قبل انہوں نے اپنے پیغام میں وفاقی حکومت کو سخت موقف اختیار کرنے اور ڈٹ جانے کا مشورہ دیا تھا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد اِس وقت چودھری پرویز الٰہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاچکے ہیں اور یقیناً ملک کے سب سے بڑے صوبے کے انتظامی معاملات کو سنبھالنے کے لیے وہ فوری طور پر کابینہ سمیت اپنی انتظامی ٹیم بھی تشکیل دینے کا اعلان کردیں گے جس کے بعد صوبے میں کئی ماہ سے جاری سیاسی و انتظامی بے یقینی کا خاتمہ ہوگا مگر متذکرہ کیس کی سماعت سے پہلے ، سماعت کے دوران اور اب بعد میں،

سیاسی قیادت کی طرف سے جس طرح کا ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے یقیناً اُس سے سیاسی بے یقینی کے بادل منڈلاتے رہنے کا خدشہ محسوس ہوتا ہے، ضمنی انتخابات کے نتائج کے نتیجے میں پانسہ پلٹا اور نمبر گیم چودھری پرویز الٰہی کے حق میں ہوئی اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ سبھی کے علم میں ہے مگر آنے والے دنوں میں ایسا کچھ نہ ہو اور سیاسی استحکام نظر آئے عوام کی یہی خواہش ہے، معاشی بحران کے شکار ملک میں سیاسی بحران کی قطعی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن اس کے باوجود سیاسی بحران نہ صرف پیدا ہوا بلکہ بڑھتا گیا اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین و قانون کی روشنی میں فیصلہ سنایا ہے تو ہمیں عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ جمہوری معاشرے میں عدلیہ اور اداروں کا احترام پہلی لازم شرط اور اصول ہوتا ہے، جمہوری معاشرے اور نظام کی بقا کے لیے عدلیہ کے فیصلوں کا احترام ہم سب پر لازم ہے،

اگر ہم عدلیہ کا فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے تو ماسوائے انارکی پھیلنے کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا، ہم سیاسی قیادت سے ملتمس ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد خدارا سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے کوشش کریں تاکہ معاشی عدم استحکام کے لیے بھی توجہ اور وقت میسر ہو اگر ہم ایک دوسرے کے مینڈیٹ کوتسلیم نہ کرنے کی روش پرقائم رہے تو اس کا نتیجہ نظام کی تباہی کی صورت میں ہی نہیں نکلے گا بلکہ معاشی، سیاسی اور سماجی تباہی بھی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!